منافقین کا آخری حربہ! اور وہ بھی ناکام :

منافقین زمانہ قبر کے پاس دفن کے بعد دی جانے والی اذن کی ممانعت میں دلیل دینے سے جب عاجز آجاتے ہیں ، تووہ اپنی پرانی عادت کے مطابق بدعت کا رونا روتے ہیں کہ یہ اذان بدعت ہے ۔ اپنے زعم باطل کی بناء پر اس اذان کو بدعت کہنے کے بعد ایک حدیث کی رٹ لگاتے ہیں ’’ کُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ وَ کُلُّ ضَلاَلَۃٍ فِی النَّارَ‘‘ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ۔

ان منافقین سے یہ پوچھو کہ جناب ! آپ پہلے یہ بتائیں کہ بدعت کی کتنی قسمیں ہیں ؟ تو بوکھلا جائیںگے اور بوکھلاہٹ میں کہیں گے کہ ارے بدعت کی بھی کبھی اقسام ہوتی ہیں؟ حدیث میں جب بدعت کو گمراہی فرمادیا گیا ہے، تو اب بدعت گمراہی ہی ہے ۔ بدعت جس قسم سے بھی ہو، حدیث شریف کے ارشاد سے ہر بدعت گمراہی ہی ہے ۔

منافقین زمانہ کے اس قول کاذب کا جواب دیتے ہوئے یہ بتانا ہے کہ بدعت کے کئی اقسام ہیں ۔ مثلا :

(۱) بدعت اعتقادی ( ۲) بدعت عملی (۳) بدعت حسنہ (۴) بدعت سیئہ ( ۵) بدعت جائز (۶) بدعت مستحب (۷) بدعت واجب (۸) بدعت مکروہ (۹) بدعت حرام ۔

مندرجہ بالا اقسام میں کچھ بدعات ممنوع ہیں اور کچھ بدعات جائز، بلکہ ان کا کرنا ضروری ہے ۔ قارئین کرام کی سہولت کے لیے ذیل میں ہم بدعات کا نقشہ ارقام کرتے ہیں ۔

ان تمام اقسام کی تفصیلی وضاحت یہاں ممکن نہیں صرف آپ اقسام بدعات کے نیچے دئیے گئےنقشہ سے سمجھ لیں 

Bidat

بدعت واجب :

بدعت کی صرف ایک قسم پر اختصار کے ساتھ گفتگو کرنا یہاں ضروری سمجھتاہوں۔ اور وہ ہے بدعت واجب۔ شاید منافقین زمانہ کو یہ نام سنتے ہی چکر آجائے اور ان پر غشی طاری ہوجائے ۔ کیونکہ بدعت اور واجب یہ دونوں منافقین زمانہ کے لیے متضاد ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بدعت بھی کبھی واجب ہوتی ہے ۔

عام طور پر قرآن مجید کا جو نسخہ پوری دنیا میں ہر سال لاکھوں کی تعدادمیں چھپتا ہے ۔اس میں اعراب ہوتا ہے یعنی ہر لفظ پر زیر، زبر ، پیش وغیرہ کی علامت ہوتی ہے اگر قرآن مجید میں اعراب نہ چھاپے جائیں اور بغیر اعراب کے صرف حروف والا ہی قرآن مجید شائع کیا جائے تو شاید ہی کوئی اسے صحیح پڑھ سکے بلکہ اچھے اچھے مولوی حضرات بھی قرآن مجید کو صحیح نہ پڑھ سکیں گے ۔ نتیجتاً ایسی فاش غلطیاں ہوں گی کہ جس کی وجہ سے فساد معنی ہوں گے اور وہ فساد معنی یعنی مطلب کا بدل جانا کبھی کبھی کفر کی حد تک پہنچ جائیں گے مثلا قرآن مجید ، پارہ ۱۶ ، سورئہ طہ ، آیت نمبر ۱۲۱ میں ہے ۔

{ وَ عَصٰی آدَمُ رَبَّہٗ فَغَویٰ }

یعنی آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی ۔ (کنز الایمان)

اگر اس آیت پر اعراب نہ ہوں اور کوئی اس آیت کو معاذ اللہ اس طرح پڑھے ’’ وَ عَصٰی آدَمَ رَبُّہٗ فَغَویٰ ‘‘ تو اس کے معنی معاذ اللہ یہ ہوں گے کہ آدم کے حکم میں اس کے رب سے لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی ۔

