صاف گِلا

امام احمد بن حنبل اور جنابِ یحیی بن معین نے ایک مسجد میں نماز پڑھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو ایک خطیب ، واعظ ، قصہ گو ، مبلغ یا کچھ بھی نام دیجیے ، وہ جلوہ فرما ہوئے اور وعظ شروع کیا۔

علم کے ایسے پہاڑوں کے سامنے لب کشائی بہت ہی عجیب تھی ، لیکن اس سے عجیب تھی اس شخص کی بیان کردہ حدیث کی “سند۔۔۔”

کوئی بیس ورق کی حدیث بیان کی اور کہا: “یہ حدیث مجھے احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے بتائی ہے”

ان دونوں صاحبوں کی موجودگی میں ان کے نام سے اتنا بڑا جھوٹ۔۔۔۔!!!

یہ دونوں صاحب ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ “جھوٹ” اس سے قبل ہم نے سنا تک نہیں ، اور اس “بد بخت واعظ/ خطیب/مبلغ” کو اس سے پہلے دیکھا بھی نہیں ، یہ کیسا ظالم ہے کہ “ہمارے سامنے ہمارے نام سے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ والا پہ جھوٹ گھڑ رہا ہے”

بہر حال اب اس کے من گھڑت افسانہ کے خاتمے کا انتظار تھا تاکہ اسے کچھ سمجھایا جا سکے ، اس کو اس بدترین کام سے روکا جا سکے ، اسے بتایا جا سکے کہ جو تم کام کر رہے ہے یہ وہی ہے جس کے بارے میں قرآن عظیم نے فرمایا:

فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ

پس ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جو اپنے ہی ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں ، پھر کہتے ہیں “یہ اللہ کی طرف سے ہے” تاکہ: اس کے عوض تھوڑے سے دام کما لیں۔ پس ان کے لئے ان کے ہاتھوں سے لکھنے کے سبب (بھی) ہلاکت ہے اور اس کے سبب (بھی) ہلاکت ہے جو وہ کما رہے ہیں۔

امام احمد بن حنبل اور یحیی بن معین محوِ حیرت وافسوس اس کا قصہ ختم ہونے کے منتظر ہیں۔ اس کا وعظ ختم ہوا ، جھوٹے افسانہ پہ جو ملا اس کو لینے کے بعد وہ شخص بیٹھ گیا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور “سخی” کا دریائے سخاوت جوش میں آئے اور وہ اسے مزید نوازے۔

اسی دوران جنابِ یحیی بن معین نے اسے الگ بلایا۔

وہ بڑی خوشی سے آیا کہ شاید کوئی بڑا انعام ملنے والا ہے۔

جنابِ یحیی نے کہا: یہ حدیث تجھے کس نے بتائی؟

واعظ/خطیب: احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نے۔

جنابِ یحیی بن معین: میں یحیی بن معین ہوں اور یہ احمد بن حنبل ہیں۔ ہم نے تو اس قسم کی حدیث سنی بھی نہیں۔ اگر تو نے جھوٹ ہی بولنا تھا تو کسی دوسرے کا نام لے لیتا (ہمارے سامنے ہم پر ہی جھوٹ۔۔۔!!!)

واعظ/خطیب (ڈھٹائی سے) : تو یحیی بن معین ہے؟؟؟

جنابِ یحیی بن معین: ہاں

واعظ/خطیب (طنزیہ انداز میں): میں ہمیشہ سے سنتا چلا آ رہا تھا کہ یحیی بن معین بڑا بیوقوف ہے۔ لیکن مجھے اب آ کر یقین ہوا۔۔۔۔!!!!

جنابِ یحیی بن معین: تجھے کیسے پتا چلا کہ میں احمق ہوں؟

واعظ/خطیب (ڈھٹائی سے) : تم کیا سمجھتے ہو کہ دنیا میں کوئی دوسرا احمد بن حنبل اور یحیی بن معین نہیں؟ میرے پاس سترہ احمد بن حنبل اور یحیی بن معین ہیں جن سے میں حدیثیں روایت کرتا ہوں۔۔۔۔۔!!!

اس سے پہلے کہ جنابِ یحیی بن معین کچھ کہتے جنابِ امام احمد بن حنبل نے حضرت یحیی کو روک دیا اور کہا : اسے جانے دو۔

وہ واعظ / خطیب / مبلغ ان دونوں حضرات کا مذاق اڑانے کے سے انداز میں اٹھ کر چل پڑا۔

(الاسرار المرفوعۃ ص 54 ، 55)

خطیبوں ، مقررین ، واعظین ومبلغین کی یہ حالت 1200 سال پہلے کی ہے۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے وصال کو لگ بھگ 200 سال کا عرصہ گزرا تھا۔

یہ بات اپنی جگہ ہے کہ وہ دور علم ودانش اور تاریخِ اسلام کا سنہری دور تھا ، اور اس قسم کے لوگ انتہائی کم تعداد میں تھے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بات ضرور بتاتی ہے کہ تاریخِ اسلام کے تابانی دور میں بھی ایسے خطیب ، مقرر ، واعظ ، مبلغ موجود تھے جو کم علمی کے علاوہ بے حیائی ، ڈھٹائی ، عاقبت نا اندیشی میں اپنی مثال آپ تھے۔۔۔ دنیا کے مال وزر اور عزت وجاہ کے حصول کے لیے وہ کچھ بھی کہنے اور کرنے میں عار محسوس نہ کرتے تھے۔۔۔ لیکن چونکہ ہر طرف اصحابِ علم کی موجودگی تھی ، لہذا اس قسم کے لوگ اقلیت کی مانند تھے۔

