{اسلامی عقائد}

اللہ تعالیٰ کی کتابوں پرایمان }

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پراپنا کلام اُتارا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت، حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور، حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل اورنبیوں پر دوسری کتابیں اُتریں ان نبیوں کی اُمتوں نے ان کتابوں کو گھٹا بڑھا دیا مگر ہماراایمان اُن اصلی کتب پر ہے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بدل ڈالا تب سرکارِ اعظم ﷺپر قرآن مجید نازل ہوا اس میں آج تک کوئی ردّو بدل نہیں کرسکا قرآن مجید مکمل ہے جو اس کو نامکمل کہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔

ملائکہ یعنی فرشتوں کا بیان}

فرشتے نوری جسم کی مخلوق ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں انسان کی ہو یاکوئی اورفرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے نہ جان بوجھ کر نہ بھول کراس لئے کہ وہ معصوم ہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سے کام فرشتوں کے سپرد کئے ہیں فرشتے نہ مَرد ہیں نہ عورت اُن کوقدیم ماننا کفر ہے کسی فرشتہ کی ذرہ سی بے ادبی کفر ہے ۔(عالمگیری)

جِن کابیان}

جن آگ سے پیدا کئے گئے ہیں ان میں بعض کو اللہ تعالیٰ نے یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں ۔شریر بد کارجِن کو شیطان کہتے ہیں یہ آدمی کی طرح عقل اور جسم والے ہوتے ہیں ۔کھاتے پیتے، جیتے مرتے اوراولاد والے ہوتے ہیں ان میں کافر، مومن، سُنّی ، بدمذہب ہر طرح کے ہوتے ہیں جِن کا انکار کرنا کفر ہے ۔

موت پرعقیدہ}

القرآن: ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اورہم تمہاری آزمائش کرتے ہیں برائی اوربھلائی سے ، جا نچنے کو، اورہماری ہی طرف تمہیں لوٹ کر آنا ہے ۔(سورہ الانبیاء آیت۳۵)

روح کا جسم سے جُدا ہونے کا نام موت ہے اور یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کا دنیا میں کوئی مُنکر نہیں، ہر شخص کی زندگی مقرر ہے نہ اس میں کمی ہوسکتی ہے اورنہ زیادتی ، موت کے وقت کاایمان معتبر نہیں ، مسلمان کے انتقال کے وقت وہاں رحمت کے فرشتے آتے ہیں جب کہ کافر کی موت کے وقت عذاب کے فرشتے اتر تے ہیں۔

روح کا جسم کے ساتھ تعلق}

مسلمانوں کی روحیں اپنے مرتبے کے مطابق مختلف مقامات پر ہیں بعض کی قبر پر، بعض کی چاہ زمزم میں، بعض کی زمین وآسمان کے درمیان، بعض کی پہلے سے ساتویں آسمان تک ، بعض کی آسمانوں سے بھی بلند، بعض کی زیر عرش قندیلوں میں اور بعض کی اَعْلیٰ عِلّیِیْن میں مگر روحیں کہیں بھی ہوں ان کا اپنے جسم سے تعلق بدستور قائم رہتاہے جوان کی قبر پر آئے وہ اسے دیکھتے پہچانتے اوراس کا کلام سُنتے ہیں بلکہ روح کا دیکھنا قبر ہی سے مخصوص نہیں۔ اس کی مثال حدیث میں یوں بیان ہوئی ہے کہ ایک پرندہ پہلے قفس میں بند تھا اوراب آزاد کردیا گیا۔ آئمہ کرام فرماتے ہیں بے شک جب بعض جانیں بدن کے علاقوں سے جُدا ہوتی ہیں توعالمِ بالا سے مل جاتی ہیں اورسب کچھ ایسا دیکھتی سُنتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں۔

کافروں کی روحیں مرگھٹ یا قبر پر رہتی ہیں۔ بعض چاہ برہوت میں، بعض زمین کے نچلے طبقوں میں ، بعض اس سے بھی نیچے سِجِیّنْ میں، مگر وہ کہیں بھی ہوں اپنے مرگھٹ یا قبر پر گزرنے والوں کو دیکھتے، پہچانتے اوران کی بات سنتے ہیں، ان کو کہیں جانے کا اختیار نہیںہوتا بلکہ یہ قید رہتی ہیں یہ خیال کہ روح مرنے کے بعد کسی اوربدن میں چلی جاتی ہے ۔ اس کا ماننا کفر ہے ۔

مسئلہ : نبی ، ولی ، عالمِ دین ، شہید ، حافظِ قرآن جو قرآن پر عمل بھی کرتا ہو اور جو منصب محبت پر فائز ہے وہ جسم جس نے کبھی گناہ نہ کیا اوروہ جو ہر وقت درود شریف پڑھتا ہے ان کے بدن کو مٹی نہیںکھاسکتی۔ جو شخص انبیاء کرام علیہم السلام کو یہ کہے کہ’’مرکے مٹی میں مل گئے ‘‘وہ گمراہ بددین ، خبیث اورمرتکب توہین ہے ۔

قیامت پر عقیدہ }

بے شک ایک دن زمین وآسمان ، جن وانسان اورفرشتے اوردیگر تمام مخلوق فنا ہوجائے گی اس کا نام قیامت ہے اس کا واقع ہونا حق ہے اوراس کا مُنکر کافر ہے قیامت آنے سے پہلے اس کی کئی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔

