أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ تَقُوۡمَ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ بِاَمۡرِهٖ‌ ؕ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمۡ دَعۡوَةً  ‌ۖ مِّنَ الۡاَرۡضِ ‌ۖ اِذَاۤ اَنۡـتُمۡ تَخۡرُجُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین اور آسمان اس کے حکم سے قائم ہیں ‘ پھر جب تم کو وہ زمین سے بلائے گا تو تو تم فوراً (قبروں سے) باہر نکل آئو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ زمین اور آسمان اس کے حکم سے قاقئم ہیں ‘ پھر جب تم کو وہ زمین سے بلائے گا تو تم فوراً (قبروں سے) باہر نکل آئو گے اور آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کی ملکیت ہے اور سب اس کے اطاعت شعار ہیں اور وہی ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اس کی سب سے بلند صفات ہیں ‘ اور وہی بہت غلبہ اور بہت حکمت والا ہے (الروم : ٢٧۔ ٢٥ )

زمین اور دیگر سیاروں کی حرکت سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال 

زمین اپنے محور پر گردش کررہی ہے اور باقی سیارے بھی اپنے محور پر گردش کررہے ہیں ‘ اور زمین اور سیاروں کی اپنے اپنے محوروں کے ساتھ جو خصوصیت ہے وہ کسی تحصیص مخصص اور ترجیح مرجح کے بغیر نہیں ہوسکتی ‘ اسی طرح افلاک جس وضع کے ساتھ قائم ہیں اس وضع کے لیے کسی مخصص اور مرجح کی ضرورت ہے اور وہ مخصص اور مرجح ممکن نہیں ہوسکتا ورنہ وہ بھی ان ہی کی طرح حادث ہوتا ‘ اس لیے ضروری ہے کہ ان مرجح واجب ہو اور قدیم ہو اور واحد ہو کیونکہ تعدد وجباء محال ہے ‘ پھر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس زمین اور آسمان کو بدل دے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ کی ایک آواز پر تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے باہر نکل آئیں گے :

وہ صرف ایک آواز ہوگی پھر سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیئے جائیں گے۔ (یٰس : ٥٣ )

وہ صرف ایک ڈانٹنے کی آواز ہوگی پھر سب میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ (النزعٰت : ١٤۔ ١٣)

سب اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار ہیں 

زمینوں اور آسمانوں کی ہر چیز اس کی ملکیت ہے ‘ اور ملکیت کسی چیز کو خریدنے سے ہوتی ہے ‘ اس نے اس زمین آسمان کو کسی سے نہیں خریدا ‘ یا ملکیت کسی چیز کے وراثت میں ملنے سے ہوتی ہے ‘ اس کا کوئی مورث نہیں ہے جس کے مرنے کے بعد یہ کائنات اس کو ملی ہو ‘ یا ملکیت کسی چیز کو ہبہ کرنے یا تحفہ میں دینے سے ہوتی ہے اسے کوئی دینے والا نہیں ہے بلکہ وہی سب کو دینے والا ہے ‘ پھر ملکیت کی ایک ہی صورت ہے کہ کسی چیز کے بنانے سے کوئی شخص اس کا مالک ہوتا ہے ‘ سو اس نے اس تمام کائنات کو بنایا ہے سو وہی اس کا خالق اور مالک ہے اور خالق کے لیے ضروری ہے کہ وہ واجب اور قدیم ہو کیونکہ اگر وہ ممکن اور حادث ہوا تو اس کو پھر کسی خالق کی ضرورت ہوگی ‘ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خالق واحد ہو ورنہ تعدد وجباء لازم آئے گا اور یہ محال ہے ‘ اور جب وہ سب کا خالق اور مالک ہے تو سب اس کے مملوک ہوئے اور مملوک کے لیے ضروری ہے کہ وہ مالک کا اطاعت شعار ہو ‘ سو ساری کائنات اس کی اطاعت گزار ہے۔

زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بلند صفات 

توحید کی ان دلیلوں سے واضح ہوگیا کہ اسی نے اس تمام کائنات کو پیدا کیا ہے اور جب وہ اس کائنات کو ایک بار پیدا کرچکا ہے تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیا مشکل ہے ‘ آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی سب سے بلند صفات ہیں ‘ سب سے بلندصفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واجب والوجود ہے اس کی ذات اور اس کی تمام صفات قدیم ہیں ‘ اور وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ آسمانوں میں اور زمینوں میں صرف وہی سب کی عبادت کا مستحق ہے ‘ سب اسی کے محتاج ہیں وہی سب کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے ‘ اسی کو ہر چیز کا علم ہے ‘ غیب اور شہادت میں سے کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے ‘ وہ فعال لما یرد ہے وہ جس چیز کو چاہے ‘ جس کا ارادہ کرے ایک کلمہ کن فرما کر اس کو وجود میں لے آتا ہے ‘ وہحکیم ہے ہر کام کو حکمت سے کرتا ہے وہ اپے کسی فعل پر کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے ‘ اور ہر شخص اس کے سامنے جواب دہ ہے ‘ وہ متکلم ہے اور اس کا کلام حروف سے مرکب نہیں ہے ‘ وہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے ‘ اور ہر بات کو سننے والا ہے اور ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 25