أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِكُمۡ وَاَلۡوَانِكُمۡ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡعٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ‘ بیشک اس میں عالموں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش ہے اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ‘ بیشک اس میں عالموں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں (الروم : ٢٢)

اس خارجی کائنات اور انسان کی زبانوں اور رنگوں کے اختلاف سے توحید پر استدلال 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر وہ نشانیاں بتائی تھیں جو انسان کے اپنے نفس میں ہیں اب اپنی توحید کی وہ نشانیاں بتارہا ہے جو اس خارجی کائنات میں ہیں ‘ اس قدر وسیع او بلند آسمان بنائے اور طویل و عریض زمینیں بنائیں پھر آسمانوں میں بعض ستاروں کو مرکوز اور ثابت کردیا ‘ جو رات کو روشن نظر آتے ہیں اور آسمان کی زینت ہیں۔ اور بعض ستاریرواں اور متحرک بنائے ‘ زمین کو ٹھوس بنایا اس میں پرہیبت پہاڑ نصب کردیئے وسیع و عریض میدان بنائے ‘ گھنے جنگلات بنائے ریت کے ٹیلے بنائے ‘ دریا اور سمندر جاری کردیئے اور نباتات کا سلسلہ قائم کیا ان میں لہلہاتے ہوئے زرخیز کھیت ہیں ‘ پھلوں اور پھولوں کے مہکتے ہوئے باغات ہیں۔ کیا یہ سب چیزیں ازخود وجود میں آگئی ہیں یا چند خدائوں کی اجتماعی سعی کا نتیجہ ہیں تو پھر ان میں ہزار ہا سال سے اس قدر نظم اور تسلسل کیوں ہے ‘ کبھی اختلاف کیوں نہیں ہوتا۔

تم اپنی زبانوں کے اختلاف پر غور کرو عربوں کی زبان اور ہے ‘ افریقیوں کی زبان اور ہے ‘ انگزیزی ‘ جرمن ‘ فارسی اور ہسپانوی زبان اور ہے ‘ کرہ ارض پر بیشمار زبانیں بولی جاتی ہیں ‘ ان زبانوں کا خالق کون ہے ؟ تم اپنے رنگوں پر غور کو ‘ جسمانی ساخت پر سوچو ! کسی کا رنگ دوسرے کے رنگ سے نہیں ملتا ‘ کسی کا چہرہ دوسرے کے چہرے سے نہیں ملتا ‘ حتی کہ کسی کے ہاتھ کی لکیریں دوسرے کے ہاتھ کی لکیروں سے نہیں ملتیں کسی انسان کے انگوٹھے کی لکیریں دوسرے انسان کے انگوٹھے کی لکیروں سے نہیں ملتیں ‘ ہزار ہا سال سے ارب ہا انسان پیدا ہو رہے ہیں اور کسی کا نقش دوسرے کے نقش ‘ رنگ ‘ رنگ سے اور لکیریں ‘ لکیروں سے نہیں ملتیں ‘ اتنی باریکی اور بوقلمونی کس کی تخلیق ہے ! کیا یہ محض اتفاق ہے یا پھر کی مورتیوں کا کارنامہ ہے یا کسی دیوی یا دیوتا کی ضاعی ہے ‘ تم کہتے ہو کہ اس عالم کو بنانے میں خدا کے کچھ شریک ہیں ‘ وہ شریک خود کیوں نہیں کہتے کہ اس عالم کی تخلیق پر کسی فرد واحد کا اجارہ نہیں ہے ‘ اس میں ہمارا بھی حصہ ہے ‘ حضرت آدم سے لے کہ سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ہر نبی کی زبان سے اللہ تعالیٰ یہ کہلواتا رہا ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ اگر واقع میں اس کے کچھ شریک تھے تو انہوں نے اس کا رد کیوں نہیں کیا ‘ وہ بھی اپنا کوئی نمائندہ بھجتے ‘ کوئی آسمانی کتاب نازل کرتے !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 22