أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ سِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَانْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّشۡرِكِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے تم زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا جن میں سے اکثر مشرک تھے

مکہ کے کفار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے تھے اور شرک اور کفر کو ترک نہیں کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ اہل مکہ سے کہیے تم زمین میں سفر کر کے دیکھو کہ پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا جن میں سے اکثر مشرک تھے یعنی تم زمین میں پچھلی امتوں پر آئے ہوئے عذاب کی نشانویں پر غور کرو ‘ عاد اور ثمد کی بستیوں میں تباہی کے آثار کو دیکھو ‘ دشت لوط پر غور کرو ‘ اللہ تعالیٰ کس طرح سابقہ امتوں کو ان کے کفر اور شرک اور فطرت سے بغاوت کرنے کی وجہ سے ہلاک کردیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے ان کو کس طرح مالیا میٹ کردیا گیا ‘ اور صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ‘ سو تم ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو ‘ شرک اور کفر سے توبہ کرلو اور ہمارے رسول جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں ‘ جس نظام زندگی پر عمل کرنے کے لیے تم سکے کہہ رہے ہیں اور ہمارے جس پیغام کو پہنچا رہے ہی اس کو قبول کرلو اور ایمان لے آئو اور نیک اعمال کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو برباد ہونے سے بچالو !

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 42