حکایت نمبر:351 چاندی کے بد لے سونا

حضرتِ سیِّدُنا احمد بن فَیْض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ” حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم بیت ُ المقدس جانا چاہتے تھے۔ آپ کی رفاقت کے خواہش مند ایک نوجوان نے عرض کی: ”حضور! میں چاہتا ہوں کہ آپ کے ہمراہ بیتُ المقدس جاؤں۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی درخواست منظور کرتے ہوئے فرمایا:”آؤ! پہلے ہم حجامت کروالیں پھر سفر پر روانہ ہوں گے۔ ” چنانچہ، دونوں حجام کے پاس گئے حجامت کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے نوجوان سے فرمایا:” اے نوجوان ! تیرے پاس کتنا زادِ راہ ہے ؟” عرض کی:” حضور !اٹھارہ(18)درہم ہیں۔” فرمایا:” یہ سب حجام کو دے دو۔” نوجوان نے حکم کی تعمیل کی پھر دونوں اپنی منزل کی طرف چل دیئے ۔ راستے میں نوجوان نے کہا:” حضور !اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حجام کو کم رقم دلوا دیتے اور کچھ ہم اپنے پاس رکھ لیتے تو ا س میں کیا حرج تھا ؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے جانبِ منزل چلتے رہے۔ بیت المقدس پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مسجد کے خادم سے کہا : ”کیا یہاں کوئی ایسا شخص ہے جو اپنی کھیتی کٹوانا چاہتا ہو؟ ہم دونوں اجرت پر فصل کاٹنے کے لئے تیار ہیں ؟” خادم نے کہا:” حضور!ایک نصرانی جاگیردار کے علاوہ میں کسی اور زمیندار کو نہیں جانتا، اگر کہیں تو اس کے پاس لے چلتا ہوں ؟ ” فرمایا:” ٹھیک ہے، ہمیں اس کے پاس لے چلو ۔”

تینوں اس نصرانی جاگیر دار کے پاس پہنچے اور آنے کا مقصد بیان کیا۔نصرانی جاگیردار نے اپنے کھیت دکھائے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اس کی کٹائی پر ہمیں کتنی اجرت ملے گی؟” کہا:” ایک دینار۔” فرمایا:” ٹھیک ہے، ہم فصل کاٹنے کے لئے تیار ہیں ، تُو ایک دینار مسجد کے خادم کے حوالے کر دے، کام مکمل ہونے پر یہ ہمیں دے دے گا ۔ ” نصرانی نے ایک دینار مسجد کے خادم کے حوالے کر دیا۔ رات نے اپنے پر پھیلا دیئے تھے لیکن چو دھویں رات کے چاندکی اُجلی اُجلی روشنی نے ہر طرف اُجالا بکھیر رکھا تھا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے رفیق سے فرمایا:” ا ے جوان! میں نماز پڑھوں اور تم فصل کاٹو یا تم نماز پڑھو اور میں فصل کاٹو ں، بتاؤ !تمہیں کون سی بات پسندہے؟” نوجوان نے نماز کی حامی بھرلی اور نماز پڑھنے لگا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لے کر فصل کاٹنا شروع کی اور صبح تک کاٹتے رہے جبکہ نوجوان نماز میں مشغول رہا۔ فراغت کے بعد جاگیر دار کے پاس پہنچ کر کہا:” ہم نے اپنا کام ختم کر دیا ہے۔” 

جاگیر دار بڑا حیران ہو اکہ اتنی جلدی اتنی ساری فصل کس طر ح کاٹ لی ۔ اس نے متعجب ہوکر کہا :” تم نے ضرور کھیتی خراب کردی ہوگی ورنہ اتنی جلدی تم کام سے کیسے فارغ ہوسکتے ہو؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” تو جاکر اپنی فصل دیکھ لے تاکہ تجھے اطمینان ہو جائے۔” وہ گیا تو دیکھا کہ بہت اَحسن طریقے سے فصل کاٹی گئی ہے، جب وہ مطمئن ہوگیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” مسجد کے خادم سے کہو کہ ہماری اُجرت ہمیں دے دے ۔” جاگیردار نے مسجد کے خادم سے کہا:” ان کی اُجرت ان کے حوالے کردو۔” جب خادم دینار دینے لگا توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” یہ دینار(یعنی سونے کی اشرفی)میرے رفیق کو دے دو کہ اس نے حجام کو اٹھارہ(18)درہم(یعنی چاندی کے سکے)دیئے تھے۔”چنانچہ، خادم نے وہ دینا رنوجوان کو دے دیا ۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیسے خوددار اورباکرامت ہوا کرتے تھے ہمارے اسلاف رحمہم اللہ تعالیٰ ۔ اس نوجوان کے دل میں جب یہ بات آئی کہ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اَ دْہَم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم نے حجام کو اتنی رقم کیوں دلوائی؟توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کوچاندی کے اٹھارہ سکّوں کے بدلے سونے کی اشرفی عطا فرمادی تا کہ اسے اپنے مال کامَلال نہ ہو۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہمیشہ حلال رزق کماتے، خود کم کھاتے لیکن دوسروں کی بہت امداد فرماتے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے صدقے ہمیں بھی اتنارزقِ حلال عطا فرمائے کہ حرام کی طرف ہماری نظر ہی نہ اُٹھے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)