سیدہ فاطمہ کی اجتہادی خطاء………….؟؟

علامہ جلالی بےادب یا مجتہد…………..؟؟

ضرورتِ اجتہاد، دلیل اجتہاد………………؟؟

اجتہادی غلطی میں بھی اجر……………..؟؟

آدابِ اختلاف،اختلاف صحابہ،تفردات…..؟؟

معصوم،محفوظ عن الخطاء کا مطلب…..؟؟

.

اجتہاد کرنے کی دلیل:

الحدیث:

حدثنا حفص بن عمر، عن شعبة، عن ابي عون، عن الحارث بن عمرو اخي المغيرة بن شعبة، عن اناس من اهل حمص، من اصحاب معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، لما اراد ان يبعث معاذا إلى اليمن، قال:” كيف تقضي إذا عرض لك قضاء؟، قال: اقضي بكتاب الله، قال: فإن لم تجد في كتاب الله؟، قال: فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فإن لم تجد في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا في كتاب الله؟، قال: اجتهد رايي ولا آلو، فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم صدره، وقال: الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضي رسول الله”.

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟“ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے(ابوداؤد حدیث3592)

یہ حدیث مبارک مشعل راہ ہے کہ قران پھر حدیث و سنت پھر قیاس و استدلال….اس حدیث مبارک سے واضح ہوتا ہے کہ قران حدیث و سنت سے اجتہاد و استدلال کرنا برحق و ماہر علماء کا منصب بلکہ ذمہ داری ہے….استدلال و قیاس کرنے میں سب متفق ہوں یہ ضروری نہیً لیھذا غیرمنصوص ظنیات و فروعیات میں اختلاف ہونا فطری عمل ہے.

اجتہاد میں اختلاف ہوجانے اور ایک دوسرے کی مذمت تفضلیل تفسیق نہ کرنے کی دلیل:

الحدیث:

قال النبي صلى الله عليه وسلم لنا لما رجع من الأحزاب: «لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة» فأدرك بعضهم العصر في الطريق، فقال بعضهم: لا نصلي حتى نأتيها، وقال بعضهم: بل نصلي، لم يرد منا ذلك، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم، فلم يعنف واحدا منهم

ترجمہ:

غزوہ احزاب سے واپسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم(یعنی صحابہ کرام) سے فرمایا کہ:

تم میں سے ہر ایک بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر کی نماز پڑھے” (صحابہ کرام نے جلد پہنچنے کی بھر پور کوشش کی مگر)راستے میں عصر کا وقت ختم ہونے کو آیا تو کچھ صحابہ کرام نے فرمایا کہ ہم عصر نماز بنی قریظہ پہنچ کر ہی پڑہیں گے اور کچھ صحابہ کرام نے فرمایا کہ نبی پاک کا یہ ارادہ نا تھا(کہ نماز قضا ہو اس لیے) ہم عصر پڑھ لیں گے

(طبرانی ابن حبان وغیرہ کتب میں روایت ہے جس میں ہے کہ کچھ صحابہ نے راستے میں ہی عصر نماز پڑھ لی اور کچھ نے فرمایا کہ ہم رسول کریم کی تابعداری اور انکے مقصد میں ہی ہیں لیھذا قضا کرنے کا گناہ نہین ہوگا اس لیے انہوں نے بنی قریظہ پہنچ کر ہی عصر نماز پڑھی)

پس یہ معاملہ رسول کریم کے پاس پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک پر بھی ملامت نا فرمائی

(بخاری حدیث946).

دیکھا آپ نے صحابہ کرام علیھم الرضوان کا قیاس و استدلال اور اس میں اختلاف… صحابہ کرام نے اس برحق اختلاف پر ایک دوسرے کو کافر منافق فاسق گمراہ گستاخ نہیں کہا اور نبی پاک نے بھی کسی کی ملامت نا فرمائی…ایسا اختلاف قابل برداشت ہے بلکہ روایتوں مین ایسے فروعی برحق پردلیل باادب اختلاف کو رحمت فرمایا گیا ہے..ایسے اختلاف میں غلطی پر مجتہد کی مذمت نہیں بلکہ ایک اجر ہے

الحدیث:

فاجتهد ، ثم اصاب فله اجران ، وإذا حكم فاجتهد ، ثم اخطا فله اجر

مجتہد اجتہاد کرے اور درستگی کو پالے تو دو اجر اور اگر اجتہادی خطاء کرے تو اسے ایک اجر ملے گا(بخاری حدیث7352).

