أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ضَرَبَ لَكُمۡ مَّثَلًا مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ هَلْ لَّكُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ شُرَكَآءَ فِىۡ مَا رَزَقۡنٰكُمۡ فَاَنۡتُمۡ فِيۡهِ سَوَآءٌ تَخَافُوۡنَهُمۡ كَخِيۡفَتِكُمۡ اَنۡفُسَكُمۡ‌ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اللہ نے تمہارے لیے تم میں سے (ہی) ایک مثال بیان فرمائی ‘ کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس رزق میں شریک ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے ‘ کہ تم اور وہ (غلام) اس (رزق) میں برابر ہوں ‘ تم کو ان سے اس طرح خوف ہو جس طرح تم کو اپنے ہم مثلوں سے خوف ہے ‘ ہم عقل والوں کے لیے اسی طرح تفصیل سے آیات بیان فرماتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ نے تمہارے لیے تم میں سے (ہی) ایک مثال بیان فرمائی ‘ کیا تمہارے غلاموں میں سے کوئی تمہارا رزق میں شریک ہے جو ہم نے تم کو دیا ہے کہ تم اور وہ (غلام) اس (رزق) میں برابر ہوں ‘ تم کو ان سے اس طرح خوف ہو جس طرح تم کو اپے ہم مثلوں سے خوف ہے ‘ ہم عقل والوں کے لیے اسی طرح تفصیل سے آیات بیان فرماتے ہیں بلکہ ظالموں نے بغیر علم کے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ‘ سو جس کو اللہ نے گمراہ کردیا ہو اس کو کون ہدایت دے سکتا ہے اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہے (الروم : ٢٩۔ ٢٨ )

انسان اپنے نوکروں کو اپنا شریک کہلوانا پسند نہیں کرتا تو وہ اللہ کی مخلوق کو اس کا شریک کیوں کہتا ہے 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کے ابطال پر متعدد دلائل قائم فرمائے تھے اور اب ان آیتوں میں شرک کے رد پر ایک واضح حسی دلیل بیان فرما رہا ہے ‘ اس مثال کا معنی یہ ہے کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس کو پسند کرتا ہے کہ جو شخص اس کا نوکر اور غلام ہو وہ اس کے مال اور کاروبار میں شریک کہا جائے تو تم اللہ کے مملوک اور اس کی مخلوق کو اللہ کا شریک کیوں کہتے ہو اور جو چیز تمہیں اپنے لیے ناپسند ہے اس کو اللہ کے لیے پسند کیوں کرتے ہو ! پھر فرمایا تم کو ان سے اس طرح خوف ہو جس طرح تم کو اپنے ہم مثلوں سے خوف ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ کیا تم اپنے لاموں اور نوکروں سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم آزاد لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے ہو یعنی جس طرح تم مشترکہ کاروبار یا مشترکہ املاک میں تصرف کرتے ہوئے ڈرتے ہو کہ دوسرے شرکاء تم سے باز پرس کریں گے کہ تم نے ان کو بتائے بغیر کیوں تصرف کیا ‘ کیا تم اپنے نوکروں اور غلاموں سے بھی اسی طرح ڈرتے ہو ‘ یعنی نہیں ڈرتے کیونکہ جب تم نے اپنے نوکروں اور غلاموں کو اپنے کاروبار اور املاک میں شریک بنایا ہی نہیں تو پھر ان سے ڈرنے کا کیا سبب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 28