تیرے اعمال و کردار تیرے لیے

دنیا میں قوموں کا عروج و زوال ان کے بدلتے کردار سے تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے …

اللہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے

اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ‌ؕ

سورۃ الرعدآیت نمبر 11

ترجمہ:

خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے………..

مضبوط کردار سے قومیں عروج پاتی ہیں اور کمزور کردار سے پستی میں چلی جاتی ہیں…

اور ہم مسلمان بھی اس وقت پستی میں گرے ہوئے ہیں..

اُن میں سے دو مرکزی اسباب

پہلا سبب:

آپسی اختلاف وانتشار ہے….

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے.

سورۃ نمبر 8 الأنفالآیت نمبر 46

وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ‌ وَاصۡبِرُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور خدا اور اس کے رسول کے حکم پر چلو اور آپس میں جھگڑا نہ کرنا کہ (ایسا کرو گے تو) تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا (اقبال؛رعب) جاتا رہے گا اور صبر سے کام لو۔ کہ خدا صبر کرنے والوں کا مددگار ہے…

دوسرا سبب…

غرور وتکبر؛ تفاخر یہ بھی بہت بری چیزہے،

اگر اللہ تعالیٰ نے جان ومال، طاقت، حکومت؛ عہدہ؛ علمی مرتبہ کی نعمت دی ہے؛ تو اس پر اترانا مت!

قرآن کریم

اِنَّ قَارُوۡنَ كَانَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰى فَبَغٰى عَلَيۡهِمۡ‌ۖ وَاٰتَيۡنٰهُ مِنَ الۡكُنُوۡزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوۡٓاُ بِالۡعُصۡبَةِ اُولِى الۡقُوَّةِ اِذۡ قَالَ لَهٗ قَوۡمُهٗ لَا تَفۡرَحۡ‌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡفَرِحِيۡنَ ۞

سورۃ القصص آیت نمبر 76

ترجمہ:

قارون موسٰی علیہ السلام کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی(دشمنی) کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اِترائیے مت۔ کہ خدا اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا……

اللہ تعالی نے قارون کو زمین میں دھنسا دیا وہ تا قیامت زمین میں دھنستا ہی رہے گا…

اور پھر شیطان کا علمی عملی مقام ذہن میں رکھیں اور اپنے آپ کو تکبر و غرور سے بچا کر رکھیں…

عوام ان امراض کا شکار ہوں تو سمجھ آتی ہے جہالت اس کا سبب ہو گا.

سوال؟

اگر اہل علم ہی انہی امراض میں مبتلا ہوں تو پھر عوام کا کیا حال ہو گا….

جواب!

میرا جواب یہ ہو گا

علماء سے مسئلہ سنیں جس کے علم اور تقویٰ پر دل جم جائے اس پر اعتقاد قائم فرمائیں….

لیکن اپنے نظریے کے مخالف اہل علم کو برا بھلا کہنا آپ کے عقیدے میں سے نہیں….

اس بات کو سمجھنا ہے تو قرآن کریم پڑھ لیجئے

القرآن

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدۡوًاۢ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ‌ؕ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمۡ ۖ

ترجمہ:

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بغیر سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (ان کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں۔…

اگر آپ سچے اچھے عالم دین یا پیر یا استاد کو بچانا چاہتے ہیں؛ تو کسی کے جھوٹے کو بھی گالیاں دینا بند کر دیجئے

ورنہ

معاشرے کا وہی حال ہوگا جو اس وقت ہو چکا ہے یا ہو رہا ہے…

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی