“آیا صوفیا” پر “اردگان” کا شریعت کے مطابق درست فیصلہ اور لبرلز کا معذرت خواہانہ رویہ

قیصر کے دارالحکومت قسطنطنیہ پر حملہ کی ترغیب مجاہدین اسلام کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں دے دی تھی۔ آپ نے فرمایا: “أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ” میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) کے خلاف غزوہ میں حصہ لے گا ان کی بخشش فرما دی گئی ہے۔

اس شوق میں بڑے بڑے صحابہ نے قسطنطنیہ کے خلاف جہاد میں حصہ لیا جن میں مدینہ طیبہ میں پہلے میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جیسے بوڑھے صحابی بھی شریک جہاد ہوئے جن کا مزار شہر کی فصیل سے چند سو گز کے فاصلے پر آج بھی مرجع خلائق ہے۔ آپ نے اپنے وصال سے پہلے امیر لشکر کو وصیت کی تھی میری تدفین جس قدر فصیل شہر کے قریب ہو سکے کی جائے آج آپ کا مزار استنبول میں قسطنطنیہ کی قدیمی فصیل شہر سے چند سو گز کے فاصلے پر ہے آپ کے مزار کے ساتھ مسجد کے احاطے میں کئی فٹ چوڑا ایک درخت بھی موجود ہے جس کے بارے میں چند سال پہلے جب میری حاضری ہوئی تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ وہ درخت ہے جس کے ساتھ صحابی رسول نے اپنی علالت کے دوران ٹیک لگائی تھی۔ اس نسبت کی وجہ سے اس کو کاٹا نہیں گیا آج تک اس کی حفاظت کی گئی ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ کے بعد بھی کئی ادوار میں اس شہر کو فتح کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ ترکی میں خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھی گئی اور عثمان بن ارطغرل کی نسل سے ساتویں خلیفہ حضرت سلطان محمد ثانی فاتح بن مراد ثانی کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ اکیس سال کی عمر میں 1453ء کو بازنطینی سلطنت کا دارالحکومت قسطنطنیہ فتح کرلیا ۔ فاتح امیر کے بارے میں امام بخاری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا تھا: “لَتُفْتَحَنَّ القُسطَنطِينِيَّةُ، فَلَنِعمَ الأَمِيرُ أَمِيرُها، ولَنِعمَ الجَيشُ ذَلِكَ الجَيشُ” تم ضرور قسطنطنیہ کو فتح کرو گے، وہ فاتح بھی کیا باکمال ہوگا اور وہ فوج بھی کیا باکمال ہوگی۔

اس کی فتح کے ساتھ ہی وہاں پر موجود کلیسا آیا صوفیا کو مسجد میں منتقل کردیا گیا جو کہ 1935ء تک بطور مسجد ہی رہا لیکن بدقسمتی سے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد ترکی کے ایک حکمران کمال اتا ترک نے یورپ کو خوش کرنے کے لئے اس مسجد کو میوزیم میں تبدیل کردیا جو کہ کسی طور پر بھی شرعا جائز نہ تھا۔ اس کے بعد کئی ادوار میں آیا صوفیا کی مسجد کی حیثیت بحال کرنے کی خواہش ترکوں میں جنم لیتی رہی لیکن یورپ کی کاسہ لیسی کی وجہ سے کسی حکمران میں یہ جرأت پیدا نہ ہوئی یہاں تک اب ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان نے یورپی دباؤ کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس کی سابقہ حیثیت کو بحال کر دیا ہے۔ جو ہر طرح سے قابل تحسین اور قابل قدر ہے اور تمام لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں۔

رہا دیسی لبرلز کا یہ اعتراض کہ کلیسا کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے؟ اور حضرت عمر نے تو بیت المقدس کی فتح کے بعد کلیسا کو ختم نہیں کیا تھا تو آج یہ کیسے جائز ہے کہ غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو ختم یا تبدیل کر دیا جائے؟

اس میں اصل حیثیت اس چیز کی ہے کہ غیر مسلموں کے جن علاقوں پر مسلمانوں نے فتح حاصل کی اس کی دوحثیتیں ہیں ایک یہ کہ وہ شرائط (کسی معاہدہ ) کے تحت اپنا شہر مسلمانوں کے حوالے کریں یا مسلمان بزور طاقت، شمشیر کے ذریعے وہ علاقہ لے لیں ۔ اب پہلی صورت میں جو شرائط یا معاہدہ ہوتا ہے اس کی شرعا پابندی کی جاتی تھی۔ اگر اس میں ان کے جان، مال، عبادت گاہوں وغیرہ کو نہ چھیڑنے کی بات ہوتی تو اس پر عمل ہوتا۔ دوسری صورت میں ان کے بارے میں مسلمان فیصلہ کرنے میں آزاد ہوتے تھے چاہتے تو ان پر جزیہ لگا کر ان کو ان شہروں میں رہنے کی اجازت دیتے یا ضرورت سمجھتے تو ان کو ملک بدر کردیا جاتا اور ان کا مال و جائیداد غنیمت میں تقسیم ہوجاتا۔

