أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَانْظُرۡ اِلٰٓى اٰثٰرِ رَحۡمَتِ اللّٰهِ كَيۡفَ يُحۡىِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا ‌ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ لَمُحۡىِ الۡمَوۡتٰى ‌ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

پس اللہ کی رحمت کی نشانیوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے ‘ بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس اللہ کی رحمت کی نشانیوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے ‘ بیشک وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اگر ہم تیز ہوا بھیج دیں پھر وہ اپن کھیتیوں کو زرد پائیں تو وہ ضرور اس کے بعد ناشکری کریں گے پس بیشک آپ مردوں کو نہیں سناتے اور نہ آپ بہروں کو پکارسناتے ہیں جب وہ (بہرے) پیٹھ موڑ کر جارہے ہوں اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت دینے والے ہیں ‘ آپ صرف ان ہی کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی مسلمان ہیں (الروم : ٥٣۔ ٥٠ )

پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر دلائل ذکر فرمائے ‘ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار پر غور کرو یعنی بارش سے اس پر استدلال کرو کہ جو مردہ زمین کو بارش سے زندہ کرنے پر قادر ہے وہ قیامت کے دن مردہ انسانوں کو زندہ کرنے پر کیوں نہیں قادر ہوگا !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 50