أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَهُمۡ فِىۡ رَوۡضَةٍ يُّحۡبَرُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کو جنت میں خوش و خرم رکھا جائے گا

تفسیر:

جنت میں سماع کی تحقیق 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان کو جنت میں خوش وخرم رکھا جائے گا اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور ہماری ملاقات اور ہماری آیات کی تکذیب کی تو ان (سب) کو عذاب میں پیش کیا جائے گا (الروم : ١٦۔ ١٥)

قیامت کے دن لوگ منتشر ہوں گے یہ اجمال تھا اب اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ مومنوں کو جنت میں داخل کیا جائے گا اور کافروں کو دوزخ میں۔

ان کو جنت میں خوش و خرم رکھا جائے گا اس کے لیے اس آیت میں یہ الفاظ ہیں : فھم فی روضۃ یحبرون۔

ضحاک نے کہا الروضۃ کا معنی جنت ہے یعنی باغ اور اس کی جمع ریاض ہے یعنی جنان ‘ بعض علماء نے کہا جو باغ اونچی جگہ پر ہو ‘ اس کو الروضۃ کہتے ہیں ‘

اور بعض علماء نے کہا جو باغ پست زمین پر بنا ہو اس کو الروضۃ کہتے ہیں ‘ امام قشیری نے کہا جس تالاب کے ارد گردہ سبزہ ہو اس کو الروضۃ کہتے ہیں۔

ضحاک نے کہا یحبرون کا معنی ہی ان کی تعظیم اور تکریم کی جائے گی اور مجاہد اور قتادہ نے کہا ان کو نعمتیں دی جائیں گی السدی نے کہا وہ خوش اور مسرور ہوں گے ‘ اور عرب کے نزدیک الحبرہ کے معنی فرح اور خوشی ہے ‘ اسی طرح جوہری نے بھی کہا ہے۔

یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا وہ جنت میں سماع کریں گے ‘ یعنی گانے کی آوازیں سنیں گے ‘ اور جنت کے ہر درخت سے تسبیح اور تقدیس کے غنا کی آوازیں سنائی دیں گی ‘ امام اوزاعی نے کہا اللہ کی مخلوق میں حضرت اسرافیل سے زیادہ کسی کی حسین آواز نہیں ہے ‘ اور جب وہ غنا شروع کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں اور زمینوں کی تسبیح اور نماز منقطع ہوجاتی ہے اور جنت کا ہر درخت ان کے غنا کو دہراتا ہے اور جنت کی حوریں بھی نغمہ سرا ہوتی ہے اور مزامیر بجاتی ہیں اور پرندے بھی خوش الحانی سے گاتے ہیں اور اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں کی طرف وحی کرتا ہے اس نغمہ کو دہرائو اور میرے ان بندو کو سنائو جنہوں نے دنیا میں اپنے کانوں کو مزامیر شیاطان سے محفوظ رکھا تھا ‘ تو وہ خوش الحانتی اور روحانی آوازوں کے ساتھ نغمہ سراہوں کے اور حوروں اور فرشتوں کی آوازیں مل کر ایک ہوجائیں گی ‘ پھر اللہ تعالیٰ کی تمجید کریں گے جس سے سننے والوں کی لذت دوبالا ہوجائے گی۔ (لتذکرہ فی احوال الموتی و امور الا خرۃ ج ٢ ص ٣١٦۔ ٣١٥‘ دارالبخاری المدینہ المنورۃ ‘ ١٤١٧ ھ ‘ الجامع الا حکام القرآن جز ١٤ ص ١٣‘ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ ‘علامہ قرطبی نے اس روایت کو حکیم ترمذی کے حوالہ سے نقل کیا ہے اور اس کی سند کا حال ہمیں معلوم نہیں)