اسی طرح سورئہ فاتحہ میں { أنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ} یعنی جن پر تو نے احسان کیا۔ اس آیت کو اگر کوئی ’’ أنْعَمْتُ عَلَیْھِمْ‘‘ پڑھے گا تو اس کے معنی معاذ اللہ یہ ہوں گے کہ جن پر میں نے احسان کیا۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ نماز فاسد ہوجائے گی، لہذا قرآن مجید کے حروف و الفاظ پر اعراب لگانے کی جب ضرورت محسوس کی گئی تو حجاج بن یوسف ثقفی( المتوفی ۹۶ ؁ھ) نے قرآن مجید میں اعراب لگوائے اور ایک روایت میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (المتوفی ۸۶ ؁ھ ) کے زمانہ میں اس کی درخواست سے امیرالمومنین سیدنا مولی علی مشکل کشا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگر د رشید حضرت ابوالاسوددؤلی نے لگائے ۔ ( حوالہ فتاوی رضویہ ، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، بمبئی ، جلد ۱۲، ص ۲۱)

المختصر ! قرآن مجید میں اعراب لگانا ایسی سخت ضرورت ہے کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ۔ اور یہ اعراب قرآن حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے زمانہ میں نہ تھے ۔ اور یہ ایسی بدعت ہے کہ جس کے بغیر چارہ نہیں لہذا ملت اسلامیہ کے فقہاء نے اسے نہ صرف جائزقرار دیا بلکہ اس کو واجب فرمایا ہے لہذا یہ بدعت واجب ہے۔

اگر منافقین زمانہ صحیح معنی میں بدعت کے مخالف ہیں اور ان کے نزدیک ہر بدعت گمراہی ہے ، تو ان پرلازم ہے کہ جس قرآن مجید کے نسخے میں اعراب لگے ہوئے ہوں، ان کو ہاتھ تک نہ لگائیں اورپورے قرآن سے اعراب مٹادیں۔

حدیث شریف کا فرمان

ہر نیک اور جائز کام کے لیے قرآن مجید سے صریح حکم کا مطالبہ کرنا نری جہالت ہے ۔ ہر فعل کا الگ الگ اور صراحت سے حکم قرآن مجید میں نہیں پایا جاسکتا بلکہ لاکھوں کی تعداد میں وارد احادیث کریمہ میں بھی پایا جانا مشکل ہے اسی لیے تو سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :

’’ رَوَی الْبَزَّارُ عَنْ أبِی الدَّرْدَائَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : مَا أحَلَّ اللّٰہُ فِی کِتَابِہٖ فَھُوَ حَلاَلٌ وَ مَا حَرَّمَ فَھُوَ حَرَامٌ ، وَ مَا سَکَتَ عَنْہُ فَھُوَ عَفْوٌ، فَقَابِلُوا مِنَ اللّٰہِ عَافِیَّتَہٗ ، فَإنَّ اللّٰہَ لَمْ یَکُنْ لِیَنْسٰی شَیْئًا ، ثُمَّ تَلاَ { وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا } قَالَ الْبَزَّارُ : إسْنَادُہٗ صَالِحٌ ۔ وَ صَحَّحَہُ الْحَاکِمُ ۔ ‘‘(حوالہ: البدعۃ الحسنۃ اصل من اصول التشریع ، ص ۱۰۸)

’’حضرت بزار نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا کہ انھوں نے کہا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ :

اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو حلال فرمایا ہے ، وہ حلال ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جو حرام فرمایا ہے ، وہ حرام ہے ، اور جس امر کے تعلق سے سکوت فرمایا ہے ( یعنی نہ حلال کیا گیا نہ حرام) وہ معاف ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو ، پس بیشک اللہ تعالیٰ کبھی کوئی چیز فراموش نہیں کرتا، پھر یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی { وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا } (سورئہ مریم ، آیت ۶۴، پارہ ۱۶) یعنی تیرا رب بھولنے والا نہیں۔‘‘ (بزار نے کہا کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور حاکم نے بھی اسے صحیح فرمایا ہے ۔ )

