أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖ يُرِيۡكُمُ الۡبَرۡقَ خَوۡفًا وَّطَمَعًا وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَيُحۡىٖ بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید پر قائم رکھنے کے لیے بجلیوں کی چمک دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے پھر اس سے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کرتا ہے ‘ بیشک اس میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم ڈرانے اور امید پر قائم رکھنے کے لیے بجلیوں کی چمک دکھاتا ہے اور آسمان سے پانی نازل فرماتا ہے ‘ پھر اس سے زمین کے مردہ ہونے کے بعد اس کو زندہ کرتا ہے ‘ بیشک اس میں عقل والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں (الروم : ٢٤ )

زمین کی روئیدگی سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال 

اللہ تعالیٰ کے حکم سے آسمان پر بجلی کوندتی ہے ‘ جسے دیکھ کر کبھی تم دہشت سے خوف زدہ ہوجاتے ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر یا تمہارے کسی سامان پر بجلی گرے اور وہ ہلاک ہوجائے ‘ اور کبھی تم کو یہ امید ہوتی ہے کہ بجلی چمک رہی ہے ‘ اب بارش ہوگی پیاس زمین سیراب ہوگی اور خشک سالی دور ہوجائے گی ‘ اور وہ زمین جس پر کوئی سبزہ نہ تھا بارش کے بد وہ لہلہانے لگتی ہے اور کھیتیاں پھلنے پھولنے لگتی ہیں اور باغوں میں درخت پھلوں سے لد جاتے ہیں اور عقل والے اس نسان سے صاحب نشان تک پہنچتے ہیں کہ ہزاروں برس سے زمین کی سیرابی کا یہی نظام ہے اس میں سرمو کوئی تبدیلی نہیں ہے اور اس نظام کا تسلسل اور اس کی یکسانیت یہ بتاتی ہے کہ اس نظام کا بنانے والا ممکن نہیں ہے واجب ہے ورنہ وہ خود کسی ناظم کا محتاج ہوتا ‘ اور وہ حادث نہیں ہے قدیم ہے اور متعدد نہیں ہے واحد لاشریک ہے ‘ اور اس میں یہ نشانی بھی ہے کہ جس طرح وہ مردہ زمینوں کو زندہ کرتا ہے اسی طرح ایک دن مردہ انسانوں کو بھی زندہ کرے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 24