اختلاف ایک فطرتی چیز ہے…. حل کرنے کی بھر پور کوشش اور مقدور بھر علم و توجہ اور اہلِ علم سے بحث و دلائل کے بعد اسلامی حدود و آداب میں رہتے ہوئے پردلیل اختلاف رحمت ہے

مگر

آپسی تنازع جھگڑا ضد انانیت تکبر لالچ ایجنٹی منافقت والا اختلاف رحمت نہیں، ہرگز نہیں…اختلاف بالکل ختم نہیں ہو پاتا مگر کم سے کم ضرور کیا جا سکتا ہے،اس لیے اختلاف میں ضد ،انانیت، توہین و مذمت نہیں ہونی چاہیے بلکہ صبر اور وسعتِ ظرفی ہونی چاہیے… اور یہ عزم و ارادہ بھی ہونا چاہیے کہ اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی، ختم نہیں ہو پایا تو اختلاف کو کم سے کم ضرور کیا جائے گا..اختلاف کو جھگڑے سے بچایا جائے گا...

اختلاف کی بنیاد حسد و ضد ہر گز نہیں ہونی چاہیے…

اختلاف اپنی انا کی خاطر نہ ہو

اختلاف لسانیت قومیت کی خاطر نہ ہو

اختلاف ذاتی مفاد لالچ کی خاطر نہ ہو

اختلاف شہرت واہ واہ کی خاطر نہ ہو

اختلاف فرقہ پارٹی کی خاطر کی نہ ہو

اختلاف کسی کی ایجنٹی کی خاطر نہ ہو

اختلاف منافقت، دھوکے بازی کی خاطر نہ ہو

اختلاف ہو تو دلیل و بھلائی کی بنیاد پر ہو، بہتر سے بہترین کی طرف ہو، علم و حکمت سے مزین ہو،.

ہر شخص کو تمام علم ہو،ہر طرف توجہ ہو، ہر میدان میں ماہر ہو یہ عادتا ممکن نہیں، شاید اسی لیے مختلف میدانوں کے ماہر حضرات کی شوری ہونا بہت ضروری ہے، اسی لیے اپنے آپ کو عقل کل نہیں سمجھنا چاہیے….بس میں ہی ہوں نہیں سوچنا چاہیے…ترقی در ترقی کرنے کی سوچ ہو، ایک دوسرے کو علم، شعور، ترقی دینے کی سوچ ہو….!!.

کسی کا اختلاف حد درجے کا ہو، ادب و آداب کے ساتھ ہو، دلائل و شواہد پر مبنی ہو تو اس سے دل چھوٹا نہیں کرنا چاہیے…ایسے اختلاف والے کی تنقیص و مذمت نہیں کرنی چاہیے،

بلکہ توجیہ تنبیہ جواب تاویل ترجیح کی کوشش کرنی چاہیے جب یہ ممکن نا ہو تو خطاء اجتہادی پر محمول کرنا چاہیے…..ہاں تکبر عصبیت مفاد ضد انانیت ایجنٹی منافقت وغیرہ کے دلائل و شواہد ملیں تو ایسے اختلاف والے کی تردید و مذمت بھی برحق و لازم ہے.

اسی طرح ہر ایک کو اختلاف کی بھی اجازت نہیں… اختلاف کے لیے اہل استنباط مین سے ہونا ضروری ہے… کافی علم ہونا ضروری ہے… وسعت ظرفی اور تطبیق و توفیق توجیہ تاویل ترجیح وغیرہ کی عادت ضروری ہے، جب ہر ایرے غیرے کم علم کو اختلاف کی اجازت نا ہوگی تو اختلافی فتنہ فسادات خود بخود ختم ہوتے جاءیں گے.

امام احمد رضا فرماتے ہیں:

اطلاق و عموم سے استدلال نہ کوئی قیاس ہے نہ مجتھد سے خاص(اطلاق و عموم سےاستدلال کوئی بھی ماہر عالم کرسکتا ہے اس کے مجتہد ہونا ضروری نہیں)..(فتاویٰ رضویہ جلد7 صفحہ496).

ہاں اطلاق و عموم میں کیا کیا آئے گا اور کون اور کیا کس وجہ سے اطلاق و عموم نہیں آئے گا..؟ یہ سمجھ بوجھ بھی ضروری ہے… جس کے لیے

آیات احادیث اثارِ صحابہ و تابعین و آئمہ اسلام…اور

وسیع گہرا مطالعہ…عقائد فقہ لغت علم المعانی والبیان

اور اس قسم کے دیگر علوم پر نظر ضروی ہے… ایسے علماء محققین کو اطلاق و عموم سے استدلال جائز و ثواب..

