باب صلوۃ السفر

سفر کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ سفر کے لغوی معنی ہیں کھلنا،ظاہرہونا اسی لیئے اجیالےکو اسفار کہتے ہیں اور کتابوں کے ڈھیرکو اسفار۔اس کا مقلوب فسْرہے،اس کے معنی بھی یہی ہیں،اس سےتفسیربنا،چونکہ سفر میں دوسرے مقامات کے حالات معلوم ہوتے ہیں اس لیئے اسے سفر کہتے ہے۔اصطلاح شریعت میں راستہ طے کرنے کی مخصوص صورت کا نام سفر ہے۔خیال رہے کہ سفر کے متعلق آئمہ دین میں چند اختلاف ہیں:ایک یہ کہ سفر کا فاصلہ کیا ہے؟ہمارے امام صاحب کے ہاں تین دن کی راہ یعنی ستاون میل۔دوسرے یہ کہ قصر واجب ہے یا جائز؟ہمارے ہاں واجب ہے۔تیسرے یہ کہ اقامت کی کم مدت کیا ہےجس سے مسافر مقیم بن جائے؟ہمارے یہاں تین دن۔

حدیث نمبر 563

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعتیں پڑھیں اور ذوالحلیفہ میں عصر دو رکعتیں پڑھیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حجۃ الوداع کے سفر کا واقعہ ہے،چونکہ آپ مکہ معظمہ کے ارادے سے روانہ ہوئے تھے اس لیئے آبادیٔ مدینہ سے نکلتے ہی مسافر ہوگئے۔ذوالحلیفہ جو وہاں سے تین میل کے فاصلہ پر ہے وہاں قصر پڑھی۔اس زمانہ کے بعض عقلمندوں نے اس کا مطلب یوں سمجھا کہ انسان اگر سیرکرنے یا اپنا کھیت دیکھنے شہرسے باہر جائے تو مسافر ہے،یہ محض غلط ہے اس کی تردید آیندہ صفحات میں صراحۃً آرہی ہے۔خیال رہے کہ ذوالحلیفہ کا نام آج بیرعلی ہے،یہ اہلِ مدینہ کا میقات ہے،فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔وہاں علی مرتضٰے کی مسجد آپ کا کنواں ہے اور چھوٹا ساکھجوروں کا باغ ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہاں حضرت علی نے جنات سے جنگ کی ہے اسی لیے اسے بیرعلی کہتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔(مرقاۃ)