ہندوستان قدیم زمانے سے علوم و فنون کا گہوارہ رہا ہے، جب سلطانوں نے اس سرزمین پر قدم رکھا تو یہاں انہوں نے اسلامی علوم و فنون کی بنیاد ڈالی، محدثین، فقہا، مشائخ اور صوفیائے کرام نے جگہ جگہ علم دین کی شمعیں جلائیں، اس کے بعد سلاطین و امراء نے بھی علوم اسلامیہ کی اشاعت میں دلچسپی لی اور اپنے وسائل کے ذریعہ سے اس کی سر پرستی میں حصہ دار ہوئے، چنانچہ امراء نے اپنی حویلیوں میں مدارس کی بنیاد ڈالی تاکہ ان کی اولاد کے ساتھ ساتھ دوسرے طلبہ بھی شریک درس ہو سکیں اور ایسا ہوا بھی، دور دراز سے طلبہ درس میں شریک ہوتے تھے، غیر مقامی طلبہ کے لئے رہائش اور خورد و نوش کا انتظام بھی اپنی طرف سے کیا کرتے تھے، بعض سلاطین نے ممتاز علما اور فضلا کو جاگیریں عطا کیں تاکہ وہ فکر معاش اور غمِ دنیا سے آزاد ہو کر سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھ کر تعلیم و تدریس کی خدمت انجام دے سکیں، بعض اہلِ علم نے مساجد ہی میں درسگاہیں قائم کر لیں تاکہ محلہ میں مسلمان اور طالبانِ علوم کی کفالت کر سکیں، پھر آہستہ آہستہ عام مدارس کا قیام عمل میں آیا اور بہت سے خانوادۂ علم افق ہندوستان پر نمودار ہوئے جنہوں نے علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت اور تعلیم و تدریس کے سلسلہ میں بڑی شہرت حاصل کی، انہیں شہرت یافتہ خانوادوں میں ایک نمایاں نام خانوادۂ علمائے فرنگی محل کا ہے۔

یہ خانوادہ اس اعتبار سے منفرد خصوصیت کا حامل ہے کہ اس میں تقریباً تین سو سال تک متواتر ارباب علم و فضل پیدا ہوتے چلے آئے ہیں، علم و فضل، عبادت و ریاضت، تقویٰ و طہارت اور فیضان علم کی اشاعت کے اعتبار سے یہ خاندان نور بانٹنے والے سورج کی مانند ہے، جب سے یہ خاندان فرنگی محل میں قیام پذیر ہوا فرنگی محل کی شہرت مرکز علم و عمل کی حیثیت سے ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی اور یہی وجہ ہے کہ فرنگی محل کو اہلِ علم نے عقل و دانش کا محل تصور کیا ہے۔ بانی ٔ درسِ نظامی ملا نظام الدین سہالوی علیہ الرحمہ اور ان کے صاحب زادے بحر العلوم حضرت عبد العلی علیہ الرحمہ اسی خاندان کے شمس و قمر ہیں اور اس کے انجم و کہکشاں کی تعداد تو تین سو سے زائد ہے، اس طویل مدت میں ان علمائے فرنگی محل کے حلقہائے درس سے دور و نزدیک کے جو تشنگانِ علم سیراب ہوئے ان کی تعداد تو ہزاروں میں پہنچتی ہے۔

اس پر تمام تذکرہ نویس متفق ہیں کہ علمائے فرنگی محل کا سلسلۂ نسب حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔ اس لئے مناسب یہ ہے کہ ان سپوتوں کے تذکرہ سے پہلے جنہوں نے صدیوں تک سرزمینِ ہند پر پرچم علم بلند کیا ان کے جدِ اعلیٰ اور ان کی اولاد میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی ذکر کر دئے جائیں۔

حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

مشہور صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام خالد بن زید ہے۔ آپ نسباً خزرجی اور قبیلۂ بنی غنم سے تعلق رکھتے ہیں، بیعتِ عقبی ثانیہ، بدر و اُحد اور تمام غزوات میں حضورپاکﷺ کے ساتھ شریک ہوئے، آپ ہی کو رسول اللہ ا کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا جب سرکار دوعالمﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کی ناقہ بحکم الٰہی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر ٹھہر گئی، لہٰذا سرورِ کونینﷺ نے انہیں کے مکان میں قیام فرمایا، پھر جب مسجد نبوی شریف اور اس سے متصل حجروں کی تعمیر مکمل ہو گئی تو آپ وہاں سے منتقل ہوگئے۔ حضور پاکﷺ کے وصال کے بعد بھی جہاد میں برابر شریک رہے۔

حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے ساتھ جنگِ صفین و نہروان میں بھی شریک ہوئے، اسد الغابہ میں سبھی لڑائیوں میں شرکت لکھی ہے مگر جنگِ جمل میں حضرت سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شرکت ثابت نہیں، حضرت امیر معاویہ کی خلافت میں جہاد ہی کی غرض سے ملکِ روم تشریف لے گئے تھے، لیکن وہاں پہنچتے ہی پیام اجل آپہنچا اور اس طرح آپ نے ۵۰ھ؁ مطابق ۶۷۰ء؁ میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا اور قسطنطنیہ کی فصیل کے پاس مدفون ہوئے۔(ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مفصل حالا ت کے لئے دیکھئے اسد الغابۃ ص:۸۸…۹۰، سوانح عمری حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کتاب الاصابۃفی معرفۃ الصحابہ، ص:۸۳۱…۸۳۳)

حضرت ابو منصور رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صاحب زادے حضرت ابو منصور بسلسلۂ جہاد ۳۱ھ؁ مطابق ۶۵۱ء؁ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں مدینہ منورہ سے خراسان تشریف لائے پھر ہرات میں مستقل قیام فرمالیا، ارشاد و ہدایت، تبلیغ و تلقین کا سلسلہ شروع فرمایا اور انتقال کے بعد ہرات ہی میں مدفون ہوئے۔(انوار العارفین)

شیخ الاسلام عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

پھر انہیں کی اولاد میں ایک یگانۂ عصر بزرگ شیخ الاسلام حضرت عبداللہ انصاری نمایاں ہوئے، جن کو شیخ الطائفہ، حضرت خواجہ اور شیخ انصار جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔(بانی ٔ درسِ نظامی ص:۲۶)

آپ ۳۹۶؁ھ؍ ۱۰۰۵؁ء میں ہرات ہی میں پیدا ہوئے، علوم ادبیہ حاصل کرنے کے بعد حدیث، تاریخ اور انساب میں کمال پیدا کیا، آپ سلوک و تصوف کے امام، حکام و اہلِ دنیا سے دور رہنے والے، باہیبت اور خوش پوشاک تھے، ۴۸۱؁ھ؍ ۱۰۸۸؁ء میں آپ کی وفات ہوئی،(تذکرۃ الحفاظ، ص:۱۱۹) آپ کی تصانیف میں کتاب الاربعین، کتاب الفروق، منازل السائرین، اور مناقب امام احمد بن حنبل مشہور ہیں۔(نفس مصدر، ص:۱۸۴، منازل السائرین کی شرح،حافظ ابنِ قیم (متوفی:۷۵۱؁ھ مطابق:۱۳۵۱؁ء) نے لکھی ہے جو طبع ہو چکی ہے ابنِ قیم کے استاذ ابن تیمیہ (متوفی:۷۲۹؁ھ؍ ۱۳۲۸؁ء) بھی آپ کے چاہنے والوں میں ہیں)

خواجہ جلال الدین انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ حضرت شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی اولاد میں ایک بزرگ ہیں، بغرض جہاد ہندوستان تشریف لائے اور قریہ سرسل میں قیام فرما کر ایک مسجد اور ایک خانقاہ بنوائی اور پھر وہیں خدمت علم میں مصروف رہے۔(تذکرۂ علمائے فرنگی محل،ص:۸، احوالِ علمائے فرنگی محل ص:۸، مرأۃ الانساب ص:۱۲۴)

مخدوم بدر الدین علیہ الرحمہ

آپ خواجہ جلال الدین کی اولاد سے ہیں، علومِ عقلیہ و نقلیہ میں کمال حاصل کیا اور دہلی میں اقامت فرمائی، پھر منارۂ شمسیہ (قطب کی لاٹ) کے قریب ایک مدرسہ قائم کر کے درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ آخری عمر میں حضرت مخدوم نصیر الدین محمود چراغ دہلوی علیہ الرحمہ (۷۵۵؁ھ،۱۳۵۴؁ء) سے بیعت ہوئے پھر ان سے اجازت و خلافت حاصل کر کے دہلی کے قریب موضع ’’برناوہ‘‘ میں سکونت پذیر ہوئے جو دہلی سے متھرا جانے والی شاہراہ پر واقع ہے، آپ نے ۷۸۸؁ھ؍۱۳۸۶؁ء میں وفات پائی۔(احوالِ علمائے فرنگی محل ص:۸)

