أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوۡا بِهٖ يُشۡرِكُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو ان کے شرک کی تصدیق کرتی ہے ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے جو ان کے شرک کی تصدیق کرتی ہے ؟ اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں او جب ان کے پہلے سے کیے ہوئے برے کاموں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں (الروم : ٣٦۔ ٣٥)

راحت اور مصیبت کے ایام میں مومنوں اور کافروں کے احوال 

حضرت ابن عباس (رض) نے کہا سلطان سے مراد حجت اور دلیل ہے ‘ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی ایسی حجت اور دلیل نازل نہیں کی جو ان کے شرک کی تصدیق اور تائید کرتی ہو۔

اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ بندوں کے اعمال جب اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے دلائل کے موافق ہوں گے تو وہ اعمال ان کے حق میں مفید ہوں گے اور جب ان کے اعمال ان کے سرکش نفسوس کے تقاضوں کے موافق ہوں گے تو وہ ان کے حق میں مضر ہوں گے ‘ پس محض اپنی طبیعت کے موافق عمل کرنا گمراہی ہے اور اللہ کی نزل کی ہوئی دلیل کے موافق عمل کرنا ہدایت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 35