أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَاۤ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّى‌ؕ وَ اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمۡ لَـكٰفِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا وہ اپنے نفسوں میں (اس پر) غور نہیں کرتے کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمینوں کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو صرف حق کے ساتھ اور مقرر مدت تک کے لیے پیدا کیا ہے ‘ اور بیشک اکثر لوگ اپنے رب سے ملاقات کے ضرور منکر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا وہ اپنے نفسوں میں (اس پر) غور نہیں کرتے کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمینوں کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو صرف حق کے ساتھ ہی مقرر مدت تک کے لیے پیدا کیا ہے ‘ اور بیشک اکثر لوگ اپنے رب سے ملاقات کے ضرور منکر ہیں کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا پس وہ اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام دیکھ لیتے جو ان سے زیادہ قوت والے تھے ‘ انہوں نے زمین میں ہل چلایا اور اس کو آباد کیا اور انہوں نے زمین کو ان سے زیادہ آباد کیا تھا ‘ ان کے پاس رسول واضح دلائل لے کر آئے تھے ‘ تو اللہ کی یہشان نہ تھی کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے پھر برے کام کرنے والوں کا برا انجام ہوا ‘ کیونکہ وہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے (الروم : ١٠۔ ٨)

انسان کے اپنے نفس اور خارجی کائنات سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر دلائل 

اللہ تعالیٰ نے الروم : ٨ میں توحید اور حشر پر دلیل قائم کی ہے ‘ اور یہ دلیل دواعتبار سے قائم کی ہے ایک انسان کے اپنے نفس کے اعتبار سے اور دوسری دلیل خارج کے اعتبار سے قائم فرمائی ہے ‘ انسان کے اپنے نفس میں اور اس کے جسم کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے وجود ‘ اس کی توحید اور حشر پر دلالت کرتے ہیں۔ انسان اپنے جسم کے اندر غور کرے ‘ اس کے جسم میں معدہ ہے ‘ معدہ کے اوپر ایک منفذ ہے اور معدہ کے نیچے بھی ایک منفذ ہے ‘ اوپر والے منفذ سے غذا معدہ کے اندر داخل ہوتی ہے ‘ اور اس وقت نیچے والے منفذ کا منہ بند ہوجاتا ہے ‘ پھر جب غذا معدہ میں حاصل ہوجاتی ہے تو معدہ اس میں ہضم کا عمل کرتا ہے اور غذا کو پیستا ہے ‘ اور اس کا جو ہر مصفی جگر کی طرف روانہ کردیتا ہے اور جو تلچھٹ اور فضلہ رہ جاتا ہے وہ نچلے منفذ سے بڑی آنت کی طرف روانہ کردیتا ہے ‘ پھر جگر میں اس کا دوسرا ہضم ہوتا ہے ‘ جگر اس غذا کے جوہر مصفی کو خون کی شکل میں منتقل کرتا ہے اور اس کے تلچھٹ کو گردوں کی طرف روانہ کرتا ہے جس میں کچھ خون بھی ہوتا ہے اور خون کو بڑی رگوں کی طرف روانہ کرتا ہے ‘ پھر گردے عمل کرتے ہیں اور خون کو باریک رگوں کی طرف بھیجتے ہیں اور خالص پانی کو مثانہ کی طرف روانہ کردیتے ہیں ‘ معدہ کے منہ پر ایک غدود بنا ہوا ہے جس کو لبلبہ کہتے ہیں اس سے ایک سیال مادہ خارج ہوتا رہتا ہے جس کو انسو لین کہتے ہیں خون میں جو ضرورت سے زیادہ شکر ہوتی ہے وہ اس سیال مادہ سے جل جاتی ہے ‘ اگر لبلبہ کمزور ہو تو یہ سیال مادہ کم مقدار میں خارج ہوتا ہے اور خون میں شکر کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے اور اس سے ذیابیطس کا مرض ہوجاتا ہے۔

