حدیث نمبر 559

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی اوفی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس کو اﷲ سے یا کسی انسان سے حاجت ہو ۱؎ تو وہ اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھ لے پھر اﷲ کی حمد کرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے ۲؎ پھر کہے رب کے سوا کوئی معبود نہیں،حلم والا ہے،کرم والا ہے،اﷲپاک ہے،بڑے عرش کا مالک ہے۳؎ سب تعریفیں جہانوں کے مالک اﷲ کی ہیں الٰہی میں تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری بخشش کے اعمال اور ہر نیکی میں سے غنیمت اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں ۴؎ میرا کوئی گناہ بغیر بخشے اور کوئی غم بغیر دور کیے نہ چھوڑ جو تیری رضا کا باعث ہے مگر اسے پوری کردے اے رحم کرنے والوں سے بڑا رحم کرنے والے۔(ترمذی و ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے ۵؎

شرح

۱؎ خیال رہے کہ حقیقتًا حاجت روا اﷲ تعالٰی ہی ہے لیکن بعض حاجتیں براہ راست اس سے مانگی جاتی ہیں اور بعض کسی مخلوق کے ذریعہ سے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعض بندے حاجت روا ہوتے ہیں اور انہیں مجازی حاجت روا جان کر مشکل کشائی کے لیئے ان کے پاس جانا شرک نہیں۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ حاجت سے مراد دینی دنیاوی ساری حاجتیں ہیں۔

۲؎ اس نماز کا نام نماز حاجت ہے اس کی ترکیب ادا اوربھی وارد ہیں۔

۳؎ عظیم کو کسرہ یعنی زیر بھی پڑھا گیا ہے اور پیش بھی،یعنی اﷲ عظمت والے عرش کا مالک ہے یا عرش کا مالک ہے اور عظمت والا ہے۔

۴؎ یعنی مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جوتیری رحمت کے ملنے کا ذریعہ ہیں اور ایسی توبہ کی ہدایت دے جو تیری مغفرت کا سبب ہے اور مجھے توفیق دے کہ ہر نیک عمل کرسکوں،چونکہ نیکی میں روح اور روح کا شکر،نفس اور نفس کے شکر پر غالب آتا ہے،پھر بندہ نیکی کرتا ہے اس لیئے اسے غنیمت فرمایا گیاکہ اس سے گناہ صغیرہ مراد ہیں کیونکہ گناہ کبیرہ اور حقوق العباد بغیر توبہ اور حق ادا کیئے معاف نہیں ہوتے اور کبیرہ سے مراد اضافی کبیرہ ہیں کیوں کہ گناہ صغیرہ میں بھی بعض گناہ بعض سے بڑے ہوتے ہیں۔اورممکن ہے اس سے مراد ہو کہ نمازتسبیح کی برکت سے اللہ تعالٰی اسے گناہ کبیرہ سے توبہ کی توفیق عطا فرمادے گاجس سے وہ بھی معاف ہوجائیں گے۔

۵؎ کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال اور دعاؤں میں حدیث ضعیف بھی قبول ہے۔