رسول اللہ ﷺ کے دور میں فتح ہونے والے علاقوں کے چند واقعات کا ذکر کئے دیتے ہیں۔

بدر کی فتح کے بعد بعض قیدیوں کو جنھوں نے توہین رسالت کا جرم کیا تھا انھیں قید کی حالت میں قتل کردیا گیا۔ بعض جو مال دار تھے ان سے رقم لے کر رہا کیا گیا، جن کے پاس دینے کے لئے رقم نہیں تھی ان کو رقم لئے بغیر بھی رہا کیا گیا کچھ کو مسلمان بچوں کو پڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ فتح مکہ اور اس کے بعد پورا حجاز مسلمانوں نے بزور تلوار فتح کیا کچھ قبیلے خود مسلمان ہوگئے تو اس میں ایک بت کدہ بھی نہیں چھوڑا گیا بلکہ کعبہ میں موجود بت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے توڑے۔

اسی طرح اس سے پہلے خیبر و بنو نضیر کے نہ صرف یہودیوں کو ملک بدر کر دیا بلکہ ان کے عبادت خانے بھی ختم کر دیئے گئے۔ بلکہ آپ نے کافروں کے عبادت خانوں کے خاتمے سے بڑھ کر ان کی رہائش بھی حرمین میں منع کردی۔ آج کسی کافر کو مکہ و مدینہ میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

مدینہ طیبہ میں ہی رہائش پذیریہودیوں کے ایک قبیلہ بنو قریظہ کے حوالے سے تو یہ آتا ہے:

اس قبیلہ کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کامعاہدہ تھا۔ غزوہ خندق کے موقع پر مشرکین مکہ اور یہود نے مدینہ کے اندر رہنے والے اس قبیلہ کو بد عہدی پر ابھارا اور مسلمانوں کو قتل کرنے کی ترغیب دی، کیونکہ مسلمان ان کے ساتھ کئے جانے والے معاہدہ کی وجہ سے بے فکرتھے، مگر انھوں نے اپنی فطرت کے عین مطابق دغا کیا اور نہ صرف مسلمانوں پر حملہ کے لیے تیار ہو گئے بلکہ اس قلعے پر حملہ آور بھی ہوئےجس میں مسلمان عورتیں اور بچے تھے۔ وہاں پر رسول اللہﷺ کی نڈرو بہادر پھوپھی حضرت صفیہ رضی اللہ عنھا نے حضرت حسان کو آگاہ کیا کہ یہودی قلعے کے پاس پھر رہے ہیں جو خطرے سے خالی نہیں اور ان میں سے ایک بالکل قریب آگیا ہے لہذا اسے قتل کردو۔آپ رضی اللہ عنہ نے رقیق القلب ہونے کی وجہ سے اسےقتل کرنے سے معذوری ظاہر فرمائی جس پر حضرت صفیہ نے اسےایک خیمے کی چوب مار کر واصل جہنم کردیا اور اس کا سر کاٹ کر باہر یہودیوں میں پھینک دیا، جسے دیکھ کر وہ فرار ہوگئے۔ رسو ل اللہﷺ نے غزوۂ خندق کی فراغت کے ساتھ ہی ان کے محاصرہ کا حکم دیا جب یہودیوں نے دیکھا کہ اب ان کے لیے کوئی راہ فرار نہیں تو انھوں نے درخواست کی کہ حضرت سعد بن معاذ کو بلایا جائے وہ جو بھی فصلہ کریں ہمیں منظور ہوگا۔ ان کا خیال تھا کہ حضرت سعد قبیلہ بنو اوس کے سردار ہیں اور اس قبیلے کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم ہیں لہذا وہ ان کے حق میں فصیلہ دیں گے۔ مگر حضرت سعد نے”تورات” کے حکم کے مطابق فصیلہ کیا کہ لڑنے والوں کو قتل کر دیاجائے۔ عورتیں اور بچے قید کر لئے جائیں اور سامان کو مالِ غنمت قرار دیا جائے۔ چنانچہ اسی فصلے پر عمل ہوا اوراس قبیلہ کا قلع قمع کر دیا گیا۔ اور ان کا کوئی نشان باقی نہ چھوڑا گیا۔

اسی طرح ایران حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں فتح ہوا تو صحابہ کرام نے ہزاروں سال سے آتش کدے میں جلتی آگ جس کی مجوسی پرستش کرتے تھے نہ صرف اسے بجھا دیا بلکہ آتش کدے کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے ساتھ وہاں کی عورتوں اور مردوں کو غلام بھی بنایا گیا ۔اس طرح وہاں کے شاہی خاندان کی خواتین کو بھی قید کر لیا گیا جن میں سے ایک عفت و پاکیزگی کا پیکر حضرت شہر بانوں رضی اللہ عنھا تھیں دور فاروقی میں جب مدینہ طیبہ لائی گئیں تو یہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو عطا کی گئیں آپ نے ان سے نکاح فرمایا اوران سے ہی حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔

