أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهُمۡ مِّنۡ شُرَكَآئِهِمۡ شُفَعٰٓؤُا وَكَانُوۡا بِشُرَكَآئِهِمۡ كٰفِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان کے مزعوم شرکاء میں سے کوئی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا اور وہ (خود) اپنے شرکاء کے منکر ہوجائیں گے

اس کے بعد فرمایا اور ان کے مزعوم شرکاء میں سے کوئی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا۔ الایۃ (الروم : ١٤۔ ١٢)

قیامت کے دن بت مشرکین سے بےزاری کا اظہار کریں گے اور مشرکین بتوں سے بےزاری کا اظہار کریں گے اور کہیں گے نہ یہ ہمارے خدا ہیں نہ یہ ہمارے خدا ہیں نہ یہ ہماری شفاعت کرنے والے ہیں ‘ پھر مومنین اور کافرین الگ الگ ہوجائیں گے ‘ جیسا کہ ایک اور جگہ فرمایا ہے : اے مجرمو ! آج ( نیکوکاروں سے) الگ ہو جائو۔

اور یہ حالت ان کی مایوسی پر مترتب ہے گویا پہلے وہ مایوس ہوں گے ‘ پھر ان کو نیکو کاروں سے الگ کھڑا کر کے ان سے مایوس کیا جائے گا پھر مومنوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور کافروں کو دوزخ میں داخل کردیا جائے گا ‘ اور قیامت کا ذکر مکرر فرمایا ہے تاکہ لوگ قیامت سے ڈریں ‘ کفار ایمان لے آئیں اور فساق برے عمل ترک کر کے نیک عمل کرنا شروع کردیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ مومنین اور کافرین ایک دوسرے سے کس طرح الگ الگ ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 13