مسجد آیا صوفیا

سلطان محمد الفاتح نے 1453ء میں قسطنطنیہ(استانبول) فتح کرنے کے بعد ایک بھی چرچ کو مسجد میں تبدیل نہیں کیا. نہ معاوضہ دے کر اور نہ ہی بغیر معاوضے کے. البتہ انھوں نے اپنی ذاتی رقم لگا کر “آیا صوفیا” کو عیسائیوں سے خرید کر اسے باقاعدہ مسجد بنایا. تقریبا 500 سال تک اس کی یہ حیثیت برقرار رہی. پھر لادینی حکمراں اتاترک مصطفی کمال پاشا نے اسے 1934ء میں میوزیم بنا دیا. اب قانونی طور پر دوبارہ 86 سال بعد اس کی اصل حیثیت پر اسے لوٹا دیا گیا ہے. اب اس میں اذان و جماعت کے ساتھ نمازیں ادا کی جائیں گی. (جن لوگوں نے بھی اس کے لیے جد و جہد کی ہے اللہ عزوجل ان کی کوششیں اور محنتیں قبول فرمائے.)

سلطان محمد الفاتح اگر چاہتے تو بغیر کسی معاوضے کے اس سابقہ چرچ کو مسجد میں بدل سکتے تھے, کیوں کہ شرعی قواعِد اور اس وقت کے جنگی قوانین کی رو سے انھیں یہ حق حاصل تھا. مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا, بلکہ زرِ کثیر صَرف کرکے اسے عیسائیوں سے خریدا اور پھر اسے مسجد بنایا. !!

آج کچھ لبرل, متجدد اور ملحد اسے چرچ سے جبراً مسجد بنائے جانے کا جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں. انھیں اس کا اپنی اصل حیثیت پر لوٹنا بہت گراں گزر رہا ہے.

اس جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید اِن لِنکس میں دیکھیں:

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1378470342352241&id=100005678646486

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1376679312721974&id=100011397551858

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1572728002908363&id=914495205398316

#نثارمصباحی

11جولائی 2020ء