مسلہ باغ فدک کےضمن میں علا مہ مفت ی جلا لی صاحب نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کو خطا پر قرار دیا اور پھر وضاحت کی کہ خطا سے مراد خطائے اجتہادی ہے

اس کی جواب میں علمی دلائل لا کر مفتی چمن زمان صاحب نے اس کو توہین و گستاخی قرار نہیں دیا لیکن نامناسب کہہ کر رجوع کا مطالبہ کیا۔۔۔۔یہاں تک تو بات ٹھیک تھی

لیکن

پیر جامی نے علا مہ جلا لی صاحب پر توہین ایذاء رسول اور اشارتا بے غیرتی کا فتوی لگا دیا۔۔۔۔اس کے بعد یا اس سے تھوڑا پہلے مفتی چمن زمان صاحب کا ایک اور مقالہ نظر سے گزرا جس میں انہوں نے علا مہ جلا لی صاحب سے اُن الفاظوں کو توہین و بے ادبی اور گناہ قرار دے کر براءت کا اعلان کیا

سننے میں آیا کہ جلا لی صاحب کے استاد محترم اور چند دیگر علما نے بھی رجوع کا مطالبہ کیا اور رجوع نہ کرنے پر علا مہ جلا لی سے براءت کا اعلان کیا البتہ انھوں نے ان الفاظ کو توہین و بے ادبی گناہ قرار دیا یا نہیں میرے علم میں نہیں۔۔۔۔۔

میں نے پہلے بھی لکھا تھا اب مزید وضاحت کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ ظنیات میں اجتہاد کرتے ہوئے ہر دور کے علماء کے تفردات رہے ہیں۔۔۔زیادہ سے زیادہ یہ علا مہ جلا لی صاحب کی اجتہادی غلطی اور تفرد قرار دیا جاتا ناکہ ان پر توہین بے ادبی ایذاء رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور گناہ کے فتوے لگائے جاتے، ناکہ ان پر رجوع کا جبر کیا جاتا، ناکہ طعنے مذمت من شذ شذ فی النار کے فتوے لگائے جاتے…کاش کہا جاتا کہ

مفت ی جلا لی صاحب اجتہادی خطاء یا تفرد پر ہونے کے باوجود مکرم و محترم ہیں لیکن ہم ان کے اس واحد قول کی تائید نہیں کرتے براءت کا اعلان کرتے ہیں مگر وہ اہلسنت سے خارج نہیں دیگر معاملات میں انکی تقاریر و خدمات معتبر و قابل ستائش ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔

سیدہ کائنات مطالبے میں حق پر تھی یا خطاء پر تھی اس بارے میں اسلاف کا دوٹوک کوئی بیان کتب میں نہیں پڑھا۔

البتہ اسلاف نے دوٹوک فرمایا کہ اہل بیت اور صحابہ کرام مجتہدین ہیں ان سے خطا کا صدور ممکن ہے…اولیاء(صحابہ اہلبیت دیگر اولیاء)معصوم نہیں محفوظ عن الخطاء ہیں..محفوظ عن الخطاء کامطلب ہےکہ اکثر ان سے گناہ،خطاء نہیں ہوتی..اگر ہوتی ہےتو وہ اس پر ڈٹےنہیں رہتے(توبہ رجوع کرلیتےہیں)جبکہ معصوم عن الخطاء کا معنی ہے کہ گناہ و خطاء مذمومہ کا صدور ممکن ہی نہیں…انبیاء کرام اور فرشتے معصوم ہیں ان کے علاوہ کوئی معصوم نہیں(دیکھیے بستان العارفین66،فتاوی حدیثیہ230)

بلکہ

بعض صحابہ، بعض اہلبیت سے اجتہادی خطاء و تفردات واقع ہوئے ہیں جن پر کوئی طعن مذمت بےادبی کے فتوے نہیں لگائے گئے، ظنی تفردات پےرجوع توبہ کا جبر نہ کیا گیا.۔

①بعض صحابہ کی اجتہادی خطاء:

اسلاف علماء میں سے بعض نے بغیر کوئی حوالہ نقل کیے دلیل دیتے ہوئے اپنی اجتہاد سے بعض صحابہ کرام پر اجتہادی خطا کا اطلاق کیا ہے…..مثلا

ماہر محقق متکلم امام اہلسنت سعدالدین تفتازانی بغیر کسی منقولہ حوالے کے اپنے اجتہاد و دلیل سے مخالفین سیدنا علی پر اجتہادی بغاوت اجتہادی خطا کا اطلاق کرتے ہوئے لکھتےہیں:

واما فی حرب جمل و حرب صفین فالمصیب علی لا کلتا الطائفتین ولا احدھما من غیر تعیین المخالفون بغاۃ لخروجھم علی الامام الحق لشبھۃ لا فسقۃ او کفرۃ

ترجمہ:

