أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَهۡوَآءَهُمۡ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ‌ۚ فَمَنۡ يَّهۡدِىۡ مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ ‌ؕ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

بلکہ ظالموں نے بغیر علم کے اپنی خواہش کی پیروی کی ‘ سو جس کو اللہ نے گمراہ کردیا ہو اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے ‘ اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ ظالموں نے بغیر علم کے اپنی خواہش کی پیروی کی ‘ یعنی کفارجوبت پرستی کرتے ہیں اور بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہیں یہ کسی دلیل کی بناء پر نہیں ہے بلکہ کفار اپنی خواہش سے ان بتوں کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے آبائو اجداد کی اندھی تقلید میں ان کی پرستش کرتے ہیں۔

نیز فرمایا : سو جس کو اللہ نے گم راہ کردیا ہو اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے ! بعض لوگ اس پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب مشرکین کو اللہ نے گم راہ کیا ہے تو پھر ان کی گم راہی میں ان کا کیا قصور ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے شرک پر اصرار کرتے ہوئے ضد اور عناد میں ایسے گستاخانہ کلمات کہے کہ اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر کفر کی مہر لگادی جیسا کہ قرآن مجید میں دوسرے مقام پر ہے :

بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔ (النساء : ٥٥ )

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 29