أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَةُ يُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرمین مایوس ہوجائیں گے

اس کے بعد فرمایا : اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن مجرمین مایوس ہوجائیں گے (الروم : ١٢)

اس آیت میں مایوس ہونے کے لیے ” یبلس “ کا لفظ :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ اس کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

سخت خوف کے بعد جو غم طاری ہو اس کو ابلاس کہتے ہیں ‘ اسی سے ابلیس ماخوذ ہے ‘ کتنی بار ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کے خلاف بہت دلائل قائم کردیئے جاتے ہیں تو اس پر سکوت طاری ہوجاتا ہے اور وہ حیران اور پریشان ہو کر بھول جاتا ہے کہ اس کو کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا ایسے موقع پر کہا جاتا ہے اَبَلَسَ فلان یعنی جب وہ اپنی حجت منقطع ہونے کے بعد خاموش ہوگیا۔ (المفردات ج ١ ص ٧٦ ذ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

علامہ راغب کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ابلیس بھی اسی سے ماخوذ ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ابلیس منصرف ہوتا حالانکہ قرآن مجید میں ابلیس غیر منصرف ہے۔ اور اس کے غیر منصرف ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ لفظ عجمی ہے اور علم ہے اور اگر اس کو عربی کہا جائے اور ابلاس سے مشتق مانا جائے تو پھر اس کا غیر منصرف ہونا شاذ ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 12