۱۲۵۔ عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : تَقَرَّبوُا اِلیَ اللّٰہِ بِبُغْضِ أہْلِ الْمَعَاصِی وَ الْقُوْہُمْ بِوُجُوْہٍ مُکَفْہَرَۃٍ ، وَ الْتَمِسُوا رِضًا اللّٰہِ بِسَخَطِہِمْ ، وَتَقَرَّبُوا اِلیَ اللّٰہِ بِالتَّبَاعُدِعَنْہُمْ ۔فتاوی رضویہ ۳/۲۹۴

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف تقرب کرو فاسقوں کے بغض سے ، اور ان سے ترش رو ہو کر ملو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی انکی خفگی میں ڈھونڈو، اور اللہ تعالیٰ کی نزدیکی ان کی دوری سے چاہو۔

]۳[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

جب فساق کی نسبت یہ احکام ہیں تو مبتدعین کا کیا پوچھنا ہے کہ یہ تو فساق سے ہزاردرجہ بد تر ہیں ، ان کی نافرمانی فروع میں ہے، انکی اصول میں ، وہ گناہ کرتے اور اسے براجانتے ہیں ،یہ اس سے اشد و اعظم میںمبتلا اور اسے عین حق و ہدی جانتے ہیں، وہ گاہ گاہ نادم ومستغفر۔ یہ گاہ و بے گاہ مصر و مستکبر، وہ جب اپنے دل کی طرف رجوع لاتے ہیں تو اپنے آ پ کو حقیر و بد کار اور صلحاء کو عزیزومقرب دربار بتاتے ہیں۔ یہ جتنا غلوو توغل بڑھاتے ہیں اتنا ہی پنے نفس مغرور کو اعلی و بالا اور اہل حق و ہدایت کو ذلیل و پر خطا ٹھہراتے ہیں ۔ لہذا حدیث میںانکی نسبت بد ترین خلق وارد ہوا ۔

غنیۃ شرح منیہ میں ہے

المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد ہو اشد من الفسق من حیث العمل۔ لان الفاسق من حیث العمل یعترف بانہ فاسق و یخاف و یستغفر بخلافالمبتدع۔

بالجملہ بدمذہبی فی نفسہ ایسی چیز ہے جسے امامت دینی سے مباینت یقینی اور اسکے بعد منع پر دوسری دلیل کی چنداں ضرورت نہیں ۔ کس کا دل گوارہ کریگا کہ جہنم کے کتوں سے ایک کتامناجات الہی میں اسکا مقتداہو ۔

بحرالعلوم عبدالعلی لکھنوی نے ارکان اربعہ میں دربارئہ تفضیلہ فرمایا :

اما الشیعۃ الذین یفضلون علیا علی الشیخین و لا یطعنون متہما اصلاکالزیدیۃ فتجوز خلفہم الصلوۃ لکن تکرہ کراہۃ شدیدۃ ۔

لیکن وہ شیعہ جو حضرت علی کو حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر فضیلت دیتے ہیں اور شیخین پر طعن نہیں کرتے جیسے فرقہ زیدیہ ، تو انکے پیچھے نماز سخت کراہت کے ساتھ جائز ہے۔

جب تفضیلہ کہ صرف جناب مولی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کو حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر افضل کہنے سے مخالف اہل سنت ہوئے باقی معاذ اللہ انکی سرکارمیں گستاخی نہیں کرتے ۔ انکے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔تو یہ اشد مبتدعین جن کی اہل سنت سے مخالفتیں غیر محصور ، اور محبوبان خدا پر طعن و تشنیع ان کا دائمی دستور ، انکے پیچھے کس عظیم درجہ کی کراہتچاہئیے ؟ فتاوی رضویہ ۳/۲۹۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۲۵۔کنز العمال للمتقی، ۵۵۱۸، ۳/۶۵