آیا صوفیا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث صحابہ کرام میں گردش کر رہی تھی :”تم قسطنطنیہ کو ضرور فتح کر لو گے ،رحمت ہو اس بادشاہ اور اس لشکر پر جس کے ہاتھوں یہ فتح نصیب ہو “۔ لہذا قسطنطنیہ پر قبضے کی کوششیں حضرت امیر معاویہ کے زمانے ہی سے شروع ہو گئ تھیں، قسطنطنیہ پر سب سے زیادہ حملے اموی دور میں ہوئے ،دو بار قسطنطنیہ کا محاصرہ عباسی دور میں کیا گیا ،تین بار یہ محاصرہ اور حملہ عثمانی دور میں، محمد فاتح سے پہلے ہوئے ۔یہاں تک کے ساتویں عثمانی سلطان محمد فاتح نے 29۔مئ 1453ء کو قسطنطنیہ ایک طویل محاصرے اور شدید جنگ کے بعد فتح کر لیا اس وقت نوجوان فاتح کی عمر صرف 22 سال تھی۔

یہ پندرھویں صدی عیسوی کے وسط کا واقعہ ہے، اس وقت کے اصول صلح و جنگ میں یہ طے تھا ( بلکہ اسلامی فقہ کے مطابق بھی تھا )کہ کسی بھی علاقے پر قبضے کی دو صورتیں تھیں ۔

1۔۔۔۔وہ علاقہ/شہر/ملک صلح سے فتح ہو ۔ ایسا اس وقت ہوتا جب کوئی حملہ آور فوج کسی شہر یا قلعے کے پاس پہنچتی تو اہل شہر مدافعت کی طاقت نہ پاتے ہوئے حملہ آور فوج سے مذاکرات کرتے کہ تم ہمارا شہر کچھ شرائط کی بنیاد پر لے لو، ہم جنگ نہیں چاہتے۔ فریقین میں کچھ شرائط پر معاہدہ طے پا جاتا ۔جس کی پاسداری فریقین کو کرنی پڑتی ۔عام طور پر یہ شرائط طے ہوتے کہ فاتح قوم پوری آبادی کو امان دے گی ۔۔۔۔۔ان کے معابد سے تعرض نہیں کرے گی وغیرہ وغیرہ ۔

جیسا کہ بیت المقدس کی فتح میں ہوا تھا ۔اسلامی فوج شام کے مختلف علاقے فتح کرتی ہوئی جب فلسطین پہنچی تو اہل فلسطین نے مسلمانوں سے کہا کہ ہم شہر حوالے کرنے پر تیار ہیں، بشرطیکہ صلح نامہ لکھنے کے لئے تمھارے خلیفہ ہمارے پاس آئیں ۔حضرت عمر مدینہ سے فلسطین پہنچے ۔۔۔۔معاہدہ طے پا گیا کہ اہل شہر کی جان و مال سے تعرض نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں مکمل امان حاصل ہو گی ۔۔۔۔وہ اپنی پیداوار پر اتنا ٹیکس حکومت کو دیں گے ۔۔۔۔اور ان کے معبد سے تعرض نہیں کیا جائے گا البتہ انہیں نئے کنیسہ بنانے کی اجازت نہیں ہو گی وغیرہ

یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل نہیں کی گئ، حضرت عمر نے وہاں نماز بھی نہیں پڑھی کی صلح نامے کی پاسداری مطلوب تھی ۔

2۔۔۔۔۔۔دوسرا جنگی قاعدہ یہ تھا کہ فریقین جنگ ہی کریں ۔ایسی صورت میں جو ہار گیا اب اس کے پاس کسی بات کا کوئی اختیار نہیں رہ گیا ۔جو فاتح رہا، اب یہ اس کی صوابدید ہے کہ اسیروں کو غلام بنا کر بیچ دیں یا رہا کر دیں ۔انہیں امان دیں یا نہ دیں ۔۔۔۔ان کے معابد قائم رہنے دیں یا نہ رہنے دیں ۔