امام ابو اسحاق احمد بن محمد بن ابراہیم ‘ الثعلبی النیشا پوری المتوفی ٤٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں ‘ ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان میں اور زمین میں فاصلہ ہے اور فردوس سب سے بلند اور افضل درجہ ہے ‘ اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں اور قیامت کے دن اسی پر عرش رکھا جائے گا۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٣٢١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٣١‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٣١‘ المسدرک ج ١ ص ٨٠) یہ سن کر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! مجھے اچھی آوازیں پسند ہیں ‘ کیا جنت میں اچھی آوازیں ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! بیشک اللہ تعالیٰ جنت میں ایک درخت کی طرف وحی فرمائے گا ! میرے وہ بندے جو میری عبادت اور میرے ذکر کی وجہ سے سارنگیوں اور مزامیر کو نہیں سنتے تھے ان کو سنا ‘ پھر وہ درخت بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس میں اتنی خوش آوازی سے نغمہ سرا ہوگا کہ مخلوق نے اس طرح کا نغمہ اس سے پہلے نہیں سنا ہوگا۔

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو نصیحت فرما رہے تھے ‘ آپ نے جنت کا ذکر کیا اور جنت میں جو حوریں ہیں اور دوسری نعمتیں ہیں ان کا ذکر کیا ‘ ایک اعرابی لوگوں میں سب سے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ‘ اس نے گھٹنے کے بل کھڑے ہو کر کہا : یا رسول اللہ ! کیا جنت میں سماع ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اے اعرابی جنت میں ایک دریا ہے اس کے دونوں کناروں پر خوب صورت لڑکیاں ہوں گی جو اس قدر خوش آوازی کے ساتھ گا رہی ہوں گی کہ مخلوق نے ایسی آواز کبھی نہیں سنی ہوگی۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابوالدرداء سے پوچھا وہ کیا گا رہی ہوں گی ؟ انہوں نے کہا یہ اہل جنت کی سب سے افضل نعمت ہوگی۔

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ جنت میں ایسے درخت ہیں جن پر چاندی کی گھنٹیاں لٹکی ہوئی ہیں ‘ جب اہل جنت کو سماع کی خواہش ہوگی تو اللہ عزوجل عرش کے نیچے سے ایک ہوا بھیجے گا اور اس ہوا کے چلنے سے وہ گھنٹیاں بجنے لگیں گی اگر زمین والے ان کی آوازوں سے سن لیں تو وہ فرط مسرت اور وجد سے مرجائیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ سے سوال کیا گیا آیا اہل جنت کے لیے سماع ہوگا ؟ انہوں نے کہا ہاں ایک درخت ہے جس کی جڑ سونے کی ہے اور اس کے پتے چاندی کے ہیں اور اس کے پھل موتی ‘ زمرد اور یاقوت ہیں ‘ اللہ سبحان و تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جس سے وہ ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور کسی شخص نے اس سے زیادہ حسین آواز کبھی نہیں سنی ہوگی۔ (الکشف والبیان ج ٧ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

یہ تمام چیزیں نعمتوں ‘ سرور اور اکرام پر مشتمل ہیں اور قرآن مجید میں ہے :

کسی شخص کو معلوم نہیں کہ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا نعمتیں چھپا کر رکھی ہیں ‘ یہ ان کے (نیک) اعمال کی جزاء ہے۔

اور حدیث میں ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے میں نے اپنے نیک بندو کے لیے وہ نعمتیں تیار کر رکھیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا خیال آیا ہے بلکہ یہ وہ ہیں جن کی میں نے تم کو اطلاع دی ہے اور جن کی میں نے تم کو اطلاع نہیں دی وہ اس سے بہت عظیم ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٢٤‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨ ٣٣٢)

السجدۃ : ٧ ١ اور اس حدیث سے جنت میں سماع کی نعمت کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے (دنیا میں) غنا سنا وہ جنت میں اس کے سننے سے محروم رہے گا۔ (نوادرالا صول ج ٢ ص ٨٧‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٨٤٢٧‘ یہ حدیث ضعیف ہے)

اور چونکہ قرآن مجید کا اسلوب ہے کہ وہ ایک ضد کے بعد دوسری ضد بان فرماتا ہے اس لیے قیامت کے دن مومنوں کا حال بیان کرنے کے بعد کافروں کا حال بیان فرمایا : اور رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا او ہماری ملاقات اور ہماری آیات کی تکذیب کی تو ان (سب) کو عذاب میں پیش کیا جائے گا (الروم : ١٦)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 15