تمام انسانوں کے جسموں میں یہ واحد نظام ہے جو غذا کو خون اور گلوکوز کی شکل میں تبدیل کرتا ہے ‘ اور اسی خون اور گلوکوز سے انسان کی اور اس کے تمام اعضاء کی حسب ضرورت نشو و نما ہوتی رہتی ہے اور اسی خون سے اس میں حرارت قائم رہتی ہے اور اس میں حرکت کرنے کی توانائی برقرار رہتی ہے ‘ اور تمام انسانوں میں اس نظام کا واحد ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا خالق بھی واحد ہے ‘ کیونکہ اگر انسان کی بقاء اور اس کی نشو ونما کے خالق متعدد ہوتے تو وہ اس کی بقاء اور نشو و نما کے اپنے اپنے حساب سے اسباب بناتے ‘ لیکن جب انسان اپنے اندر دیکھتا ہے تو اس کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک اس کی بقاء اور اس کی نشو و نما کا ایک ہی نظام ہے جس کے ذریعہ اس اس کی کھائی ہوئی غذا ہضم کے مراحل طے کر کے خون اور گلوکوز میں تبدیل ہوتی ہے اور تاحیات اس نظام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی یہی ایک نظام اس کو زندہ اور متحرک رکھتا ہے تو اس سے واضح ہوا کہ اس نظام کو بنانے والا بھی ایک ہے ‘ اس کے متعدد خالق نہیں ہیں سو جب انسان اپنے اندر غور فکر کرے تو وہ نظام واحد کے تحت جی رہا ہے اسی طرح جب وہ اپنے نفس سے خارج اور باہر دیکھے تو خارج اور باہر کی دنیا میں نظام واحد کار فرما ہے جس طح اس کے اندر غذا کو خون بنانے کا نظام واحد ہے اسی طرح اس کے باہر اس غذا کے حصول کا نظام بھی واحد ہے ‘ مٹی میں بیج ڈالا جاتا ہے پھر پانی ‘ ہوا ‘ سورج کی شعاعیں اور چاند کی کرنیں اس بیج کو غذا کی شکل میں ڈھالنے کے لیے اپنا اپنا رول ادا کرتی ہیں۔ اور اس بکھری ہوئی اور پھیلی ہوئی عظیم کائنات میں ایک نظام جاری ہے اور اس نظام کی وحدت یہ بتاتی ہے کہ اس کا خالق بھی واحد ہے سو انسان اپنے اندر دیکھے تو اللہ تعالیٰ کی توحید نظر آتی ہے اور اپنے باہر دیکھے تو اس کی توحید دکھائی دیتی ہے اسی لیے فرمایا ہے :

عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں اس کائنات میں اور ان کے اپنے نفسوں میں دکھائیں گے ‘ حتیٰ کہ ان پر منکشف ہوجائے گا کہ اللہ ہی برحق ہے۔ (حم السجدہ : ٥٣)

اور زیر تفسیر آیت میں فرمایا ہے : کیا وہ اپنے نفسوں میں اس پر غور نہیں کرتے کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمینوں کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو صرف حق کے ساتھ ہی مقرر مدت کے لیے قیدا کیا ہے۔

(الروم : ٨) الروم : ٨ میں پہلے انسان کے اپنے نفسوں کے دلائل کا ذکر کیا ہے اور پھر کائنات کے دلائل کا ذکر کیا ہے اور حم السجدہ : ٥٣ میں پہلے کائنات کے دلائل کا ذکر کیا ہے اور پھر انسان کے نفسوں کے دلائل کا ذکر کیا ہے ‘ کیونکہ انسان کا اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنا اور اس کو جاننا کائنات کی معرفت حاصل کرنے اور اس کو جاننے سے زیادہ قریب ہے اور سورة الروم ‘ سورة حم السجدہ پر ترتیب مصحف میں مقدم ہے ‘ اس لیے قریب کی دلیل کو پہلے ذکر کیا اور بعید کی دلیل کو بعد میں ذکر کیا۔

