الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر 556

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر نے خبر دی اور ابوبکر سچے ہیں ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایسا کوئی شخص نہیں جو گناہ کرے پھر اٹھے وضو کرلے پھر نماز پڑھے پھر اﷲسے معافی چاہے مگر اﷲ اسے بخش دیتا ہے ۲؎ پھر یہ آیت پڑھی اور وہ لوگ کہ جب برائی کرلیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرڈالیں تو اﷲ کو یاد کریں اور اپنے گناہوں کی معافی چاہیں ۳؎(ترمذی،ابن ماجہ)ابن ماجہ نے آیت کا ذکر نہیں کیا۔

شرح

۱؎ حضرت علی جب کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتے تو ان سے قسم لیتے تھے کہ واقعی تم نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے سوائے ابوبکر صدیق کے ان کے کلام،حافظہ تعبیر و طریقہ ادا پر آپ کو پورا اعتماد تھا،نیز حضرت ابوبکر روایت حدیث میں بہت ہی محتاط تھے اسی لیئے آپ سے روایات بہت کم منقول ہیں اور اسی لیئے فرماتے ہیں کہ ابوبکر سچے ہیں۔

۲؎ اس نماز کا نام نماز توبہ ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس کی پہلی رکعت میں سورۂ کافرون اور دوسری میں سورۂ اخلاص پڑھے یا پہلی رکعت “وَالَّذِیۡنَ اِذَا فَعَلُوۡافٰحِشَۃً”اور دوسری میں”وَمَنۡ یَّعْمَلْ سُوۡٓءًا اَوْیَظْلِمْ نَفْسَہٗ”الا یہ پڑھے۔بہتر ہے کہ نماز سے پہلے غسل کرلے اور دھلے کپڑے پہن لے۔

۳؎ یا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی یا صدیق اکبر نے حدیث کی تائید کے لیئے۔فاحشہ سے مراد گناہ کبیرہ ہیں جیسے کفر و زنا وغیرہ۔اورظلم سے مراد چھوٹے گناہ جیسے عام جھوٹ اور غیبت وغیرہ۔ذکر اﷲسے مراد اﷲ کے عذاب اور اس کی پکڑ کو یاد کرنا ہے یا نماز توبہ دوسرے معنی ظاہر ہیں کیونکہ نماز توبہ کے موقع پر یہ آیت ارشاد فرمائی گئی۔استغفار کی حقیقت یہ ہے کہ مجرم گزشتہ پر نادم ہو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرے،اگر حقوق سے توبہ کرتا ہے تو ادا کردے،گناہ پر قائم رہتے ہوئے منہ سے توبہ توبہ کرنا استغفار کی حقیقت نہیں۔