صبح وشام ذکر

حضرت عبدالرحمٰن بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہم حضور رحمت عالم ﷺ کے دولت کدہ میں تھے کہ آیت ’’وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدَاۃِ وَ الْعَشِیِّ وَالْاِبْکَارِ‘‘ نازل ہوئی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے ’’اپنے آپ کو ان لوگوں کے پاس بیٹھنے کا پابند کیجئے جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں‘‘ رسول اعظم ﷺ اس آیت کے نازل ہونے پر ان لوگوں کی تلاش میں نکلے۔ ایک جماعت کو دیکھا کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں مشغول ہے بعض لوگ ان میں بکھرے بال والے اور خشک کھالوں والے اور صرف ایک کپڑے والے ہیںجب رحمت عالم ﷺ نے ان کو دیکھا تو ان کے پاس بیٹھ گئے۔ اور ارشاد فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے کہ خود مجھے ان کے پاس بیٹھنے کا حکم دیا۔ (طبرانی شریف)

میرے پیارے آقا ﷺکے پیارے دیوانو ! مذکورہ حدیث شریف سے یہ بات سمجھ میں آئی کہ ہمیں اللہ عزوجل کے ذکر میں مصروف رہنے والوں کے پاس بیٹھنا چاہئے ان کی صحبت سے استفادہ (فائدہ حاصل کرنا )چاہئے۔ اور یقیناً دنیا وآخرت کا فائدہ ان کے پاس ہے جو صبح وشام اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ہیں جبھی تو اللہ عزوجل نے بیٹھنے کا حکم فرمایا لیکن کم نصیبی یہ ہے کہ آج کا گنہگار مسلمان فلمی تذکرے کرنے والوں کی محفل تلاش کرتا ہے اور یہی نہیں بلکہ اللہ عزوجل کے ذکر سے غافل رہنے والوںسے ملنے پر ان سے تعلقات رکھنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔

میرے پیارے آقا ﷺکے پیارے دیوانو ! ڈرو اپنے اللہ عزوجل سے، بچو ایسی محفلوں سے جہا ں اللہ عزوجل اور اسکے پیارے حبیب اکا ذکر نہ ہوتاہو۔ کیا جواب دوگے اللہ عزوجل کومیدان حشر میں ؟جب وہ سوال کرے گا کہ تم نے اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری۔ سرکارا ذاکرین (اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والوں )کے پاس تشریف لیجاتے ہیں تو ان مقدس بندوں کی کیفیت یہ تھی کہ ان کے بال بکھرے ہوئے خشک کھالوں والے اور صرف ایک کپڑے والے تھے۔ قربان جایئے ان کی عظمتوں پر کہ اللہ عزوجل کے ذکر میں وہ اتنے مصروف ہوتے کہ بال سوار نے، نیز کھانے پینے لباس وغیرہ میں بقدر ضرورت اوقات خرچ کرتے بقیہ وقت وہ اپنے اللہ عزوجل کے ذکر میں صَرف کرتے اسی لئے تو ایسے مقدس افراد کو دیکھ کر اللہ کے پیارے حبیب انے اللہ عزوجل کا شکرادافرمایا۔