دجّال کا آنا}

کانا دجّال ظاہر ہوگا جس کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا وہ حرمین طیبین کے سوا تمام زمین میں پھرے گا، اس کے ساتھ ایک باغ اورایک آگ ہوگی جس کا نام وہ جنت ودوزخ رکھے گا جو اس پرایمان لائے گا اسے اپنی جنت میں ڈالے گا جو کہ درحقیقت آگ ہوگی اوراپنے مُنکر کو دوزخ میں ڈالے گا جو کہ دراصل آرام وآسائش کی جگہ ہوگی۔

نزولِ حضرت عیسیٰ  وحضرت امام مہدی }

جب ساری دنیا پر کفر کا تسلطُّ ہوگا تو تمام ابدال واولیاء حرمین شریفین کو ہجرت کر جائیں گے اس وقت صرف وہیں اسلام ہوگا۔ ابدال طواف کعبہ کے دوران امام مہدی کو پہچان جائیں گے اوران سے بیعت کی درخواست کریں گے وہ انکا ر کردیں گے ۔پھر غیب سے ندا آئے گی ’’یہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ مہدی ہیں ان کا حکم سنو اور اطاعت کرو‘‘سب لوگ آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں گے آپ مسلمانوں کو لے کر ملک شام تشریف لے جائیں گے ۔

جب دجّال ساری دنیا گھوم کر ملک شام پہنچے گا اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام جامع مسجد دمشق کے شرقی مینارہ پر نزول فرمائیں گے اس وقت نماز فجر کے لئے اقامت ہوچکی ہوگی آپ امام مہدی ص کو امامت کا حکم دیں گے اوروہ نماز پڑھائیں گے ۔دجّال ملعون حضرت عیسیٰ ں کے سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا جیسے پانی میںنمک گُھلتا ہے جہاں تک آپ کی نظر جائے گی وہاں تک آپ کی خوشبو پہنچے گی بھاگے گا آپ اس کا تعاقب فرمائیں گے اوراسے بیت المقدس کے قریب مقام لُدْ میں قتل کردیں گے ۔

قیامت کا بیان}

میدانِ حشر ملک شام کی زمین پر قائم ہوگی اورزمین بالکل ہموار ہوگی ۔ اس دن زمین تانبے کی ہوگی اورآفتاب ایک میل کے فاصلے پر ہوگا گرمی کی شدت سے دماغ کھولتے ہوں گے ۔

شفاعت کابیان }

قیامت کا دن پچاس ہزار برس کے برابر ہوگا آدھا دن تو یونہی مصائب وتکالیف میں گزر جائے گا ۔

پھراہلِ ایمان مشورہ کرکے کوئی شفارشی تلاش کریں گے جوان کو مصائب سے نجات دلائے ۔ (مشکوٰۃ )

بخاری ومُسلم شریف کی حدیث کے مطابق جس کا مفہوم یوں ہے کہ لوگ حضرت آدم ں کے پاس سے ہوتے ہوئے بالآخر سرکار ِ اعظم ﷺ کی بارگاہ میںجائیں گے آقا ﷺفرمائیں گے میں اس کام کے لئے ہوں اور سرکارِ اعظم ﷺشفاعت فرمائیں گے ۔

کہیں گے اور نبی اِذْ ھَبُوْ اِلیٰ غَیْرِیْ

میرے کریم ﷺکے لَب پر اَنْا لَھَا ہو گا

جنت کا بیان}

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لئے جنت بنائی ہے اوراس میں وہ نعمتیں رکھی ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا ، نہ کسی کان نے سُنا اورنہ کسی دل میں ان کا خیال آیا۔(بخاری ومُسلم)

جنت کے آٹھ طبقے ہیں }

جنت الفردوس ، جنت عدن ، جنت ماویٰ ، دارالخلد، دارالسلام ، دارالمقامہ، علیین ، جنت نعیم ۔(تفسیر عزیزی)

جنت میں ہر مومن اپنے اعمال کے لحاظ سے مرتبہ پائے گا۔

جہنم کا بیان}

جہنم اللہ تعالیٰ کے قہر وجلال کا مظہر ہے ۔

القرآن: ترجمہ: ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اورپتھر ہیں تیار رکھی ہے کافروں کے لئے۔(البقرہ آیت۲۴)

جہنم میں مختلف وادیاں اورکنوئیں بھی ہیں اوربعض وادیاں توایسی ہیں کہ ان سے جہنم خود بھی ہر روز ستر مرتبہ یااس سے زیادہ بار پناہ مانگتاہے ۔ دنیا کی آگ اس کے ستر اجزاء میں سے ایک جز ہے ۔(بخاری)

دنیا کی آگ اللہ تعالیٰ سے دُعا کرتی ہے کہ وہ اسے پھر جہنم میں نہ لے جائے ، تعجب ہے کہ انسان جہنم میںجانے کے کام کرتاہے اوراس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی پناہ مانگتی ہے ۔ جہنم کی چنگاریاں اونچے اونچے محلوں کے برابر اڑتی ہے جیسے بہت سارے زرد اُونٹ ایک قطار کی صورت میں آرہے ہوں۔(المرسلت: آیت۳۳)