لیکن آج اگر آپ مذہبی محافل میں چلے جائیں۔۔۔۔۔۔

میں محفلِ نعت کی بات نہیں کر رہا کہ رطب ویابس جس کی طبیعت ومزاج کا حصہ ہے۔۔۔ میں ان محافل کی بات کر رہا ہوں جنہیں علمی دسترخوان کا نام دیا جاتا ہے۔۔۔ جنہیں وعظ ونصیحت کی مجلس کہا جاتا ہے۔۔۔ جن کا انعقاد عامۃ المسلمین کو پند ونصیحت کے لیے ہوتا ہے۔۔۔۔

ایسی عظیم علمی واصلاحی محافل واجتماعات میں جب خطیب/مبلغ صاحب کی باری آتی ہے تو “خدا کی پناہ۔۔۔”

میرا تعلق میدانِ تدریس سے ہے اس وجہ سے عوامی جلسوں اور اجتماعات میں شرکت بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن جب بھی کسی جلسے واجتماع میں شرکت ہوئی تو خطیبوں کے جھوٹ سن کر دل ودماغ پر ایسی کاری ضربیں لگتی ہیں کہ جن کو میں الفاظ نہیں دے سکتا۔۔۔

شریعت کی ایسی غلط ترجمانی کہ شاید یہود ونصاری کے خطیبوں اور واعظوں نے بھی اپنے ادیان کی ایسی غلط ترجمانی نہ کی ہو۔۔۔

وطنِ عزیز کا ایک بڑا طبقہ “مولویوں” سے بیزار ہے ، اور ایک بڑی تعداد تو ایسے لوگوں کی ہے جو “اسلام” ہی سے دور ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔

میرا ماننا ہے کہ عام لوگوں کی علماء سے اور اسلام سے بیزاری کا ایک بڑا سبب اس قسم کے خطیب ، واعظ ، مبلغ اور مقررین بھی ہیں۔۔۔۔

یہ لوگ اگر تھیٹر کی زینت بنتے ، اسٹیج ڈرامے کے ذریعے لوگوں کو ہنسا کر ان سے پیسے وصولتے تو شاید اتنا زیادہ برا نہ ہوتا ، جتنی برائی ان لوگوں کے دینی لبادہ اوڑھنے میں ہے ، محراب ومنبر جیسے مقدس مقامات پہ جھوٹ بولنے میں ہے ، دین کی غلط تشریحات میں ہے۔۔۔۔

میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ 100 میں سے 100 خطیب ، واعظ ، مقرر ومبلغ ایسے ہیں۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ 100 میں سے 90 خطیب ، واعظ ، مقرر ومبلغ “ایسے ہی ہیں۔” میرے اعداد وشمار میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ “ایسے خطیب ومبلغین تاحال موجود ہیں جن کے علم ، وعظ ونصیحت ، دینِ اسلام کی ترجمانی پر اعتماد کیا جا سکتا ہے” لیکن میری دانست میں ان کی تعداد 10 فیصد سے زیادہ نہیں۔

باقی 90 فیصد یا کم وبیش وہ لوگ ہیں جن کی مثال امام احمد بن حنبل وجنابِ یحیی بن معین کے سامنے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے والے واعظ ومبلغ جیسی ہے۔۔۔۔ اور ایسے ناسور سنی ، شیعہ ، دیوبندی ، وہابی سبھی کے ہاں بکثرت ہیں۔۔۔

ہاں حالیء گستاخ نہ بڑھ حدِ ادب سے

باتوں سے ٹپکتا تری اب صاف گلا ہے ہے یہ بھی خبر تجھ کو کہ ہے کونمخاطب

یاں جنبشِ لب خارج از آہنگ خطا ہے

میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں مجرم صرف وہی لوگ نہیں ، بلکہ ہم سبھی اس گناہ میں کسی ناں کسی طریقہ سے ملوث ہیں۔۔۔

کبھی چپ رہ کر ہم مجرم بنتے ہیں تو کبھی ان کی حوصلہ افزائی کر کے۔۔۔

کبھی اپنے جلسوں اور اجتماعات میں بلا کر ہم گناہگار ہوتے ہیں تو کبھی ان کی بے جا تعریف کر کے۔۔۔۔

یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ اکثریت میں اور خدا ترس اور اصحابِ علم خطباء ومقررین اقلیت کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔۔۔ اور آج کے دور میں ان عاقبت نااندیشوں کا مقابلہ محالاتِ عادیہ جیسا ہے۔۔۔

لیکن عربی میں کہا جاتا ہے: ما لا يُدرَكُ كُلُّه لا يُترَكُ كُلُّه

جو چیز ساری نہ ملے اسے یکسر چھوڑا نہیں جاتا۔

اللہ کریم کا ارشادِ گرامی بھی ہے:

فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ

جتنی طاقت ہے اس قدر تقوی اختیار کرو۔۔۔

سو ہمیں چاہیے کہ:

ہم سب سے پہلے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری سمجھیں

اور پھر جو کردار اداء کر سکیں وہ ضرور کریں۔۔۔

اس فتنہ سے موجودہ اور آنے والی نسلوں کو جس طرح بچا سکیں ضرور بچائیں۔ تاکہ روزِ محشر اپنی ذمہ داریوں کے سوال کے جواب میں کچھ کہنے کے قابل بن سکیں۔

✍️ چمن زمان

رئیس جامعة العین . سکھر

22 رجب المرجب 1441ھ / 18 مارچ 2020ء