أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِيۡنَ اَسَآءُوا السُّوۡٓآٰى اَنۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَكَانُوۡا بِهَا يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۞

 ترجمہ:

پھر برے کام کرنے والوں کا برا انجام ہوا کیونکہ وہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے

اس کے بعد فرمایا : پھر برے کام کرنے والوں کا برا انجام ہوا کیونکہ وہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے (الروم : ١٠)

اس آیت میں السوای فرمایا ہے یہ صیغہ فعلی کے وزن پر ہے اور اسا کی تانیث ہے یہ صفت مشبہ کا صیغہ ہے اسم تفضیل نہیں ہے کیونکہ اس میں عیب کا معنی ہے اور جو لفظ افعل کے وزن پر ہو اور اس میں رنگ اور عیب کا معنی ہو وہ صفت مشبہ ہوتا ہے۔ اس کا معنی برا اور قبیح ہے جس طرح حسنیٰ ‘ احسن کی تانیث ہے یہ معنی اس کی ضد ہے ‘ السوء کا معنی ہے بدکار آدمی۔ اس آیت میں السوای کا معنی ہے شرک کرنا ‘ کیونکہ وہ سب سے برا کام ہے ‘ نیز اس آیت میں فرمایا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی ‘ اللہ کی آیات سے مراد قرآن مجید ہے ‘ یا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل اور آپ کے معجزات ہیں یا خود آپ کی ذات مقدسہ مراد ہے ‘ کفار مکہ آپ کا مذاق اڑاتے تھے ‘ آپ کا انکار کرتے تھے اور شرک کرتے تھے اور یہ سب سے برے کام ہیں اس وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوگئے۔

پہلی آیت میں یہ بتایا کہ سابقہ امتیں اپنے نبیوں کا انکار کر کے کفر کی مرتکب ہوئیں اور عذاب کی مستحق ہوئیں اور اس آیت میں بتایا ہے کہ کفار مکہ بھی ان کی طرح سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کر کے کفر کے مرتکب ہوئے اور دوزخ کے عذاب کے مستحق ہوئے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 10