اور جو جنگ جمل اور جنگ صفین ہوئیں ان تمام میں حضرت علی حق و درست تھے مخالفین(سیدہ عائشہ سیدنا زبیر و طلحہ و معاویہ رضی اللہ عنھم اجمعین) اجتہادی خطاء پر تھے، دونوں حق و درست نہیں تھے(مطلب ایسا نہین کہ سیدنا علی کو بھی حق کہا جائے اور ان سے اختلاف کرنے والے مثل سیدنا طلحہ و زبیر و عائشہ و معاویہ وغیرہ بھی کو بھی حق پر کہا جائے ایسا ہرگز نہیں بلکہ سیدنا علی ہی حق پر تھے اور مخالفین اجتہادی خطاء پر تھے)

اور ایسا بھی نہیں کہ کہا جائے کہ بلاتعیین کوئی ایک حق پر تھا(مطلب ایسا بھی مت سمجھو کہ شاید سیدنا معاویہ و زبیر و طلحہ و عائشہ حق پر ہو یا شاید علی حق پر ہوں، ایسا مشکوک نظریہ بھی ٹھیک نہیں بلکہ واضح حق عقیدہ اہلسنت یہی ہے کہ سیدنا علی حق و درست تھے)اور مخالفیں(سیدہ عائشہ سیدنا زبیر و طلحہ و معاویہ بمع گروہ) اجتہادی باغی تھے کہ امام برحق پر خروج کیا شبہ کی وجہ سے، ہاں(شبہ، اجتہادی بغاوت ، اجتہادی خطاء) کی وجہ سے انہیں فاسق و گناہ گار اور کافر نہیں کہہ سکتے(شرح المقاصد3/533).

امام اہلسنت سیدی امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کے عظیم خلیفہ قبلہ مفتی امجد علی اعظمی اپنی مشھور و معتبر کتاب بہار شریعت میں بغیر کسی حوالہ کے فرماتے ہیں کہ:

حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی ﷲ تعالی عنھما تو عشرہ مبشرہ سے ہیں، ان صاحبوں(سیدہ عائشہ حضرت طلحہ حضرت زبیر)سے بھی بمقابلہ امیر المومنین مولی علی کرم ﷲ تعالی وجہہ الکریم خطائے اجتہادی واقع ہوئی۔(بہار شریعت جلد اول حصہ اول ص40)..

صحابہ کرام ائمہ کے ظنیات فروعیات میں تفردات،مخالفت جمھور غیر معتبر و مفتی بہ قول کئ گذرے…. کسی نے ان پر مذمت نہ کی , توبہ رجوع کا جبر نہ کیا…..سیدی امام احمد رضا لکھتے ہیں:

اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار(جو جدا ہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں،صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں،سیدنا ابوذر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مطلقًا جمع زر کو حرام ٹھہرانا،ابو موسی اشعری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا،عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما کا مسئلہ ربا،امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامسئلہ مدت رضاع،امام شافعی رضی ﷲتعالٰی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدًا،امام مالك رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ طہارت سؤر کلب وتعبد عنسلات سبع،امام احمد رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ نقض وضو بلحم جز ور وغیرہ ذلك مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ فی النار(جو جدا ہو جہنم میں ڈالا گیا۔ت)کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف(فتاوی رضویہ18/497.498).

اہلبیت میں سے بعض کی اجتہادی خطاء، لغزش اور غیر مفتٰی بہ اقوال:

علامہ عبد العلي محمد بن نظام الدين محمد السهالوي الأنصاري اللكنوي بغیر کسی حوالہ پیش کیے اپنی طرف سے اجتہاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں،ترجمہ:

اہل بیت دیگر مجتہدین کی طرح ہیں ان پر خطاء جائز ہے بلکہ وہ کبھی خطا کرتے ہیں اور کبھی درستگی کو پاتے ہیں۔۔اہل بیت سے لغزش واقع ہونا بھی جائز ہے جیسے کہ بی بی فاطمہ سے لغزش واقع ہوئی۔۔۔۔اسی طرح اہل بیت کے صحابہ کرام سے الگ تفردات گزرے ہیں جس پر اگرچہ فتوی نہیں دیا گیا لیکن کوئی مذمت بھی نہیں کی گئی ۔۔۔صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں یہ سمجھتے تھے کہ ان سے خطائے اجتہادی کا صدور ہو سکتا ہے بلکہ ہوا ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خطا اجتہادی حاملہ متوفی زوجھا کی عدت کے معاملے میں واقع ہوءئ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے اجتہادی خطائیں تفردات واقع ہوئے ہیں جو جمہور کے خلاف تھے لیکن فتوی جمہور پر دیا گیا لیکن تفردات والے پر بھی مذمت نہ کیا گیا(دیکھیے فوتح الرحموت2/279ملخصا ملتقطا).