ایک اور حدیث

’’وَ رَوَی الدَّارُ قُطْنِیْ عَنْ أبِی ثَعْلَبَۃَ الْخَشْنِیْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : إنَّ اللّٰہَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلاَ تُضِیْعُوْھَا وَحَدَّ حُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْھَا ، وَ حَرَّمَ أشْیَائً فَلاَ تَنْتَھِکُوْھَا ، وَ سَکَتَ عَنْ أشْیَائٍ رَحْمَۃً بِکُمْ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْھَا۔ ‘‘(حوالہ: البدعۃ الحسنۃ اصل من اصول التشریع ، ص ۱۰۸)

’’اور دار قطنی نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے روایت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض فرض کیے ہیں تو انہیں مت چھوڑو ، اور کچھ حدیں مقرر فرمائی ہیں تو اس سے آگے مت بڑھو ، اور کچھ چیزیں حرام فرمائی ہیں تو اسے مت کرو اور کچھ چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی ہے اور یہ خاموشی اختیار کرنا تم پر رحم کرتے ہوئے بغیر بھولے ہے ۔تو ان معاملوں کے پیچھے مت پڑو۔‘‘

مندرجہ بالا دونوں احادیث کریمہ صاف حکم فرمارہی ہیں کہ

٭ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کو حرام فرمایا ہے ،و ہ حرام ہیں۔

٭ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کو حلال فرمایا ہے ، وہ حلال ہیں۔

لیکن قرآن مجید میں جن کاموں کے متعلق صریح اور صاف وضاحت نہیں فرمائی گئی کہ یہ کام حلال ہیں یا حرام ؟ بلکہ ان کاموں کے تعلق سے سکوت فرمایا گیا ہے، وہ کام معاف ہیں ، لیکن ان کاموں میں صرف اتنا ہی دیکھا جائے گا کہ ان کاموں کے کرنے سے شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی نہ ہونی چاہیئے یا ان کاموں کے کرنے سے کوئی سنت ختم نہ ہوتی ہو۔

ایک ضروری بات کی طرف قارئین کرام کی توجہ درکار ہے کہ مندرجہ دونوں احادیث میں سے دوسری حدیث کے جو الفاظ ہیں کہ’’ وَ سَکَتَ عَنْ أشْیَائٍ رَحْمَۃً بِکُمْ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْھَا۔‘‘ یعنی ’’ اور خاموشی اختیار کرنا ، تم پر رحم کرتے ہوئے ہے ، بغیر بھولے ۔‘‘ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ کاموں کے تعلق سے سکوت اختیار فرمایا ہے ، وہ بھول کر نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے۔بلکہ ہم پر رحم و کرم فرماتے ہوئے سکوت فرمایا ہے ۔ اگر ان کاموں کو واجب یا فرض کر دیا گیا ہوتا، تو اس کے کرنے کی ذمہ داری اور فکر لازم آتی اور اس کے ترک پر گناہ کا جرم عائد ہوتا اور اگر ان کاموں کو ناجائز یاحرام قرار دیا گیا ہوتا تو اس سے بچنے اور اس سے اجتناب کا التزام کرنا پڑتا اور اس کے کرلینے سے خلاف شرع کام کاارتکاب ،بلکہ گناہ صادر ہوتا ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل میں کچھ کاموں کے تعلق سے کسی قسم کا صریح حکم نازل نہیں فرمایا ۔ لہذا ہم پر لازم ہے کہ ایسے کاموں کے بارے میں زیادہ جھک جھک اور بک بک نہ کریں اور نہ ہی ان کاموں کے بارے میں کرید کرید کر ہندی کی چندی کریں ۔ کیونکہ حدیث شریف میں صاف حکم ہے کہ فَلاَ تَبْحَثُوا عَنْھَا۔ یعنی ’’ ان معاملوں کے پیچھے مت پڑو‘‘

لہذا میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر دی جانے والی اذان کے مسئلہ میں جب جواز کی اتنی ساری دلیلیں موجود ہیں اور یہ کام فی نفسہ اچھا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مشتمل ہے ، تو ایسے جائز اور مستحب کام کو صرف ضد اور عناد کی بناء پر کھینچ تان کر ناجائز اور بدعت قرار دینے کی سعی بیجا کرنا سراسر حدیث کے فرمان کی خلاف ورزی ہے اور ایسے جائز و مستحب کام کے سلسلہ میں جھگڑا ، فساد ، مار پیٹ ، گالی گلوج جیسے رذیل افعال کا ارتکاب کرکے تفریق بین المسلمین یعنی مسلمانوں میں آپس میں پھوٹ ڈالنا اور فتنہ برپا کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے تراویح کی جماعت کو اچھی بدعت کہا :

