مسجد ‘آیا صوفیا’

از: اسلم مصباحی

بحث چل رہی تھی کہ میوزیم کو مسجد کیوں بنایا، حالانکہ بات صاف ہے کہ مسجد کی سابق حیثیت کو بحال کیا گیا ہے۔ یہ قضیہ بھی حل ہوا تو اب دوسری بحث چھڑ گئی ہے کہ سلطان فاتح نے ایک کلیسا کو زور بازو سے مسجد کیوں بنایا؟ اور کیا وہ سلطان نے خریدی تھی؟ وغیرہ وغیرہ۔ آخر کے دونوں سوالوں پر بعد میں چرچا کریں گے تاحال اتنا واضح ہو کہ فتح قسطنطنیہ کے بعد سلطان نے مصر،شریف مکہ اور دیگر سلاطین اسلام کی طرف خطوط روانہ کیے جس میں فتح کو اللہ و رسول کے حکم تعمیل بتایا گیا ہے، خط پہنچتے ہی ہر جگہ جشن منایا گیا،منبروں پر سلطان کے لیے دعا کی گئی، شریف مکہ نے نہایت خوشی کا اظہار فرمایا،اور جوابی خط لکھا، لیکن کسی بھی خط میں اس بات پر کوئی تنقید نہیں ملتی کہ ایک کلیسا کو کیوں چھینا، ظاہر ہے اس دور میں یا تب کے اصولوں کے مطابق یہ بحث بے معنی ہی ہوگی۔

فی الحال ہم پہلے شوشے پر چرچا کرتے ہیں، میوزیم کو مسجد میں کیوں بدلا؟ ہرگز نہیں بدلا،مسجد کو مسجد کی حیثیت واپس کی گئی ہے۔ لیکن کیا یہ قانونی طور پر میوزیم قرار دیا گیا تھا۔ اس ڈبیٹ کے دوران نیا موڑ تب آیا جب محمود توپتاس (Mahmud Toptas) سابق امام و مبلغ ‘مسجد آیا صوفیا’ نے کئی حیرت انگیز دعوی کیے،مصطفی کمال کے چند فریبوں کو بھی بے نقاب کیا۔ محمود توپتاس ‘ملی گزٹ’ کے مصنف بھی ہیں، انھوں نے ایک دستاویز پیش کی ہے جو تمام بڑے اخباروں نے چھاپی ہے جس میں مسجد آیا صوفیا کے مالکانہ حقوق کا تذکرہ ہے، دستاویز کے مطابق نومبر 1934 تک مسجد آیا صوفیا کے مالکانہ حقوق ‘عبد الفتح سلطان محمد فاؤنڈیشن’ کے نام ہیں۔ یہی نہیں جمہوریہ ترکی کے تمام بڑے اداروں مثلا ڈائرکٹر جنرل برائے مذہبی امور، سرکاری محافظ خانہ، دفتر برائے اراضی اور مسجد آیا صوفیا پریسیڈنسی میں اس کا مالک ‘سلطان فاؤنڈیشن ہے۔ اور تمام دستاویزوں میں یہ بطور ‘عظیم مسجد آیا صوفیا” مذکور ہے۔ Tapu Senedi نام کی اس سند میں علاقہ،ضلع،فائل نمبر، لے آؤٹ نمبر،جزیرہ نمبر، صحیفہ نمبر، قرب و جوار جیسی تمام تفاصیل درج ہیں جس کو آپ نیچے لنک میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی کی ساتھ محمود توپتاس نے وضاحت کی کہ مسجد سے میوزیم بنانے والے فرمان(Decree) میں کئی جعلی چیزیں ہیں۔ 1-کسی سرکاری آفس میں اس کو شائع نہیں کرایا گیا۔ 2-مصطفی کمال کے فرمان میں K.Kemal کا دستخط ہے جو جعلی ہے۔ 3- مسجد کو میوزیم بنانے کا فرمان 24 نمبر 1934 کو اتاترک کے نام سے چھپا ہے جبکہ ‘اتاترک’ کا عہدہ اسے تین دن بعد یعنی 27 نومبر کو ملا تھا۔