پاک و ہند کی مسلمہ شخصیت خاتم المحدثین شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ استمداد بعد از وفات اور اہلسنت کی خوبصورت ترجمانی

 🏵️🏵️🏵️🏵️🏵️🏵️

آپ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

کچھ عرصہ ہوا ایک فرقہ پیدا ہوا ہے جو ان اولیاء اللہ سے استمداد اور استعانت کا منکر ہے جو دار فانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرما چکے ہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوشحال اور رزق دیے جاتے ہیں لیکن لوگوں کو شعور نہیں منکرین ان حضرات کی طرف توجہ دینے والوں کو مشرک اور بت پرست کہتے ہیں اور جو انکی زبان میں آتا ہے کہتے رہتے ہیں

(اشعۃ المعات شرح مشکوۃ جلد 5ص 233فرید بک سٹال لاہور)

اللہ کا شکر ہے کہ ہمارا عقیدہ ایسے اولیاء کاملین کے موافق ہےاستمداد غیراللہ بعد از وفات شیخ کے زمانے میں بھی تھا اور متعارف تھا معلوم ہوا اہلسنت کا عقیدہ پرانا ہے شیخ کہ اس قول کچھ عرصہ سے فرقہ پیدا ہوا سے معلوم ہوتا ہے یہ شرک کے فتوی لگانے والے بعد کی پیداوار ہیں شیخ سمیت جمیع محدثین اور عوام اسکو جائز سمجھتے تھے آج جو انکو اپنے اکابر جانتے ہیں اور انکے سند حدیث لیکر خوش ہوتے ہیں وہ قبور سے استمداد کرنے والے یا اسکو جائز کہنے والے کو مشرک کہتے ہیں گویاوہ حضرت شیخ کو ہی مشرک سمجھتے ہیں

اللہ ایسے بے ادبوں کی صحبت سے محفوظ فرمائے

میں ہوں سنی رہوں سنی مروں سنی مدینے میں

بقیع پاک میں بن جائے تربت یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

✍️وقار رضا القادری العطاری