أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَللّٰهُ يَـبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے ‘ پھر اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا ‘ پھر تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جائو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ پہلی بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے ‘ پھر اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا ‘ پھر تم (سب) اسی کی طرف لوٹائے جائو گے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرمین مایوس ہوجائیں گے اور ان کے مزعوم شرکاء میں سے کوئی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا اور وہ (خود) اپنے شرکاء کے منکر ہوجائیں گے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن لوگ منتشر ہوجائیں گے (الروم : ١٤۔ ١١)

قیامت کے دن مشرکین کے احوال اور ابلیس کے صیغہ کی تحقیق 

عکرمہ نے بیان کیا کہ کفار اس پر تعجب کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا تو یہ آیت نازل ہوئی جس میں بتایا ہے کہ کسی چیز کو دوبارہ پیدا کرنا اس کو پہلی بار پیدا کرنے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٧٤٨٤)

دنیا میں پہلی بار اللہ تعالیٰ انسان کو نطفہ سے پیدا فرماتا ہے اور پھر آخرت میں اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا ‘ اس کے بعد سب کو مخاطب کر کے فرمایا پھر حساب اور جزاء اور سزاء کے لیے تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے ‘ اس آیت میں حصر ہے یعنی تم کو کسی اور کی طرف نہیں پیش کیا جائے گا تم سب کو صرف اسی ایک احکم الحاکمین کی بار گاہ میں پیش کیا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 11