أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمۡ بِالَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَابۡتِغَآؤُكُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّسۡمَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہاری نیند ہے اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے ‘ بیشک اس میں غور سے سننے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہاری نیند ہے ‘ اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے ‘ بیشک اس میں غور سے سننے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں (الروم : ٢٣ )

انسان کی نیند اور طلب رزق کی صلاحیت سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر استدلال۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی صفات لازمہ سے اپنی توحید پر استدلال فرمایا تھا اور وہ اس کے رنگوں اور زبانوں کا اختلاف ہے ‘ اور اب اس کی صفات مفارقہ سے اپنی توحید پر استدلال فرمارہا ہے ‘ اور وہ دن اور رات میں انسان کی نیند اور اس کا سونا ہے ‘ دن میں دوپہر کے کھانے کے بعد سونے کو قیلولہ کہتے ہیں اور رات میں عشاء کی نماز کے بعد سونے کو لیولہ کہتے ہیں۔

نیند اور سونے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی نشانی ہے ‘ نیند موت کی بہن ہے جب انسان سوجاتا ہے تو وہ مردہ کی طرح گردوپیش سے بیخبر ہوجاتا ہے اور نیند کے بعد بیدار کرنا ایسے ہے جیسے موت کے بعد زندگی ہے اور اس میں یہ نشانی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں نیند کے بعد بیدار کردیتا ہے ‘ اسی طرح وہ تمہیں موت کے بعد پھر زندہ کردے گا۔

انسان اپنی بقاء حیات کے لیے جو رزق تلاش کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تعبیر فرمایا ہے ‘ جس طرح فرمایا : جب نماز جمعہ ادا کرلی جائے تو تم زمین میں پھیل جائو اور اللہ کے فضل کو تلاش کرو۔ (الجمعہ : ١٠)

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا بیشک اس میں عالموں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں اور اس آیت میں فرمایا ہے میں غور سے سننے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں ‘ کیونکہ بعض ایسی نشانیاں ہوتی ہیں جن کا پتا بغیر غور وفکر کے نہیں چلتا اور بعض ایسی نشانیاں ہوتی ہیں کہ محض توجہ دلانے سے ان کا پتا چل جاتا ہے اور رات اور دن میں سونا اور رزق کی صورت میں اس کے فضل کو تلاش کرنا ایسی ہی نشانی ہے۔

انسان رات اور دن میں نیند کرتا ہے اور برسہا برس سے نیند کررہا ہے تو اس کی نیند کا یہ معمول کس نے بنایا ہے اور تلاش رزق کی جو صلاحیت اس میں ہے یہ کس کی دی ہوئی ہے ‘ اگر انسان ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہ لے تو اس کو یہی کہنا پڑے گا کہ ہزارہا برس سے ارب ہا انسانوں کا یہ معمول اور اس کا فطری نظام صرف اسی خدائے واحد کا پیدا کردہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 23