شیخ الحدیث و التفسیر علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ بغیر کوئی حوالہ نقل کیے اپنے اجتہاد سے فرماتے ہیں:

بہرحال حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اس باب(مطالبہ میراث،مطالبہ فدک اور بظاہر ناراضگی) میں جو جاری ہوا وہ ان کا اجتہاد تھا۔۔۔۔اس باب میں صحت اور صواب(درستگی)حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ تھا(نعمة الباری شرح بخاری 14/841)

اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ نے اجتہاد کیا سیدنا ابوبکر حق پے تھے لیھذا سیدہ فاطمہ اجتہادی خطاء پر تھیں….لیکن علامہ صاحب نے دوتوک مطالبے کو خطاء نہیں کہا بلکہ ناراضگی کو خطاء کہا….علامہ صاھب کا ناراضگی قرار دینا خلاف جمھور ہے….اکثر شارحین نے یہی لکھا کہ ناراض نہ ہوئیں تھیں…..روایت میں جو ھجران آیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے میں بات نہ کی اور دیگر معاملات میں بات و ملاقات کی نوبت ہی نہ آئی تو ھجران مذموم ثابت نہ ہوا….اس ھجران کو علامہ سعیدی نے خطاء اجتہادی لکھا جو کہ علامہ کی خطاء اجتہادی ہے کیونکہ یہ ھجران ثابت ہی نہین یا موول ہے …لیکن ناراضگی نہ ہونے کے باوجود آخری وقت میں سیدہ فاطمہ کو سیدنا ابوبکر نے راضی کیا اور سیدہ فاطمہ کی وصیت مطابق سیدنا ابوبکر کی بیوی نے انہیں غسل دیا اور حضرت علی کے اصرار پر سیدہ کا جنازہ سیدنا ابوبکر نے پرھایا جس پر میری تفصیلی مدلل تحریر موجود ہے سرچ کرسکتے ہیں.

الحاصل:

علمائے مجتہدین نے اجتہاد کرتے ہوئے ظنیات فروعیات میں بعض اہل بیت ، بعض صحابہ کرام و تابعین وغیرہ پر خطاء کا اطلاق کیا ہے۔۔۔۔سیدہ فاطمہ پر لغزش کا اطلاق کیا ہے لیکن دو ٹوک خطا اجتہادی کا اطلاق اسلاف میں سے کسی نے کیا ہو میرے علم میں نہیں۔۔۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو اسلاف نے متاخرین کے لیے چھوڑ دیے۔۔۔اور بعض متاخرین مثل علا مہ جلا لی صاحب وغیرہ نے اجتہاد کرتے ہوئے بلامذمت سیدہ فاطمہ پر خطاء اجتہادی کا اطلاق کیا ہے تو کوئی برا نہیں کیا۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ یہ ان کا تفرد و اجتہاد کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔ جو پہلے کے اسلاف نے اطلاق نہیں کیا تو کچھ برا نہ کیا اور تفرد و اجتہاد میں مثل و حوالہ کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ دلیل کی حاجت ہوتی۔۔۔ایسا نہیں کہ اسلاف نے نہیں کہا تو بعد کے مجتہدین بھی نہیں کہہ سکتے۔

امام اہلسنت فرماتےہیں:

اور جو یہ كارنامہ كئے بغیر گزر گئے نہ تو ان كی برائی ہوتی ہے نہ كرنے والوں كو عار دلایا جاتاہے، اور یہ تو ایك مشہور مثل ہے كہ پہلے كے بزرگ بعد میں آنے والوں كے لئے بہت سے كام چھوڑ گئے(فتاوی رضویہ28/260)۔

لیھذا مفتی جلالی صاحب وغیرہ کا تفرد اور اجتہاد کرتے ہوئے سیدہ فاطمہ پر اجتہادی خطاء کا اطلاق کرنا کوئی برائی بےادبی فسق و گناہ ایذاء رسول نہیں اور نہ ہی ان پر توبہ رجوع کا جبر کیا جاسکتا ہے… نہ ہی مطلقا براءت کا اعلان کیا جاسکتا ہے…. نہ ہی اہلسنت سے خارج کیا جاسکتا ہے…نہ ہی طعن و مذمت کی جاسکتی ہے….ہاں مفت ی جلا لی صاحب اپنے تفرد سے رجوع کر لیں تو بہت اچھی بات ہے یا ان کے اجتہاد کی درستگی دیگر علماء پر منکشف ہو جائے اور وہ بھی اس کو صحیح مان لیں تو بھی برحق ولاتفسیق بالاجتھادیات اجتہادی مسائل میں کسی کو فاسق قرار نہیں دیاجاسکتا.(فتاوی رضویہ7/119).

