حدیث نمبر 555

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سارے کاموں میں استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ۱؎ فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے ۲؎ تو فرض کے سوا دو رکعتیں پڑھے۳؎ پھر کہے الٰہی میں تیرے علم کی مدد سے تجھ سے خیرات مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے وسیلہ سے تجھ سے قدرت مانگتا ہوں۴؎ اور تیرا بڑا فضل مانگتا ہوں تو قادر ہے اور میں قادرنہیں تو جانتا ہے میں نہیں جانتا ۵؎ تو غیبوں کا جاننے والا ہے،الٰہی اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے لیے دین و دنیا اور انجام کار میں یا فرمایا میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں بہتر ہو ۶؎ تو اسے میرے لیے مقدر فرمادے اور مجھ پر آسان کردے پھر مجھے برکت دے ۷؎ اور اگر تو جانتا ہو کہ یہ کام میرے دین و دنیا میں اور انجام کار میں یا فرمایا کہ میرے لیے اس جہاں اور اس جہاں میں شر ہو تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے ۸؎ اور میرے لیے بھلائی مقدرکر جہاں ہو۹؎ پھر مجھے اس پر راضی کردے فرمایا اور اپنی حاجت کا نام لے ۱۰؎ (بخاری)

شرح

۱؎ یعنی نماز استخارہ ایسے اہتمام سے سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی سورت۔استخارہ کے معنی ہیں خیر مانگنا یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا،چونکہ اس دعا و نماز میں بندہ اﷲسے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں یا نہ کروں اسی لیئے اسے استخارہ کرتے ہیں۔

۲؎ بشرطیکہ وہ کام نہ حرام ہو نہ فرض و واجب اور نہ روزمرہ کا عادی کام۔لہذا نماز پڑھنے،حج کرنے یا کھانا کھانے،پانی پینے پر استخارہ نہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ اس کام کا پورا ارادہ نہ کیا ہو صرف خیال ہو جیسے کوئی کاروبار،شادی بیاہ،مکان کی تعمیر وغیرہ کا معمولی ارادہ ہو اور تردد ہو کہ نہ معلوم اس میں بھلائی ہوگی یا نہیں تو استخارہ کرے۔(لمعات)

۳؎ خاص استخارہ کے لیئے دن میں یا رات میں مکروہ اوقات کے علاوہ میں۔پہلی رکعت میں”قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ”پڑھے دوسری میں”قُلْ ہُوَاللہُ اَحَدٌ”کہ یہ ہی آسان ہے۔(مرقاۃ)

۴؎ یعنی اپنی علم وقدرت کے صدقے مجھے اس کام کے انجام سے بھی خبردار کرے اور اگر خیر ہو تو مجھے اس پر قادربھی کردے۔معلوم ہوا کہ اﷲ کے صفات سے امداد طلب کرنا جائز ہے۔

۵؎ مگر تیرے بتانے سے جانتا ہوں۔(مرقاۃ)یعنی اگر تو مجھے اس کام کا انجام بتادے تو میں بھی جان لوں۔

۶؎ خیال رہے کہ یہاں اﷲ کے علم میں شک نہیں کہ یہ تو کفر ہے،بلکہ شک و تردد اس میں ہے کہ اس کام کی بہتری ا للہ کے علم میں ہے یا بدتری لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں اور الفاظ میں شک راوی کی طرف سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا میں یہ الفاظ فرمائے یا وہ۔اب بہتر یہ ہے کہ پڑھنے والا دونوں الفاظ پڑھ لیا کرے۔

۷؎ یعنی مجھے اس کام پر قدرت بھی دے،اسے آسان بھی کردے اور انجام کار برکت بھی نصیب کر،یہ معنی نہیں کہ میری تقدیر میں لکھ دے کہ تقدیر کی تحریر تو پہلے ہو چکی ہے۔

۸؎ یعنی مجھے اس کام پر قدرت بھی نہ دے اور میرے دل میں اس سے نفرت بھی پیدا فرمادے کہ چھوٹ جانے پر مجھے رنج و غم بھی نہ ہو،پھیرنے کے یہ معنی بہت مناسب ہیں،اس جملے کے اور معانی بھی ہوسکتے ہیں۔

۹؎ یعنی اس شر کام سے بچا کر اس کے عوض کوئی اور خیر کام عطا فرمادے اور اس نکاح یا تجارت سے بچا کر دوسری جگہ نکاح یا دوسرا کاروبار عطا فرما۔

۱۰؎ یعنی ھذا الامر کی جگہ اپنے کام کا نام لے ھذا النکاح یا ھذہ التجارۃ یا ھذہ التعمیرکہے۔حدیث شریف میں ہے جو استخارہ کرلیا کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا اور جو استخارہ کرلیا کرے وہ نادم نہ ہوگا۔اس استخارہ کے بعد پھر جدھر دل متوجہ ہو وہ کرے ان شاءاﷲ کامیابی ہوگی۔بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ اگر سوتے وقت دو رکعتیں پڑھ کر یہ دعا پڑھے،پھر باوضو قبلہ رو ہوجائے تو اگر خواب میں سبزی یا سفیدی جاری پانی یا روشنی دیکھے تو کامیابی کی علامت ہے اور اگر سیاہی یا گدلا پانی یا اندھیرا دیکھے تو ناکامی اور نامرادی کی علامت ہے سات روز یہ عمل کرے ان شاءاﷲ اس دوران میں خواب میں اشارہ ہوجائے گا۔استخارہ کے اور بہت طریقے اس جگہ مرقاۃ نے بیان کیئے فرمایا کہ جسے بہت جلدی ہے تو وہ صرف یہ کہہ لے “اَللّٰھُمَّ خِرْلِیْ وَاخْتَرْلِیْ وَاجْعَلْ لِّیَ الْخَیْر”ان شاءاﷲ اس کام میں خیرو برکت ہوگی۔