أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے رزق) تنگ کردیتا ہے ‘ بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے رزق) تنگ کردیتا ہے ‘ بیشک اس میں ایمان والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں پس آپ قرابت داروں کو ان کا حق ادا کریں اور مسکینوں کو اور مسافروں کو ‘ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کا ارادہ کرتے ہیں اور وہی کامیاب ہیں (الروم : ٣٨۔ ٣٧)

شکر اور صبر کی تلقین 

یعنی کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے وسعت کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے ‘ اس لیے محض فقر کی وجہ سے ان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے اس کو مال دنیا کی نعمتیں دے کر اس کو شکر کی آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے اس پر تنگ دستی طاری کردیتا ہے اور اس کو صبر کی آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے ‘ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ راحت کے ایام میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور مصیبت کے ایام میں صبر سے کام لیں۔ شفیق بلخی نے کہا جس طرح تم اپنی جسمانی بناوٹ کو زیادہ بہتر اور وب صورت نہیں بنا سکتے اور جس طرح اپنی زندگی کے ایام میں اضافہ نہیں کرسکتے اسی طرح تم اپنے رزق میں بھی زیادتی نہیں کرسکتے سو رزق کی طلب میں اپنے آپ کو نہ تھکائو۔ غالباً شفیق بلخی کا یہ مطلب ہے جب تمہاری ضروریات فراغت سے پوری ہورہی ہوں تو محض رزق میں اضافہ کی طلب میں زیادہ دڑدھوپ نہ کرو اور مال و دولت کی حرص میں اپنی توانائی کو ضائع نہ کرو بلکہ اپنی توانائیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے کاموں میں صرف کرو ‘ اگر انسان کی ضروریات پوری نہ ہو رہی ہوں تو پھر رزق کے حصول کے لیے جدوجہد اور دوڑدھوپ کرنی چاہیے ‘ اور یہ کوئی ناجائز کام نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 37