نوٹ:

①اسلاف کی لغزشیں اجتہادی خطائیں تلاشنا ، ذکر کرنا ٹھیک نہیں انکی تعریف ہی کرنی چاہیے مگر ضرورتا لغزشیں خطائیں بیان کرنا اور مذمت سے روکنا بامر مجبوری جائز ہے…..ہم نے بھی بامر مجبوری یہ تحریر لکھی و عام پبلش کی کہ معاملہ سرعام ہو چکا ہے

②ظنیات فروعات میں حد درجے کا پردلیل باادب اختلاف کوئی غیر سنی کرے تو اسے بھی اس بنیاد پر طعن و مذمت کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا….طعن و مذمت اس بات پر کی جاءے گی جو واقعی قابل مزمت ہو..

سنا ہے علامہ سعید احمد اسد صاحب نے مناظرے کا چیلنج دیا ہے

علامہ جلا لی صاحب اور علامہ سعید احمد اسد صاحب کا پردلیل بادب مفاھمتی افھام و تفھیم والا مناظرہ مباحثہ ہونا اچھا ہے

مگر

واجب ہے کہ جگھڑا جبر تضلیل و تفسیق و اہلسنت سے نکالی نہ ہو کیونکہ یہ مسلہ ظنیات فروعیات کا ہے.

القرآن:

وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ

ترجمہ:

اور آپس میں مت جگھڑو کہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمھاری قوت اور وقار جاتا رہے گا..(انفال 46).

الحدیث:

“ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه إلا أوتوا الجدل”

کوئی قوم ہدایت پانے کے بعد گمراہ نہیں ہوئی مگر جب وہ “جگھڑے”(علمی غیرعلمی کسی بھی قسم کے جھگڑے)میں مبتلا کر دی گئ تو گمراہی ہوتی گئ(ابن ماجہ حدیث 48).

میری نظر میں سیدہ فاطمہ کی اجتہادی خطاء والے معاملے میں قابل قبول درج ذیل موقف ہوسکتے ہیں

①یہ کہا جائے کہ سیدنا بی بی فاطمہ نے باغ فدک وغیرہ کا مطالبہ کیا،سیدنا ابوبکر صدیق نے حدیث سنا کر ملکیت میں دینے کا انکار کیا مگر باغ فدک وغیرہ سے اہلبیت کا خرچہ ادا کرنے کا اقرار کیا، سیدہ مطالبہ سے دستبردار ہوکر واپس چلی گئیں…….بس اتنا بیان کیا جائے کسی کو اجتہادی خطاء نہ کہا جائے….یعنی سکوت کیا جائے،کف لسان کیا جائے معصوم عن الخطاء کی نفی کی جائے امکان خطاء کہا جائے…خطاء ہوئی اس سے اجتناب.و.سکوت کیا جائے…کیونکہ قطعی روایات سے معلوم نہیں کہ سیدہ نے اجتہاد کرکے اپنا حق سمجھ کر مطالبہ کیا یا حدیث لانورث سے لاعلمی کی وجہ سے مطالبہ کیا معلوم نہیں لیھذا سکوت بہتر

مگر

سنی عالم ماہر سرگرم اگر سیدہ فاطمہ کو اجتہادی خطاء پر کہے تو زیادہ سے زیادہ اسے اسکا تفرد و اجتہادی خطاء شمار کرکے غیرمتفقہ غیرمفتی بہ قول کہا جائے مگر اسے بےادب و گستاخ نہ کہا جائے دیگر معاملات سرگرمیوں خدمات میں اسے معتبر و قابل ستائش کہا جائے…فقیر کا یہی موقف ہے

②یہ کہا جائے کہ سیدنا ابوبکر حق پے تھے سیدہ فاطمہ سے وقتی اجتہادی خطاء ہوئی جوکہ کوئی مذمت و گناہ کی بات نہیں…لیکن جو اجتہادی خطاء نہ کہے اسے ناحق نہ کہا جائے مذمت و رافضیت نا کہا جائے…

③یہ کہا جائے کہ سیدنا ابوبکر حق پے تھے سیدہ فاطمہ سے حدیث پاک لانورث سے لاعلمی کی وجہ سے ناحق مطالبہ و خطاء ہوئی جوکہ درحقیقت نہ خطاء ہے نہ اجتہادی خطاء..

تم کون ہوتے ہو اکابرین علماء کو مشورہ دینے والے،ٹانگ اڑانے والے،ممکنہ موقف بتانے والے ………؟؟

جواب:

ہم جیسے چھوٹے موٹے لوگ کارکنان اگر کچھ مشورہ دیں یا رائے کا اظہار کریں تو سیدھا سا جواب یہی ملتا ہے کہ اپنی اوقات دیکھو، اپنی اوقات میں رہو، کیا پدی کیا پدی کا شوربہ، بڑوں کو مشورہ دیتے ہو، بڑوں کو توجہ دلاتے ہو…بے ادب نافرمان کہیں کے…بلکہ اس سے بھی سخت جوابات ملتے ہیں…

امام نووی علیہ الرحمۃ ایک حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں.

