وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ(۸۴)

اور جس دن (ف۱۹۰) ہم اٹھائیں گے ہر امت میں سے ایک گواہ (ف۱۹۱) پھر کافروں کو نہ اجازت ہو (ف۱۹۲) نہ وہ منائے جائیں (ف۱۹۳)

(ف190)

یعنی روزِ قیامت ۔

(ف191)

جو ان کی تصدیق و تکذیب اور ایمان و کُفر کی گواہی دے اور یہ گواہ انبیاء ہیں علیہم السلام ۔

(ف192)

معذرت کی یا کسی کلام کی یا دنیا کی طرف لوٹنے کی ۔

(ف193)

یعنی نہ ان سے عتاب و ملامت دور کی جائے ۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ(۸۵)

اور ظلم کرنے والے (ف۱۹۴)جب عذاب دیکھیں گے اسی وقت سے نہ وہ ان پر سے ہلکا ہو نہ انہیں مہلت ملے

(ف194)

یعنی کُفّار ۔

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَۚ-فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ(۸۶)

اور شرک کرنے والے جب اپنے شریکوں کو دیکھیں گے (ف۱۹۵) کہیں گے اے ہمارے رب یہ ہیں ہمارے شریک کہ ہم تیرے سوا پوجتے تھے تو وہ ان پر بات پھینکیں گے کہ تم بےشک جھوٹے ہو (ف۱۹۶)

(ف195)

بُتوں وغیرہ کو جنہیں پوجتے تھے ۔

(ف196)

جو ہمیں معبود بتاتے ہو ہم نے تمہیں اپنی عبادت کی دعوت نہیں دی ۔

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَىٕذِ ﹰالسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(۸۷)

اور اس دن (ف۱۹۷) اللہ کی طرف عاجزی سے گریں گے (ف۱۹۸) اور ان سے گم ہوجائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے(ف۱۹۹)

(ف197)

مشرکین ۔

(ف198)

اور اس کے فرمانبردار ہونا چاہیں گے ۔

(ف199)

دنیا میں بُتوں کو خدا کا شریک بتا کر ۔

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ(۸۸)

جنہوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا ہم نے عذاب پر عذاب بڑھایا (ف۲۰۰) بدلہ ان کے فساد کا

(ف200)

ان کے کُفر کا عذاب اور دوسروں کو خدا کی راہ سے روکنے اور گمراہ کرنے کا عذاب ۔

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِؕ-وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠(۸۹)

اور جس دن ہم ہر گروہ میں ایک گواہ انہیں میں سے اٹھائیں گے کہ ان پر گواہی دے (ف۲۰۱) اور اے محبوب تمہیں ان سب پر (ف۲۰۲) شاہد بناکر لائیں گے اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے (ف۲۰۳) اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو

(ف201)

یہ گواہ انبیاء ہوں گے جو اپنی اپنی اُمّتوں پر گواہی دیں گے ۔

(ف202)

اُمّتوں اور ان کے شاہدوں پر جو انبیاء ہوں گے جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلیٰ ھٰؤُلَۤا ءِ شَھِیْداً ۔ (ابوالسعو د و غیرہ)

(ف203)

جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا ”مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْئٍ” اور ترمذی کی حدیث میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش آنے والے فتنوں کی خبر دی ، صحابہ نے ان سے خلاص کا طریقہ دریافت کیا ، فرمایا کتاب اللہ میں تم سے پہلے واقعات کی بھی خبر ہے ، تم سے بعد کے واقعات کی بھی اور تمہارے مابین کاعلم بھی ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے فرمایا جو علم چاہے وہ قرآن کو لازم کر لے ، اس میں اولین و آخرین کی خبریں ہیں ۔ امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ اُمّت کے سارے علوم حدیث کی شرح ہیں اور حدیث قرآن کی اور یہ بھی فرمایا کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کوئی حکم بھی فرمایا وہ وہی تھا جو آپ کو قرآنِ پاک سے مفہوم ہوا ۔ ابوبکر بن مجاہد سے منقول ہے انہوں نے ایک روز فرمایا کہ عالَم میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کتاب اللہ یعنی قرآن شریف میں مذکور نہ ہو اس پر کسی نے ان سے کہا سراؤں کا ذکر کہاں ہے ؟ فرمایا اس آیت ” لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتاً غَیْرَ مَسْکُوْنَۃٍ فِیْھَا مَتَاعٌ لَّکُمْ الخ” ابنِ ابو الفضل مرسی نے کہا کہ اولین و آخرین کے تمام علوم قرآنِ پاک میں ہیں ۔ غرض یہ کتاب جامع ہے جمیع علوم کی جس کسی کو اس کا جتنا علم ملا ہے اتنا ہی جانتا ہے ۔