محمود غزنوی نے درجن سے ذیادہ مرتبہ ہندوستان پر حملہ کیا اور ہر حملے میں بت خانوں کو مٹاتا رہا۔

کیونکہ اصل مسئلہ یہ ہے جب مسلمان کسی شہر کو بزور شمشیر لیتے ہیں تو اس میں موجود تمام اراضی اور بلڈنگوں گھروں کو مال غنیمت میں لے لینے اور اگر چاہتے تو وہاں کے باشندوں کی بھی غلام بنا لینے کا شرعا اختیار ہوتا تھا۔ اور چاہتے تو جذیہ لے کر آزاد چھوڑ دیتے اور اراضی اور گھر ان کے پاس رہنے دیتے جس کی کئی نظیر ادوار خلافت میں موجود ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کا کلیسا کیوں برقرار رکھا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ بیت المقدس بزور شمشیر فتح نہیں کیا گیا بلکہ جب اس کا محاصرہ ہوا تو عیسائیوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ اگر مسلمانوں کے خلیفہ خود آ جائیں تو ہم یہ شہر لڑے بغیر خود ان کے حوالے کر دیں گے۔ لہذا اس پر بزور شمشیر قبضہ نہیں ہوا اس کو حوالے کیا گیا۔ اگر بزور شمشیر بھی قبضہ ہوتا تو پھر بھی حضرت عمر کے لئے ہر دو صورت جائز تھیں کہ ان کے کلیسا کو ختم کردیتے یا برقرار رکھتے۔ لیکن یہاں آپ نے عیسائیوں اور یہودیوں (یہودیوں کے بارے میں خیبر و مدینہ طیبہ میں جنگ کے بعدملک بدری کا فیصلہ ہوچکا تھا) لیکن یہاں ان کو رہائش رکھنے کی اجازت دی ان کے مال اور گھروں کو ان کے پاس رہنے دیا اور انھیں ان کے عبادت خانے میں عبادت کرنے کی اجازت دی آپ کے حسن سلوک کی وجہ سے ہزاروں لوگ نے اسلام کی آغوش میں پناہ لی اور دولت ایمان سے مالا مال ہوئے ۔ جس طرح رسول اللہﷺ نے فتح مکہ کے بعد قریش کو معاف فرمادیا تو سب ایمان لے آئے۔ لیکن دوسرے طرف آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی آتش پرستوں کے آتش کدے کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔ لہذا ایسے معاملات میں اختیار حاکم کو حاصل ہوتا ہے۔

قسطنطنیہ بھی حضرت سلطان محمد فاتح نے کئی ہفتوں کے محاصرے اور مسلسل قربانیاں دے کر بزور شمشیر فتح کیا اور وہاں کے محلات اور سرکاری بلڈنگوں اور اراضی کو مال غنیمت بنالیا جس میں آیا صوفیا بھی تھا، اس کو آپ نے نماز کے لئے اختیار کیا اور مسجد میں تبدیل کردیا ۔ اس کے علاوہ عیسائیوں کو ان کے گھر بخش دیئے گئے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا گیا جس کی وجہ سے وہاں کی اکثریت بتدریج مسلمان ہوگئی۔

یہاں شہر کی فتح کے وقت آپ کے پاس اختیار تھا کہ آیا صوفیا کو اس کی سابقہ حیثیت میں بحال رکھتے یا اس کا خاتمہ کردیا جاتا یا اس بلڈنگ کو کسی بھی تصرف میں لے آتے۔ لیکن جب اس بلڈنگ کو مسجد بنا لیا گیا تو اب مسلمانوں کے لئے قیامت تک وہ مسجد ہی رہے گئی چاہے وہاں مسلمانوں کی آبادی باقی رہے یا نہ رہے۔

اسی طرح میں یورپ میں خود کئی ایسی مساجد میں گیا ہوں جو پہلے کلیسا تھے مگر عیسائیوں نے مسلمانوں کو مسجد کے لئے بیچ دیئے اب وہ باقاعدہ جامع مسجد ہیں۔

لہذا رجب طیب اردگان کا آیا صوفیا کے بارے میں کیا گیا فیصلہ شرعی طور پر بالکل درست ہے۔ اس سے پہلے اس کو جو میوزیم میں تبدیل کیا گیا تھا وہ کسی طور پر بھی شرعا درست نہیں تھا۔

لبرلز اس کا کیا جواب دیں گے اگر کل ہندو اور غیر مسلم یہ مطالبہ کر دیں کہ پاکستان اور جتنے بھی مسلمان ممالک ہیں اصل میں یہ کافروں کے ملک تھے یہاں کی زمینیں کافروں کی تھیں مسلمانوں نے بزور شمشیر ان سے حاصل کی ہیں لہذا اب تم جو ان کے مالک بنے پھرتے ہو انھیں چھوڑ دو۔ تو کیا یہ اپنے گھر اور جائیداد ان کے حوالے کرنے پر تیار ہو جائیں گے؟