ترجمہ:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب امام اور سربراہ(لیڈر مفتی اکابر) کوئی حکم مطلق دے اور اس کے متبعین میں سے کسی شخص کی رائے اس کے خلاف ہوتو اس کو چاہیے کہ وہ امیر و سربراہ کے سامنے اپنی رائے پیش کرے تاکہ امیر اس پر غور کرے، پس اگر امیر پر یہ منکشف ہو کہ اس متبع کی رائے(مشورہ) صحیح ہے تو اسکی طرف رجوع کر لے ورنہ اس متبع کے شبہ کو زائل کرے اور اسکی تسلی کرے..(شرح مسلم للنووی1/581).

علامہ مولا علی قاری حنفی منقولا فرماتے ہیں:

أن العالم ولو بلغ مبلغ الكمال في العلم، فإنه لا بد له من الجهل ببعضه

ترجمہ:

عالم اگر علم کے کمال درجے کو بھی پہنچ جائے تو بھی بعض چیزوں سے وہ ضرور لاعلم ہوگا..

(مرقاۃ تحت شرح حدیث5066.

کم علمی ، بے توجہی، غلط فہمی چھوٹوں سے بھی ہوسکتی ہے تو بڑوں سے بھی ہوسکتی ہے….لیھذا شاگرد کہہ کر اوقات یاد دلانا ٹھیک نہیں… اپنا استاد ہونا یا استاد العلماء ہونا مت جتائیے…. اپنا علم اپنی خدمات مت جتائیے… بلکہ دلائل و شواہد سے بات کیجیے…. سمجھائیے جواب دیجیے ورنہ حق قبول کریں… وسیع ذہن وسعتِ قلبی رکھیں، باادب ہوکر سلیقے اور تمیز کے ساتھ دلاءل و شواہد سے کوئی شاگرد یا کوئی چھوٹا اختلاف کرے یا مشورہ دے اور توجہ دلائے تو بلاتعصب و حسد، بغیر بڑائی کے غور و فکر لازم ہے…غور و فکر کےبعد مشورہ برحق لگے زیادہ مناسب لگے تو اسے دل سے قبول کرتے ہوئے عمل کرنا چاہیے ورنہ مشورہ دینے والے کے شبہات کا ازالہ کیا جائے..جیسا کہ امام نووی کے حوالے سے گذرا.

مشورہ قبول ہوجائے تو مشورہ دینے والا سر پر مت چڑھے کہ جی میں تو بڑوں سے آگے نکل گیا.. کیونکہ کسی ایک معاملے مین آپ کی توجہ صحیح سمت مین چلی گئ تو اس کا یہ مطلب نہین کہ تمام معاملات مین آپ بڑھ گئے…ہرگز نہیں.

بلکہ ہم سب پر لازم ہے کہ ہماری باتیں جتنی بھی صحیح ہوں مگر اپنے آپ کو علمِ کل یا عقل کل نہیں سمجھنا چاہیے…بس میں ہی ہوں کے غرور مین نہیں پڑنا چاہیے…دوسروں کو بھی وقعت دینی چاہیے.

حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:

” لا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ قَالَ ، وَانْظُرْ إِلَى مَا قَالَ

ترجمہ:

یہ مت دیکھو کہ کس نے کہا، یہ دیکھو کہ کیا کہا(فوائد موضوعۃ روایت نمبر93).

غریب ذہین فطین دلائل کےباوجود غریبی کی وجہ سےبےآواز ہوتاہے…حضرت علی(افسوس غریب غیرمشھور محقق کی کوئی نہیں سنتا(تذکرۃ حمدونیۃ ر623.

مشھور یا منصب و طاقت والا بےتکی بات کہے تو بھی راز و اوصاف نکالےجاتے ہیں، واہ واہ کی جاتی ہے

مگر

نادار اور غیرمشھور شخص عالم قولِ زریں بھی کہے تو وقعت و توجہ نہیں دی جاتی….افسوس

کسی کی بات،

کسی کی رائے،

کسی کے مشورے

کسی کے مطالبے

کسی کی تحریر کی مضبوطی کو دیکھنا چاہیے، اسکی سچائی، گیرائی اور گہرائی کو دیکھنا چاہیے، اس کے پردلیل ہونے کو دیکھنا چاہیے…کیونکہ علم و شعور عمر دیکھ کر یا قومیت.و.ذات دیکھ کر نہیں آتا،

کئ بزرگ بوڑھے علم و شعور سے عاری بھی ہوتے ہیں اور کئ کم عمر علم.و.شعور والے بھی ہوتے ہیں….تو عمر ذات غریبی امیری مشہوری لائکس کی زیادتی جذباتیات وغیرہ کو مت دیکھیے… بات کی مضبوطی گہرائی گیرائی کو دیکھیے.

