فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ۫-وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۲۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: تو کیسی ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے اس دن کے لئے جس میں شک نہیں اور ہر جان کو اس کی کمائی پوری بھر دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں اس دن کے لئے اکٹھا کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو اس کی پوری کمائی دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

{فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ:تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں اکٹھا کریں گے۔} یہاں من گھڑت امیدوں کی سواری پر بیٹھ کر خیالات کی دنیا میں سیاحت کرنے والوں کی بات ہورہی ہے جو عقیدۂ صحیحہ سے لاتعلق اور اعمالِ صالحہ سے دور ہونے کے باوجود خواب و خیال میں اپنے آپ کو جنت کے بلند و بالا محلات میں قیام پذیر سمجھتے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن ان لوگوں کی کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں جمع کریں گے اور جب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