دورحاضر کے منافقین بات بات میں ’’ بدعت ، بدعت‘‘ کا واویلا مچاتے ہیں اور ’’ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں ہے ‘‘ کا شور برپا کرتے پھرتے ہیں ۔ اوراق سابقہ میں ہم نے بدعت واجب کا تذکرہ کیا ہے جس میں صاف ثابت ہوگیا ہے کہ کچھ بدعات واجب بھی ہوتی ہیں۔

امیر المومنین خلیفۃ المسلمین غیظ المنافقین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک نئے کام کو ’’ بدعت ‘‘ اور وہ بھی ’’ اچھی بدعت‘‘ فرمایا ہے ۔

ملاحظہ فرمائیں :

’’عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ الْقَارِیْ قَالَ خَرَجْتُ مَعْ عُمْرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَیْلَۃً فِی رَمْضَانَ إلیَ الْمَسْجِدِ فَإذَا النَّاسُ اَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُوْنَ فَیُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہٖ وَ یُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلاَتِہِ الرَّھْطُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَ اللّٰہِ إنِّی لأریٰ لَوْجَمَعْتُ ھٰؤُلٓائِ عَلیٰ قَارِیٍٔ وَاحِدٍ لَکَانَ أمْثَلَ ثُمَّ عَزَمَ فَجَمَعَھُمْ عَلیٰ أبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہٗ لَیْلَۃً أخْریٰ وَ النَّاسُ یُصَلُّوْنَ بِصَلاَۃِ قَارِئِھِمْ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ ۔۔۔ الخ‘‘

’’حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری سے مروی ہے انھوں نے کہا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات میں مسجد پہنچا تو لوگ الگ الگ نمازیںپڑھ رہے تھے۔ ہر شخص اپنی اپنی نمازیں پڑھ رہا ہے، تو عمر بن خطاب نے فرمایا قسم خداکی میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں ان لوگوں کو ایک امام پر جمع کر دوں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ پھر عمر بن خطاب نے ارادہ فرمایا اور ابی بن کعب کوامام مقرر فرمادیا ۔ راوی کہتے ہیں پھر میں عمر بن خطاب کے ساتھ دوسری رات مسجد پہنچا تو لوگ ایک امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر عمر بن خطاب نے فرمایا ’’کیا ہی عمدہ ہے یہ بدعت‘‘۔۔۔۔ (حوالہ : السنن الکبری للبیہقی ، کتاب الصلاۃ ، باب قیام شھر رمضان، ۲/۴۹۳ ، دار المعرفۃ ، بیروت، لبنان)

اس حدیث کے الفاظ ’’ نِعْمَ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖ ‘‘ یعنی ’’کیا ہی عمدہ ہے یہ بدعت ہے ‘‘ غور طلب ہیں۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کی نماز با جماعت پڑھنے کو اچھی بدعت فرمایا ۔ لہذا ہم اس ضمن میں طویل بحث نہ کرتے ہوئے صرف اتنا ہی عرض کرتے ہیں کہ ہر بدعت بری نہیں۔ بعض بدعات اچھی بھی ہیں اور بعض بدعات تو ایسی ضروری ہیں کہ ہمارے دینی معاملات میں ایسی گھل مل گئی ہیں کہ ان بدعات کے ارتکاب کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مثلا ً:قرآن مجید میں اعراب ، مساجد میں حوض ، وضو کے لیے پانی کے نل وغیرہ ، علاوہ ازیں کتب احادیث کو ترتیب دینا، اس کی طباعت و اشاعت ،کتب اصول حدیث ،کتب اصول فقہ کو ترتیب دینا، اس کی طباعت و اشاعت ، اصول حدیث اور اصول فقہ کا علم ، صرف و نحو کی تعلیم اور صرف ونحو کی کتابیں لکھنا، مرتب کرنا، چھاپنا ، وغیرہ ہزاروں بدعات ایسی ہیں جن کا ہمارے کئی دینی معاملات کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ جیسا سابقہ ہے ۔

