۱۲۲۔ عن أبی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : بینما نحن عند رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وہو یقسم قسما أتاہ ذوالخو یصرۃ و ہو رجل من بنی تمیم فقال : یا رسول اللہ ! اعدل ، فقا ل: وَ یْلَکَ وَ مَنْ یَّعْدِ لُ اِذَا لَمْ اَعْدِلْ ، قَدْ خِبْتَ وَ خَسِرْتَ اِنْ لَمْ اَکُنْ اَعْدِ لْ ، فَقَالَ عُمَرُ : یَا رَسُو لَ اللّٰہِ! اِئْذَنْ لِی فِیْہِ فَأضْرِبُ عُنُقَہٗ ، فَقَالَ لہٗ : دَعہٗ، فَاِنَّ لہٗ أصْحَابًا یُحَقِّرُأحَدُکُمْ صَلاَتَہٗ مَعَ صَلاَتِہِمْ وَ صِیَامَہٗ مَعَ صِیَامِھِمْ، یَقْرَؤنَ الْقُرْآنَ لاَ یُجَاوِزُ تَرَاقِیْہُمْ، یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقْ السَّہْمِ مِنَ الرَّمِیَّۃِ ، یُنْظَرُ اِلیٰ نَصْلِہٖ فَلاَ یُوجَدُ فِیْہِ شَیٌٔ ، ثُمَّ یُنْظَرُ اِلیٰ رَصَافِہِ فَلَا یُوجَدُ فِیْہٖ شَیٌٔ ، ثُمَّ یُنْظَرُ اِلیٰ نَضِیِّہٖ وَ ہُوَ قِدْ حُہٗ فَلاَ یُوْجِدُ فِیْہٖ شَیٌٔ ،ثُمَّ یَنْظُرُ اِلیٰ قَذَذِہٖ فَلاَ یُوجَدُ فِیْہٖ شَیٌٔ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَ الدَّمَ، آیِتْہِمْ رَجُلٌ اَسْوَدُ اِحْدٰی عَضُدَ یْہٖ مِثْلُ ثَدْیِ الْمَرأۃِ اَوْ مِثْلُ الْبِضْعَۃِ تُدَرْدِرُ ، وَ یَخْرُجُونَ عَلیٰ حِیْنِ فِرْقَۃٍ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ أبُو سَعِیْدٍ : فَاُشْہِدُ اَنِّی سَمِعْتُ ہٰذا الْحَدِیْثَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اُشْہِدُ اَنّ عَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ قَاتَلَہُمْ وَ اَنَا مَعَہٗ فَامَرَ بِذٰلِکَ الرُّجُلِ فَالْتُمِسَ فَأتِیَ بہٖ حَتّی نَظَرْتُ اِلَیْہِ عَلیٰ نَعْتِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ألَّذِیْ نَعَتَہُ ۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے اور سرکار مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے کہ بنو تمیم کا ایک شخص ذو الخو یصرہ نامی حاضر ہوا اور آتے ہی بولا: اے اللہ کے رسول !انصاف کیجئے ، سرکار نے ارشاد فرمایا : خرابی ہو تیرے لئے اگر میں انصاف نہیں کرونگاتو کون کریگا ۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ !مجھے اجازت مرحمت فرمائیں کہ میں اسکی گردن ما ر دوں ۔ حضور نے ارشاد فرمایا :چھوڑ دو کہ اسکے کچھ ساتھی ہونے والے ہیں جنکی نمازوں کے مقابلے میں تم اپنی نمازیں ہیچ جانوگے،انکے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے ، قرآن کریم پڑھیں گے لیکن انکے حلق کے نیچے نہیں اتریگا ، دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ کو پار کر کے نکل جاتا ہے ، جب تیر کے پھل کو دیکھا جاتا ہے تو اس پر کوئی بھی اثر نہیں ہوتا ، پھر اسکے پر کو دیکھا جاتا ہے تو اس پر بھی کوئی علامت نہیں ہوتی، شکار کے گوبر اور خون سے تیر کا کوئی حصہ آلودہ نہیں ہوتا ۔ (یعنی نہایت تیزی سے تیر صاف نکل جاتا ہے اسی طرح یہ لوگ بھی دین سے صاف نکل جائیں گے )انکی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں سے ایک شخص سیاہ رنگ کا ہوگا جس کے ایک بازو پر عورت کے پستان کی طرح غدود ہوگا جو چلنے کی حالت میں ہلتا ہوگا ، ان لوگوں کا خروج اس وقت ہوگا جب لوگوں میں اختلاف و افتراق ہوگا ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور سے یہ حدیث سنی ،اور اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے ان سے قتال فرمایاا ور میں انکے ساتھ تھا ۔ حضرت علی نے اس آدمی کو تلاش کرنے کا حکم دیا، جب لایا گیا تو اس میں وہ تمام نشانیاں موجود تھیں جو حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھیں ۔ ۱۲م

]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

ہاں واقعی یہ لوگ وہابیہ نجدیہ دیوبندیہ وغیرمقلدین ان پرانے خوارج کے ٹھیک ٹھیک بقیہ و یاد گار ہیں ۔ وہی مسئلے، وہی دعوے ،وہی انداز ، وہی وطیرے ۔خارجیوں کا داب تھا کہ اپنا ظاہر اس قدرمتشرع بناتے کہ عوام مسلمین انہیں نہایت پابند شرع جانتے۔ پھر بات بات پر عمل بالقرآ ن کا دعوی ،عجب دام در سبزہ تھا ، اور مسلک وہی کہ ہم مسلمان ہیں باقی سب مشرک ۔

یہ ہی رنگ ان حضرات کے ہیں ، آپ موحد اور سب مشرکین ،آپ محمدی اور سب بددین ،آپ عامل بالقرآن و الحدیث اور سب چنیں و چناں بزم خبیث ۔پھر انکے اکثر مکلبین ظاہری پابند شرع میں بھی خوارج سے کیاکم ہیں ۔ اہل سنت کا ن کھول کر سن لیں کہ دھوکے کی ٹٹی میں شکار نہ ہوجائیں ۔

پھر شان خدا کہ ان مذہبی باتوں میں خارجیوں کے قدم بقدم ہونا درکنار خارجی بالائی باتوں میں بھی بالکل یک رنگی ہے ۔ انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۲۲۔ الجامع الصحیح للبخاری، ، ۱/۵۱۰ ٭ الصحیح للمسلم ، ۱/۳۴۱