مخدوم نظام الدین علیہ الرحمہ

حضرتِ مخدوم نظام الدین ہی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے سرزمینِ اَوَدھ کو مشرف فرمایا، آپ حافظِ قرآن اور متبحر عالم تھے، ’’برناوہ‘‘ میں آپ نے ایک خانقاہ بھی بنوائی تھی، پھر وہاں سے اَوَدھ تشریف لائے اور سہالی میں اقامت پذیر ہوئے اور وہیں آبادی سے باہر آپ کا روضہ ہے، جو روضہ ہی کے نام سے مشہور ہے،ایک روایت سے یہ ملتا ہے کہ مخدوم نظام الدین کے والد سب سے پہلے سہالی تشریف لائے لیکن پھر کسی ضرورت کے تحت ’’برناوہ‘‘ چلے گئے، آپ نے ۸۷۶؁ھ میں انتقال فرمایا۔(تذکرۃ الانساب، ص:۱۵۲، الاغصان الاربعۃ، ص:۳، بحر العلوم،ص:۲، تذکرۂ علمائے فرنگی محل، ص:۸۔۹)

مُلّا محمد حافظ الدین سہالوی علیہ الرحمہ

مخدوم نظام الدین کے بعد آپ کی اولاد نے بھی سہالی ہی کو اپنا وطن تصور کیا اور وہیں پر قیام پذیر رہی، پھر وہیں آپ کی اولاد میں مُلّا محمد حافظ الدین نے ایک مشہور و معروف عالم کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا، آپ نے یہاں درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا اور آپ کے پاس دور و نزدیک سے طلبہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوتے تھے، آپ کی تدریسی شہرت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مغل بادشاہ اکبر (متوفی ۱۰۲۷؁ھ؍۱۶۱۷؁ء) نے طلبہ کے خورد و نوش کے لئے آپ کے نام ایک بڑا رقبہ آراضی کا معافی نامہ جاری کر دیا تھا۔(آثار الاول ص:۲)

مُلّا قطب الدین شہید علیہ الرحمہ

آپ مُلّا حافظ الدین کی نسل سے ایک یگانۂ روزگار شخصیت ہیں، دنیائے علم میں مُلّا قطب الدین شہید سے جانے جاتے ہیں، آپ کی ولادت ۱۰۴۰؁ھ ؍ ۱۶۳۰؁ء میں ہوئی، مبارک سرزمین سہالی ہی آپ کا مولد ہے، ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی مولانا عبد الحلیم سے لاہور میں حاصل کی جہاں وہ ایک مدرسہ میں تدریسی خدمت پر مامور تھے، تقریباً تیس سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم سے فراغت حاصل کر لی، اس کے بعد سہالی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع فرمایا۔(بانی ٔ درسِ نظامی۔ص:۳۹، تذکرۂ علمائے فرنگی محل،ص:۹، فرحۃ الناظرین،ص:۱۹۹)

طریقۂ تعلیم اتنا عمدہ اور دل نشین تھا کہ مشکل مباحث اور پیچیدہ مسائل کو بھی طلبہ بڑی آسانی سے سمجھ جاتے اور کم وقت میں درسیات سے فراغت حاصل کر لیتے تھے۔(بانی ٔ درسِ نظامی،ص:۳۹)

حضرت حسان الہند آزاد بلگرامی نے آپ کو امام اساتذہ، مقتدائے جہاں، معدنِ عقلیات اور مخزنِ نقلیات جیسے القاب سے یاد کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس وقت ہندوستان کے اکثر علماء کا سلسلۂ استفادہ آپ تک محدود ہوتا ہے،(سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان،ص:۷۶) مُلّا قطب الدین شہید چالیس سال کی عمر میں حضرت قاضی صدر الدین عرف قاضی گھامی(نزہۃ الخواطر، جلد؍۵، ص:۱۷۴) سے بیعت ہوئے اس کے بعد آپ کا یہ معمول ہو گیا کہ جمعہ اور سہ شنبہ کو آپ تصنیف و تالیف کے کاموں میں مشغول رہتے، باقی ایام میں طلبہ کو درس دیتے اور ہمیشہ رات کے آخری حصہ کو عبادت و ریاضت میں گزارتے۔

آپ کی تصانیف کی تعداد نصف درجن سے زائد ہے لیکن واقعۂ شہادت میں آپ کا کتب خانہ جلا دیا گیا اور اب آپ کی تصانیف کے صرف تین نام ہی رہ گے ہیں، کتابی شکل میں کچھ بھی موجود نہیں ہے۔(بانی ٔ درسِ نظامی،ص:۴۶) رسالۂ قطبیہ میں صرف دو کتابوں کا ذکر آیا ہے جو اس زمانہ تک موجود تھی، ان تینوں کے نام یہ ہیں:

٭ رسالۂ امور عامہ ٭ حاشیہ شرح حکمۃ العین ٭ حاشیہ تلویح۔

مؤخر الذکر کتاب استاذ الہند حضرت مُلّا نظام الدین سہالوی رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ میں موجود تھی، اس کے بعد غائب ہو گئی۔

