حدیث نمبر 558

روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو بلال کو بلایا فرمایا کہ تم کس وجہ سے جنت میں مجھ پر سبقت لے گئے میں جنت میں کبھی بھی نہ گیا مگر اپنے سامنے تمہاری آہٹ سنی ۱؎ عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم میں نے کبھی اذان نہ کہی مگر دو رکعتیں پڑھ لیں اور مجھے کبھی حدث نہ ہوا مگر اسی وقت میں نے وضو کرلیا ۲؎ اور میں نے سمجھ لیا کہ مجھ پر اﷲ کے لیئے دو رکعتیں لازم ہیں تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہی کی وجہ سے۳؎(ترمذی)

شرح

۱؎ اس کی نہایت نفیس شرح ابھیپہلی فصلمیں گزر چکی۔اس لفظ سےمعلوم ہورہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں بارہا تشریف لے گئے،شب معراج میں جسمانی طور پر اس کے علاوہ روحانی طور پر۔(لمعات)مگر جب بھی تشریف لے گئے حضرت بلال کو خادمانہ طور پر اپنے آگے پایا ایسا ہی ان شاءاﷲ بعد قیامت جنت میں داخلے کے وقت ہوگا۔

۲؎ یعنی میں ہمیشہ باوضو رہتا ہوں اور ہر وضو کے بعد دونفل تحیۃ الوضو اور ہر اذان کے بعد دو رکعتیں تحیۃ المسجد پڑھ لیتا ہوں مگر اس سے مکروہ وقت علیحدہ ہیں جیسے اذان مغرب وغیرہ۔

۳؎ یعنی ان دو رکعتوں یا ان دو عملوں کی وجہ سے تم نے یہ درجہ پایا۔اس سے معلوم ہوا کہ جو کوئی نفلی عبادت کو واجب کی طرح ہمیہ؎ ادا کرے تو اس سے نفل حرام نہیں ہوجاتے جیسے کہ علمائے دیوبندسمجھے۔ہم ہمیشہ جمعہ کے دن کپڑے تبدیل کرتے ہیں،رمضان میں مدارس کا امتحان لیتے ہیں وغیرہ۔