منافقین زمانہ صرف عظمت انبیاء و اولیاء سے اور فلاح مومنین کے تعلق سے کیے جانے والے کاموں پر ہی بدعت کا فتوی تھوپتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود ہزاروں بدعات کے ارتکاب میں ملوث بلکہ غرق ہیں۔

بقول رشید احمد گنگوہی بخاری شریف کا ختم بدعت نہیں :

منافقین پیدا کرنے والی فیکٹری یعنی دار العلوم دیوبند میں ہر سال بخاری شریف کا ختم ہوتا ہے ۔ علاوہ ازیں کسی مصیبت کے وقت بخاری شریف کا ختم کرنے کے تعلق سے وہابی دیوبندی جماعت کے امام ربانی اور تبلیغی جماعت کے بانی مولوی الیاس کاندھلوی کے استاذ و پیر مولوی رشید احمد گنگوہی کا ایک فتویٰ ملاحظہ فرمائیں :

سوال :

’’کسی مصیبت کے وقت بخاری شریف کا ختم کرانا قرون ثلاثہ سے ثابت ہے یا نہیں ؟ اور بدعت ہے یا نہیں ؟‘‘

جواب :

’’قرون ثلاثہ میں بخاری تالیف نہیں ہوئی تھی مگر اس کا ختم درست ہے کہ ذکر خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے ۔ اس کا اصل شرع سے ثابت ہے ۔ بدعت نہیں۔ فقط رشید احمد عفی عنہ ‘‘ (حوالہ : فتاوی رشیدیہ ، مبوب بطرز جدید، ناشر مکتبہ تھانوی ، دیوبند ، ص ۱۶۶)

قارئین کرام سے مودبانہ التماس ہے کہ اس فتوے کا بنظر عمیق مطالعہ فرمائیں ۔ اس فتوے کے حسب ذیل جملے غور طلب ہیں۔

g قرون ثلثہ میں بخاری تالیف نہیں ہوئی تھی ، مگر اس کا ختم درست ہے ۔

اس جملے میں صاف اقرار کیا گیا ہے کہ قرون ثلثہ یعنی صحابہ کرام ، تابعین عظام اور تبع تابعین کے زمانہ میںبخاری شریف تالیف نہ ہونے کی وجہ سے بدعت ہونے کے باوجود اس کا ختم درست ہے ۔ کیوں ؟

اس لیے کہ ہر سال دار العلوم دیوبند میں بخاری شریف کا ختم بڑے اہتمام اور نمود و نمائش کے ساتھ ہوتا ہے ۔

g ذکر خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے ۔

تو ہم بھی میت کو دفن کرنے کے بعد جو اذان دیتے ہیں ،وہ اذان ذکر خیر نہیں تو اور کیا ہے ؟ اذان کے تمام جملے ذکر اللہ ، ذکر رسول اور دعوت نیکی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے یقینا اور بلا شک و شبہ ذکر خیر ہی ہیں اور اس طرح اذان کے ذریعہ ذکر خیر کرنے کے بعد ہم میت کے لیے منکر نکیر کے سوالات کے جوابات دینے میں ثابت قدم رہنے کی دعاکرتے ہیں ۔ اور امید کرتے ہیں کہ ہماری دعا قبول ہوگی اور مردہ ثابت قدم رہ کر نکیرین کو صحیح جواب دے گا کیونکہ ’’ ذکر خیر کے بعد دعا قبول ہوتی ہے ۔‘‘

g اس کا اصل شرع سے ثابت ہے ۔ بدعت نہیں۔

تو اذان قبر کا اصل بھی شرع سے ثابت ہے ۔ اس کتاب میں درج دلیل نمبر ۱،۲،اور ۳ سے اذان قبر کا شرع سے ثابت ہونا روز روشن کی طرح ظاہر ہے ۔ لہذا یہ بھی بدعت مذمومہ کے حکم میں نہیں۔

الحمد للہ ! منافقین زمانہ کے پیشوا مولوی رشید احمد گنگوہی کے ختم بخاری کے بدعت نہ ہونے کے فتوی پر منطبق کرکے اذان قبر بھی بلا شک و شبہ بدعت نہیں۔

المختصر ! ہم اذان قبر کے ذریعہ اپنے مسلمان میت کی اعانت کرتے ہیں اور اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنا بحکم حدیث محمود اور ماجور ہے ۔

ز…ز…ز