“کبھی کم عمر اور واحد شخص کسی ظنی حادثہ،معاملے مسلے میں درستگی کو پالیتا جسکو بڑا اورجماعت نہیں پاتے،جو جماعت اکثریت سے جدا ہوا وہ جہنم گیا یہ حکم اس پر ہے جو عقائد و قطعیات میں جدا ہو ورنہ ظنیات میں تفردات صحابہ تابعین آئمہ علماء کے بہت گذرے(دیکھیے فتاوی رضویہ،18/491,492)

میری امت کےعلماء کا(ظنیات فروعیات میں)اختلاف رحمت ہے(جامع الاحادیث874)

ظنیات فروعیات میں ماہر سنی علماء کا پردلیل باادب اختلاف رحمت ہے…اس سے دل چھوٹا نہ کریں، جس ماہر سنی عالم کی چاہیں پیروی کریں،ایسے ظنی فروعی مساءل میں دوسروں کی تضلیل تفسیق طعنے مذمت نہ کریں.

صحابہ کرام ائمہ کے ظنیات فروعیات میں تفردات،مخالفت جمھور غیر معتبر و مفتی بہ قول کئ گذرے جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا…. کسی نے ان پر مذمت نہ کی , توبہ رجوع کا جبر نہ کیا…...

علمائے مجتہدین نے اجتہاد کرتے ہوئے ظنیات فروعیات میں بعض اہل بیت ، بعض صحابہ کرام و تابعین وغیرہ پر خطاء کا اطلاق کیا ہے۔۔۔۔سیدہ فاطمہ پر لغزش کا اطلاق کیا ہے لیکن دو ٹوک خطا اجتہادی کا اطلاق اسلاف میں سے کسی نے کیا ہو میرے علم میں نہیں۔۔۔کئی کام ایسے ہوتے ہیں جو اسلاف نے متاخرین کے لیے چھوڑ دیے۔۔۔اور بعض متاخرین مثل علامہ مفتی آ صف ا شرف جلا لی صاحب وغیرہ نے اجتہاد کرتے ہوئے بلامذمت سیدہ فاطمہ پر خطاء اجتہادی کا اطلاق کیا ہے تو کوئی برا نہیں کیا۔۔۔۔زیادہ سے زیادہ یہ ان کا تفرد و اجتہاد کہا جا سکتا ہے۔۔۔۔ جو پہلے کے اسلاف نے اطلاق نہیں کیا تو کچھ برا نہ کیا اور تفرد و اجتہاد میں مثل و حوالہ کی حاجت نہیں ہوتی بلکہ دلیل کی حاجت ہوتی۔۔۔ایسا نہیں کہ اسلاف نے نہیں کہا تو بعد کے مجتہدین بھی نہیں کہہ سکتے۔

امام اہلسنت فرماتےہیں:

اور جو یہ كارنامہ كئے بغیر گزر گئے نہ تو ان كی برائی ہوتی ہے نہ كرنے والوں كو عار دلایا جاتاہے، اور یہ تو ایك مشہور مثل ہے كہ پہلے كے بزرگ بعد میں آنے والوں كے لئے بہت سے كام چھوڑ گئے(فتاوی رضویہ28/260)۔

لیھذا مفت ی جلا لی صاحب وغیرہ کا تفرد اور اجتہاد کرتے ہوئے سیدہ فاطمہ پر اجتہادی خطاء کا اطلاق کرنا کوئی برائی بےادبی فسق و گناہ ایذاء رسول نہیں اور نہ ہی ان پر توبہ رجوع کا جبر کیا جاسکتا ہے… نہ ہی مطلقا براءت کا اعلان کیا جاسکتا ہے…. نہ ہی اہلسنت سے خارج کیا جاسکتا ہے…نہ ہی طعن و مذمت کی جاسکتی ہے….ہاں مفتی جلالی صاحب اپنے تفرد سے رجوع کر لیں تو بہت اچھی بات ہے یا ان کے اجتہاد کی درستگی دیگر علماء پر منکشف ہو جائے اور وہ بھی اس کو صحیح مان لیں تو بھی برحق

ولاتفسیق بالاجتھادیات

اجتہادی مسائل میں کسی کو فاسق قرار نہیں دیاجاسکتا.(فتاوی رضویہ7/119)

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475