⚔️ سلطان محمد فاتح کے مُرشد گرامی ⚔️

حضرت شیخ آق شمس الدین رحمتہ اللہ علیہ بہت بڑے متقی عالم تھے ، آپ کی ولادت 792ھ کو دمشق میں ہوئی ، آپ نسباً صدیقی تھے ، سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا ، اور پھر دیگر علوم اسلامیہ کی تکمیل کیلئے اماسیا ، حلب اور پھر انقرہ تشریف لے کر گئے ، اور اہل علم سے اکتساب فیض کیا ، آپ ایک عالم ربانی اور صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے وقت کے بہت بڑے طبیب بھی تھے ، جڑی بوٹیوں سے مختلف امراض کے علاج میں ان کی مہارت اور شہرت حد کمال کو پہنچ چکی تھی ؛

“شوکانی” نے آپ کے متعلق لکھا ہے: کہ وہ دلوں کے طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم کے بھی طبیب تھے ، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ درخت اور بوٹیاں ان سے باتیں کرتی ہیں ، اور کہتی ہیں: میں فلاں مرض کی دوا ہوں (پھر فتح قسطنطنیہ کے موقع پر تو) ان کی برکت اور فضیلت بالکل ظاہر ہوگئی۔(البدر الطالع166/2)

آپ عظیم سلطان محمد فاتح کے استاد اور مرشد گرامی ہیں ، سلطان کو اپنے پیرومرشد سے بہت محبت تھی ، شیخ شمس الدین نے نہ صرف سلطان محمد فاتح کو اس دور کے بنیادی علوم پڑھاے ، بلکہ دیگر علماء کو یہ ذمہ داری بھی سونپی کہ وہ سلطان کو سیاسی امور کی انجام دہی اور حکومت کے اصول و قواعد سکھائیں تاکہ وہ بہترین حکمران ثابت ہوسکے ، شیخ نے سلطان کو بچپن ہی میں یہ بات یاد کروادی تھی ،

کہ حدیث نبوی “قسطنطنیہ ضرور فتح ہوگا اور اس کا امیر اور لشکر بہترین لشکر ہوگا”

کا مصداق تم ہی ہو ،

جب سلطان نے جوان ہوکر حکومت سنبھالی تو شیخ نے حکم دیا کہ قسطنطنیہ کیلئے فوراً لشکر تیار کرو تاکہ نبی پاکﷺ کی حدیث تمہارے حق میں پوری ہو ، سلطان نے اپنے مرشد کے حکم پر قسطنطنیہ پر چڑھائی کی اور اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ، 54 دن تک صلیبیوں کے ساتھ یہاں خون ریز جنگ جاری رہی ، یہاں تک کہ سلطان محمد نے قسطنطنیہ کو فتح کرلیا ۔۔۔۔اس جنگ کے دوران شیخ شمس الدین بھی میدان جنگ میں ساتھ رہے ، اور دن رات اللہ کی بارگاہ میں اس فتح کیلئے دعا گو رہے یہاں تک کہ جب قسطنطنیہ فتح ہوا تو سلطان محمد نے کہا:

“کہ مجھے اتنی خوشی فتح کی نہیں ہوئی جتنی اس بات پر ہے ، کہ میرے دور میں شیخ شمس الدین جیسی بابرکت ہستیاں موجود ہیں “

فتح کے بعد شیخ شمس الدین نے اپنے نور ولایت کے ذریعے صحابی رسول حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قبر پاک کہ نشاندہی فرمائی ، کہ آپ کی قبر مبارک شہر کی فصیل کے قریب فلاں جگہ پر موجود ہے ۔

اور یہی وہ شیخ شمس الدین ہیں ، جنہوں نے عیسائیوں کے سابقہ گرجا گھر “”مسجد آیا صوفیا” میں سب سے پہلے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا ۔

(ماخوذ الدولتہ العثمانیہ از ڈاکٹر محمد الصلابی)

آپ کا وصال 863ھ میں آپ کے اصل وطن “کونیوک” میں ہوا ، اللہ تعالیٰ کی شیخ آق شمس الدین علیہ الرحمہ پر رحمت ہو ، اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو آمین ۔

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

11/7/2020ء