أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَ الۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ‌ؕ ذٰلِكَ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَ اللّٰهِ‌ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پس آپ قرابت داروں کو ان کا حق ادا کریں اور مسکینوں کو اور مسافروں کو ‘ یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کا ارادہ کرتے ہیں اور وہی کامیاب ہیں

اپنا مال قرابت داروں کو دینے کی فضیلت 

اور فرمایا پس آپ قرابت داروں کو ان حق ادا کریں اور مسکینوں کو اور مسافروں کو ‘ اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب ہے اور مراد آپ بھی ہیں اور آپ کی امت بھی ‘ کیونکہ اس کے متصل بعد فرمایا : یہ ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو اللہ کی رضا کا ارادہ کرتے ہیں اور وہی کامیاب ہیں۔

اس آیت کاپہلی آیت سے اس طرح ربط ہے کہ پہلی آیت سے معلوم ہوگیا کہ کچھ لوگ مال دار ہوتے ہیں اور کچھ لوگ تنگ دست ‘ تو مال دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ تنگ دستوں کی مدد کریں ‘ پھر جب مالدار لوگ غریبوں کی مدد کریں تو اس میں ترجیح یہ ہے کہ پہلے اپنے قرابت داروں کو دیں کیونکہ اس میں صلہ رحم ہے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :

لن تنا لوالبر حتی تنفقوا مما تحبون (آل عمران : ٩٢) تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پسند کی چیزوں کو خرچ نہ کرو ‘ تو حضرت ابو طلحہ (رض) نے کہا میرا گمان ہے کہ ہمارا رب ہمارے مالوں میں سے سوال کررہا ہے ‘ پس میں آپ کو گواہ کرتا ہوں یا رسول اللہ ! میری وہ زمین جو بیرحاء (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ تھی جہاں حضرت ابو طلحہ کا باغ تھا اب یہ جگہ مسجد نبوی میں آگئی ہے) میں ہے اس کو اللہ کی راہ میں دیتا ہوں ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ اپنے قرابت داروں کو دے دو ‘ تب انہوں نے وہ زمین حضرت حسان بن ثابت اور حضرت ابی ابن کعب (رض) کو دے دی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٩‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٨٩‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٦٠٢)

حضرت میمونہ بنت حارث (رض) بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک باندی آزاد کی اور اس کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا ‘ آپ نے فرمایا اگر تم وہ باندی اپنے ماموں کو دے دیتیں تو زیادہ اجرملتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٩٢‘ صحیح مسلم الزکوۃ رقمالحدیث : ٤٤‘ الرقم المسلسل : ٢٢٨٠‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٤٩٣١)

حضرت زینب (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت صدقہ کیا کرو ‘ خواہ زیورات سے کیا کرو ‘ حضرت زینب کہتی ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ تم خالی ہاتھ اور مفلس ہو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صدقہ دینے کا حکم دیا ہے تم جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معلوم کرو اگر (تمہیں دینا) ادائیگی صدقہ سے کافی ہو تو فبہا ورنہ میں تمہارے سوا کسی اور کو دے دیتی ہوں۔ حضرت زینب کہتی ہیں حضرت عبدا للہ بن مسعود نے فرمایا تم خود جائو ! حضرت زینب کہتی ہیں کہ میں گئی تو دیکھا کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر کھڑی ہے اور اسے بھی یہی مسئلہ درپیش تھا اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت مرعوب رہتے تھے ‘ پھر حضرت بلال (رض) باہر آئے تو ہم نے کہا تم جاکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہو کہ دو عورتیں دروازے پر یہ معلوم کرنے کے لیے کھڑی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہروں اور جو ان کی گود میں یتیم بچے ہیں انکو صدقہ دیں تو ادا ہوجائے گا ! اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ‘ حضرت بلال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور آپ سے یہ مسئلہ معلوم کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال سے پوچھا وہ عورتیں کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا ایک انصار کی عورت ہے دوسری زینب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کون سی زینب ؟ انہوں نے کہا عبداللہ بن مسعود کی بیوی ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انہیں دو اجرملیں گے ایک اجر قرابت کا اور ایک اجر صدقہ کا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٦٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث ١٠٠٠‘ سنن الترمذی رقم الحدیث، ٦٣٦۔ ٦٣٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٣٤‘ السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث ٢٣٦٤ )

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 38