اس بات کو ذہن میں رکھئے کہ یہ پندرھویں صدی عیسوی کا وسط ہے، اس سے قبل تیرھویں صدی عیسوی میں مسلمانان اندلس کے ایک ایک شہر پر رفتہ رفتہ عیسائی فوجیں قبضہ کر چکی تھیں، سب سے پہلے انہوں نے طلیطلہ فتح کیا ۔۔۔۔وہاں کی عظیم الشان جامع مسجد کو گرجا میں بدل دیا گیا ۔اس کے بعد قرطبہ 1236ء میں فتح ہو گیا اور وہاں کی شاندار مسجد قرطبہ کو کنیسہ کا درجہ دے دیا گیا ۔یہ وہی مسجد ہے جس کے لئے اقبال نے کہا تھا

سلسلہ روز وشب نقش گر حادثات

سلسلہ روز وشب ،اصل حیات و ممات

سلسلہ روز وشب، تار حریر دو رنگ

جس سے بناتی ہے ذات،اپنی قبائے صفات

۔یہی اندلس کی دوسری مسلم ریاستوں کے ساتھ ہوا، یہاں تک کہ 1492میں غرناطہ فتح اور وہاں کی شاندار مساجد(ایک نہیں تمام مساجد )کو یا بند کر دیا گیا یا کنیسہ میں تبدیل کر دیا گیا ۔

ایسا نہیں ہے کہ ان کے انتقام میں محمد فاتح نے آیا صوفیا کو مسجد بنا دیا، کہ عیسائیوں نے ایسا کیا تو اب ہم بھی ایسا ہی کریں گے ۔بلکہ اسپین کی مثال سے یہ بتانا مقصود ہے کہ قرن وسطی میں اصول جنگ یہی تھے ۔

قسطنطنیہ کی فتح کے تین دن بعد جب جمعہ کے دن محمد فاتح قسطنطنیہ میں داخل ہوا تو جمعہ کے انعقاد کے لئے آیا صوفیا گیا، وہیں جمعہ منعقد ہوا اور آیا صوفیا کو مسجد کی حیثیت حاصل ہو گئ ۔ چند روز قسطنطنیہ میں ٹہر کر اور وہاں ایک انتظامیہ بنا کر محمد فاتح واپس برصہ چلا گیا، جو اس کا دارلحکومت تھا ۔

فیس بک پر کچھ کاغذات دکھائے جا رہے ہیں کہ ایاصوفیا کو محمد فاتح نے عیسائی پادریوں سے خرید لیا تھا، یہ بات logical نہیں ۔ایک ایاصوفیا کیا جب پورا قسطنطنیہ ہی قبضے میں آ گیا تھا ،اور ہر چیز سے عیسائیوں کی حق ملکیت کا خاتمہ ہو چکا تھا تو وہ کسی چیز کی خرید و فروخت کی پوزیشن ہی میں نہیں تھے ۔

1453ء سے1934 تک ایا صوفیا مسجد رہی ۔1934 میں مصطفے کمال پاشا کی کابینہ نے اسے میوزیم کی شکل دے ۔دی ۔2020میں رجب طیب اردگان نے اس میوزیم سے دوبارا مسجد بنا دیا، یہ فیصلہ ترکی کی اعلی عدالت نے کیا ہے ۔ عالمی طاقتوں یعنی روس، امریکہ،اور مسیحی دنیا کا اردگان پر بڑا دباو تھا کہ وہ ایسا نہ کرے ۔ اردگان نے وہی کیا جو اسے کرنا چائیے تھا ۔ترکی اپنے اندرونی معاملات میں آزاد ہے ۔کیا آزاد ملکوں کو اپنی داخلہ بلکہ خارجہ پالیسی بھی ان استعمار پسند ممالک سے پوچھ کر طے کرنی پڑے گی؟

اردگان نے یہ بیان بھی دیا ہے کہ ایاصوفیا مسجد سب کےلئے کھلی ہوئی ہے ۔یہاں عیسائ اور دیگر غیر مسلم سب آ سکتے ہیں ۔

بات یہ ہے کہ استعماری طاقتوں کے خریدنے کے پیمانے اور ۔۔۔۔بیچنے کے اور ہیں ۔وہ کشمیر کے مسئلے کو ہندوستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہیں اور ایاصوفیا کے معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں ۔

(نگار سجاد ظہیر )