بوڑھی عورت غیر محرم کے ساتھ حج کو جاسکتی ہے یا نہیں ؟

محمد زاہد علی مرکزی کالپی شریف

رکن :روشن مستقبل دہلی

چیئرمین تحریک علمائے بندیل کھنڈ

غالباً دوسال قبل مجھ سے ہمارے ایک ساتھی نے بتایا تھا کہ ایک مفتی صاحب قبلہ کا کہنا یہ ہے کہ “وہ عورت جو سن ایاس کو پہنچ چکی ہو یا مزید بوڑھی ہوگئی ہو وہ کسی غیر محرم کے ساتھ بھی بغیر نکاح کے حج و عمرہ کے لئے جا سکتی ہے وجہ تھی کہ اس میں جو چیز محل فتنہ تھی وہ ختم ہوچکی ہے یعنی شہوت نہ رہی ” میں نے اسی وقت منع کر دیا تھا اور کہا تھا یہ حکم درست نہیں آج فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ کرتے ہوئے ایک نکتہ ملا سوچا اس کو عام کردوں تاکہ شکوک و شبھات کا دروازہ بند ہوجائے.

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ منھ پر کپڑا ڈال کر گانا گانے والی عورت کا گانا سننا جائز ہے کہنے والوں کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں……. الجواب.. یہ مضمون کہ منھ پر کپڑا ڈال کر رنڈیوں، ڈومنیوں کا گانا سننا جائز ہے دونوں حضرات ممدوح قدسنا اللہ باسرارھما(امام غزالی و شاہ محمد کالپوی علیھما الرحمۃ) میں کسی سے ثابت نہیں، نہ ہرگز شرع مطہر میں اس کا پتہ نہ اصول شرع اس کے مساعد، نہ ایسی نقول(عبارات ) مذہب پر قاضی(فیصل) ہو سکیں.

آگے فرماتے ہیں….. اجنبیہ سے خلوت، نظر، مس (چھونا) معانقہ، تقبيل (بوسہ) اس لیے حرام ہوے کہ دواعی ہیں (فتنہ کی طرف لےجانے والے ہیں)

شق نمبر( 2) دواعی کے لیے مستلزم ہونا ضروری نہیں ہزراہا خلوت و نظر بلکہ بوس و کنار ہوتے ہیں مگر مدعو الیہ یعنی زنا واقع نہیں ہوتا…….. ان فوائد کوملحوظ رکھ کر مغنیہ اجنبیہ کا گانا سننے کی حرمت میں شبہ نہیں ہوسکتا بیشک وہ دواعی ہے اور داعی حرام، حرام اگر چہ مستلزم بلکہ اس وقت مفضی بھی نہ ہو اگر چہ خصوص محل میں داعی بھی نہ ہو اور بعض نفوس مطمئنہ جو کی شہوات سے یکسر خالی ہو گئے ان کے لحاظ سے حکم میں تفصیل ناممکن بلکہ وہی حکم عام جاری رہے گا – ورنہ خلوت ومس وتقبيل وامثالہا میں بھی حکم مطلق نہ رکھیں تفصیل لازم ہو کہ “قلب شہوانی کے لیے حرام ہوں اور نفوس مطمئنہ کے لیے جائز حالانکہ یہ قطعاً اجماعا باطل ہے ۔فتاویٰ رضویہ ج 24 ص 120 تا 122)

حضرات! کیسا صاف ارشاد ہے کہ ہزراہا خلوتیں ہوتی ہیں، دیکھنا، سننا، بوسہ لینا، گلے لگنا، ساتھ لیٹنا ہوتا ہے مگر زنا جو کہ اصل ہے نہیں ہوتا – زنا واقع نہ ہونے پر امور مذکورہ کو شرع مطہر حرام ہی ٹھہراتی ہے ایسا نہیں کہ اگر مدعو الیہ يعنی زنا نہ ہو تو بقیہ بھی جائز ہوں، اور ایسا بھی نہیں کہ بعض ایسے نفوس جن میں شہوت باقی نہیں یا شہوت سے بالکل خالی ہوگئے انکے لئے شرع مطہر اجازت دیتی ہو اور بقیہ کے لیے حرام ٹھہراتی ہو بلکہ وہی حکم سب کے لیے عام رکھا خواہ شہوت ہو یا نہ ہو سب کو حرام – ورنہ خلوت، بوسہ، چھونا، گلے لگانا وغیرہ میں بھی حکم ہو کہ شہوت سے خالی نفوس مطمئنہ کے لئے جائز ٹھہرے اور دیگر کے لیے حرام – حالانکہ شریعت نے قطعا اجمالاً یہ باطل ٹھہرایا.

یہاں سے یہ بھی کلیر ہوگیا وہ عورت جو بوڑھی ہوچکی، جس کی شہوت ختم ہوچکی ہے اس کا غیر محرم کے ساتھ حج و عمرہ کے لئے جانا حرام ہی ٹھہرے گا خواہ اس میں شہوت ہو یا نہ ہو.

٥ ربیع النور ١٤٤١ھ

مورخہ ٣ نومبر ٢٠١٩ ء