قیامت اور حشر و نشر پر دلائل 

انسان اپنے جیسے اجسام کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنی عمر طبعی پوری کر کے مرجاتے ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری کائنات بھی ایک دن فنا ہوجائے گی ‘ پھر اگر انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان سے ان کے اعمال کا محاسبہ نہ کیا جائے اور ان کے اعمال کے اعتبار سے ان کو جزاء اور سزا نہ دی جائے تو پھر لازم آئے گا کہ انسانوں کو پیدا کرنا محض عبث اور بےفائدہ تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کرنے کے بعد ان کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ نیک عمل کریں یا نہ کریں اور برے کاموں کو ترک کریں یا نہ کریں ‘ پھر اگر وہ انسانوں کے مرنے کے بعد ان سے یہ حساب نہ لے کہ انہوں نے نیک کام کیا ہے اور برے کام کو ترک کیا ہے یا نہیں تو پھر ان کو آزادی عمل کے اختیار دینے کا اور رسولوں کو نیک کاموں پر ثواب کی بشارت دینے اور برے کاموں پر عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور یہ سارا سلسلہ عبث اور رائگاں ہوگا ‘ نیز انسانوں کو نیک عمل کرنے کی ترغیب اور برے کاموں کو ترک کرنے کی تحریک اسی وقت ہوگی جب انہیں نیک کاموں پر کسی اجر اور ثواب کی توقع ہو اور برے کاموں پر کسی گرفت اور سزا کا خطرہ ہو اور یہ اسی وقت ہوگا جب انسان کا قیامت اور حشر و نشر اور جزاء اور سزا پر ایمان ہو۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دین میں بعض انسان دوسرے انسانوں پر ساری عمر ظلم کرتے رہتے ہیں اور ان کو ان کے ظلم پر کوئی سزا نہیں ملتی اور بعض انسان ساری عمر ظلم سہتے رہتے ہیں اور ان کو ان کی مظلومیت پر کوئی جز نہیں ملتی ‘ پس اگر اس جہان کے بعد اور کوئی جہان نہ ہو جہاں ظالم کو اس کے ظلم کی سزا ملے اور مظلوم کو اس کی مظلومیت کی جز ملے اور ظالم بغیر سزا کے اور مظلوم بغیر جزاء کے رہ جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے ‘ اس لیے ضروری ہوا کہ اس جہان کے بعد کوئی اور جہان بھی ہو جہاں ظالم کو سزا اور مظلوم کو جز ملے اور یہ عالم آخرت ‘ حشر ونشر اور جزاء اور سزاء کی دلیل ہے۔

اور وقوع قیامت پر دلیل یہ ہے کہ انسان کی نیکی یا بدی کا سلسلہ اس کی موت پر ختم نہیں ہوجاتا ‘ انسان نے نیکی کی مظاہر اور مشاعر جو بنادیئے ہیں جب تک وہ باقی رہیں گے اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کے لکھے جانے کا سلسلہ جاری رہے گا مثلاً ایک مسلمان نے کوئی مسجد بنادی ہے ‘ کوئی دیتی لائبریری یا دینی مدرسہ بنادیا ہے ‘ کوئی ہسپتال بنادیا ہے تو جب تک ان میں نیکی کے کام ہوتے رہیں گے اس کے اعمال نامہ میں نیکیوں کو لکھا جاتا رہے گا ‘ اسی طرح اگر کسی انسان نے کوئی بت خانہ بنادیا ہے ‘ یا فحاشی کا کوئی اڈہ بنادیا ہے تو جب تک ان میں گناہ ہوتے رہیں گے اس کے نامہ اعمال میں گناہوں کو لکھا جاتا رہے گا ‘ اور جب تک اس کا اعمال نامہ مکمل نہیں ہوجاتا اس کو جزا اور سزا نہیں ملے گی اور جب تک اس جہان میں کسی کی نیکی یا برائی کا ایک اثر بھی باقی ہوگا اس کا اعمال نامہ مکمل نہیں ہوگا ‘ اس لیے تمام انسانوں کے اعمال ناموں کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تمام جہان کو ختم کردیا جائے اور اس تمام جہان کو ختم کردینا ہی قیامت ہے ‘ اس لیے ہر مظلوم کی داد رسی اور ہر ظالم کو سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ اس جہان میں قیامت برپا کی جائے اور اس جہان کے بعد دوسرا جہان قائم کیا جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 8