حضرت کی شہادت کا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ سہالی میں انصاری شیوخ کے علاوہ عثمانی شیوخ کا خاندان بھی آباد تھا اور ان دونوں کے درمیان زمین داری کے مسئلہ کو لے کر اختلاف پیدا ہو گیا تھا، علامہ قطب الدین شہید سے شہنشاہ عالمگیر کو بہت عقیدت تھی(بزمِ تیمور، ص:۲۵۳۔ ۲۵۴) اس لئے مخالفین کو آپ سے عداوت پیدا ہو گئی چنانچہ ان کی ایک بڑی تعداد نے دوشنبہ ۱۹؍رجب المرجب ۱۱۰۳؁ھ ؍ ۱۶۹۱؁ء کو آپ کے مکان پر حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا اور آپ کے پاس جو طلبہ اور دیگر اشخاص تھے ان میں سے بھی بعضوں کو شہید کر دیا اور کچھ کو زخمی کر ڈالا۔ (بانی ٔ درسِ نظامی، ص:۲۱،تذکرۂ علمائے فرنگی محل،ص:۱۳۔۱۴)

علامہ قطب الدین کی شہادت کے وقت آپ کے بڑے صاحب زادے مُلا اسعد دکن میں حضرت اورنگ زیب عالمگیر کے پاس تھے، وہیں والد ماجد کی شہادت کی خبر ملی، اس کے بعد پھر وہ وطن واپس نہیں آئے،(بانی ٔ درسِ نظامی ص:۴۹) دوسرے بیٹے مُلا سعید واقعۂ شہادت میں زخمی ہو گئے تھے، جب کچھ سکون میسر ہوا اور سہالی کے ماحول کو اپنے موافق نہیں پایا تو ترکِ وطن کا ارادہ کیا اور ایک محضر نامہ تیار کیا(بانی ٔ درسِ نظامی،ص:۲۸) اور اسے لے کر دکن روانہ ہو گئے، دکن پہنچ کر اپنے بھائی کی مدد سے اسے حضرت اورنگ زیب کی خدمت میں حاضر ہوکر پیش کیا، حضرت سلطان ذی وقار نے علامہ کی شہادت اور ان کے پس ماندگان کی مظلومیت پر بہت افسوس کا اظہار کیا اور مُلا سعید کی خواہش کے مطابق لکھنؤ کی حویلی فرنگی کو ان کی اہل و عیال کے لئے مقرر کر دیا، مُلا سعید فرمانِ شاہی لے کر واپس آئے اور اپنے گھر والوں کو سہالی سے منتقل کر کے فرنگی حویلی لکھنؤ میں آباد ہو گئے۔(بحر العلوم،ص:۷۱) ان کے دو چھوٹے بھائی بھی تھے، ایک نظام الدین جن کی عمر اس وقت صرف چودہ سال تھی جو بعد میں آسمان علم و فضل پر نیر تاباں بن کر چمکے اور بانی ٔ درسِ نظامی سے مشہور ہوئے، دوسرے محمد رضا جو چاروں بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔(تذکرۂ علمائے فرنگی محل، ص:۱۰)

فرنگی محل کی وجہ تسمیہ

مولانا عبدالباری صاحب علیہ الرحمہ نے فرنگی محل کی وجہِ تسمیہ اس طرح بیان کی ہے کہ مغل شہنشاہ محمد اکبر کے زمانہ میں ایک فرانسیسی تاجر مستامن کی حیثیت سے ہندوستان آیا، اس نے اپنی اقامت کے لئے لکھنؤ میں ایک وسیع محل تعمیر کروایا جو حویلی فرنگی محل کے نام سے مشہور ہو گیا، پھر جب اس تاجر کے قیام کی مدت ختم ہو گئی تو وہ ہندوستان سے واپس چلا گیا اور یہ مکان اس زمانہ کے قانون کے مطابق نزولِ جائداد کی حیثیت سے بیت المال میں شامل ہو گیا،(مسلم ثقافت ہندوستان میں،ص:۲۷۶) ۱۱۰۵؁ھ؍ ۱۶۹۳؁ء میں میں علامہ قطب الدین کی اولاد کی رہائش پذیری کے باوجود قدیم نام بدستور باقی رہا۔(آثار الاول، ص:۷۵)

اس زمانے سے لے کر آج تک کے تمام علمائے فرنگی محل مُلا سعید ہی کی نسل سے ہیں، حضرت عنایت اللہ فرنگی محلی نے اپنی کتاب تذکرۂ علمائے فرنگی محل میں دو سو بانوے (۲۹۲) علماء کے حالات قلمبند کئے ہیں، جب کہ یہ کتاب انہوں نے ۱۳۴۷؁ھ ؍ ۱۹۲۸؁ء میں مرتب کی تھی، اب اس وقت یہ تعداد متجاوز ہو چکی ہے، صرف مشاہیر علمائے فرنگی محل کے تحت مولوی عنایت اللہ صاحب نے بیس (۲۰) علمائے کرام کے حالات درج کئے ہیں۔