تیرہویں صدی کے ایک عظیم مجاہد پہ چلنے والی ارتغرل غازی سیریل میں جہاد جیسے عظیم فریضے سے آشکار کیا گیا ہے وہاں پہ اس سیریل میں اہل اسلام کے قدیم عقائد کی ترجمانی بھی کی گئی ہے

اس سیریل کا آغاز ہی حضور سیدنا مولا علی پاک کرم اللہ وجہہ الکریم کے ذکر مبارک سے کیا جاتا ہے یہ بابرکت ذکر تلوار بناتے وقت ہتھوڑے کی

ضرب کیساتھ خوارج پہ کاری ضرب ہے

پوری سیریل میں جہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اسم گرامی آتا ہے تو سامعین اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے گردن کو جھکا لیتے ہیں انکی روایات میں یہ حد درجہ تعظیم ہے جیسے ہمارے ہیں اسم گرامی آنے پہ انگوٹھے لبوں سے لگا کر آنکھوں پہ لگائے جاتے ہیں

ارتغرل غازی کی ملاقات حلب کے سفر کے دوران شیخ الاکبر محی الدین ابن العربی سے ہو جاتی ہے جس سے ایک صوفئ وقت کا کرادر شروع ہوتا ہے

جیسے ہی ارتغرل حلب کے بازار میں پنچتا ہے وہاں شیخ الاکبر محی الدین ابن العربی کے ایک مرید سے اسکی دکان پہ ملتا ہے وہ مرید محبت بھرے انداز میں قصیدۂ غوثیہ کا وظیفہ کررہا ہوتا ہے اور یا شیخ عبد القادر جیلانی کی صدا سنائی دیتی ہے جس سے پتہ چلتا ہے یہ کوئی برصغیر کا نظریہ نہیں بلکہ عالم اسلام اسکو سعادت سمجھتے ہیں اور سیدی غوث اعظم کے ذکر مبارک سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے جس محبت سے نام لیا جا رہے نام لیوا انکے نظریات کے پیرو ہیں جو کہ اہلسنت کے نظریات ہیں

پھر حلب میں شیخ الاکبر محی الدین ابن العربی کی خانقاہ شریف پہ علمی حلقے کیساتھ ساتھ ذکر الہی کا روحانی حلقہ بھی لگتا ہے جس میں سلسہ عالیہ نقشبندیہ کے طریق پہ وجدانہ کیفیت سے ذکر ہوتا ہے عموما ہمارے کچھ یار لوگ اس کا مزاق اڑاتے ہیں آرام سے بدعت کہہ دیتے ہیں

اور پھر کشف کے ذریعے اپنی خانقاہ میں تشریف فرما شیخ الاکبر ارتغل غازی کی مدد بھی کرتے ہیں

اور زیارت قبور اور فاتحہ و دعا کا بھی اپنا انداز ہے

نماز پنجگانہ اور نماز جنازہ بھی حنفیوں کی بھرپور تائید کرتیں ہیں

دوسری طرف اس سیریل میں صحابہ اکرام کا بھی جو ادب و احترام سکھایا گیا وہ بھی قابل رشک ہے

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق اعظم کا بار بار ذکر آیا

بلکہ ایک دفعہ جب ارتغرل غازی کے غائب ہونے پہ قبیلے والے مایوس ہو جاتے ہیں اور ہمت ہار دیتے ہیں تو ارتغرل غازی واپسی پہ آکر پورے قبیلے کو ڈانٹتا ہیں اور وہی خطبہ دیتا ہے جو حضور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ اکرام کے سامنے سرکار مدینہ کے وصال مبارک پہ دیا تھا اور حضرت ابوبکر کا ذکر اس اور ارتغرل غازی کا انداز محبت سینے میں ٹھنڈ ڈال دیتا ہے

بلکہ کورلش عثمان میں تو ارتغرل غازی کا مشہور سپاہی بامسی بے جب ایک عیسائی کمانڈر کو جب مسلمان کرتا ہے تو اسکا نام صدیق رکھتا ہے اور تلقین کرتا ہے کہ تیرا نام صدیق اس لیے رکھا کہ تجھے صدیق اکبر کی صداقت کا فیضان ملے اور تو ایمان پہ قائم رہے

اور پھر واضح رہے کہ ارتغرل غازی کے لخت جگر کا نام بھی عثمان رکھا گیا تھا جن کے نام پہ یہ سلطنت قائم رہی اور سوا چھے سو سال تک تین براعظموں پہ یہ قائم رہی

بلکہ یہ ایک سنی اسٹیٹ کے طور پہ اسلام کی نمائندگی تھی

یہ باتیں واضح ہیں کہ تیرہویں صدی کے مسلمانوں کا بھی عقیدہ صرف عقیدۂ اہلسنت تھا جو رفض و خروج سے پاک تھا

وہ اہلبیت اطہار کے محب بھی تھے اور صحابہ اکرام کے بھی مؤدب تھے

اور آج بھی دو روز قبل وہ مسجد جسکو موزیم بنایا گیا تھا دوبارہ مسجد کا درجہ دے کر آباد کیا گیا اس میں انتہائی خوبصورت خط سے چاریاروں کے نام آویزاں ہیں آپ تصاویر میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں کتنے پیارے لگتے ہیں یہ پیارے نام

اللہ کریم ہمیں بھی اسلام اور اسلام کے ان محسنین سے سچی محبت عطا فرمائے

امین اللھم امین

دعاگو ! سید عقیل بن اسد قادری