ماہ ذی الحج فضائل و مسائل

از : مفتی محمود اختر القادری رضوی امجدی داراالافتاء ،ممبئی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سال کے بارہ مہینوں میں سے حرمت و عظمت والے مہینے صرف چار ہیں ، جن کی حرمت کا ذکر قرآن مجید، فرقان حمید میں یوں ہوا:

’’ ان عدۃ الشہور عند اللہ اثنتی عشر شہراً فی کتاب اللہ یوم خلق السموات و الارض منہا اربعۃ حرم ‘‘ بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ، ان میں چار حرمت والے ہیں ۔ (کنز الایمان )

حرمت والے چار مہینے ، رجب ، ذو القعدہ ، ذوالحجہ ، اور محرم ہیں ۔ جس کی و جہ سے ذو الحجہ کی حرمت و عظمت ظاہر ہے ، نیز شہر حج سے ہے ، جو اس کی عظمت و بزرگی کی دلیل ہے ۔

ذو الحجہ کے عشرۂ اول کی فضیلت : اس مہینے کی پہلی صبح اور ابتدائی دس آیتوں کی قسم، اللہ جل جلالہ نے اپنے کلام مجید میں یاد فرمائی ہے ۔ ارشاد ہوا :’’ والفجر و لیالٍ عشر ‘‘ اس صبح کی قسم اور دس راتوں کی ۔ ایک تفسیر کے مطابق یہاں صبح سے مراد پہلی ذی الحجہ کی صبح ہے ، اور یہاں’’ لیال عشر‘‘ کے بارے میں حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان راتوں سے مراد ذو الحجہ کی پہلی راتیں ہیں ۔

رمضان المبارک کے بعد اعمال صالحہ کے لئے تمام دنوں سے افضل ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے ۔ رسول اکرم ا ان دنوں کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’ما من ایام العمل الصالح فیہن احب الی اللہ تعالیٰ من ہذہ الایام قالوا یا رسول اللہ و لا الجہاد فی سبیل اللہ قال و لا الجہاد فی سبیل اللہ الا رجل خرج بنفسہ و مالہ ثم لم یرجع من ذالک بشییٔ‘‘ یعنی : ان دس دنوں سے زیادہ کسی دن کا عمل صالح اللہ کو محبوب نہیں ، صحابۂ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ ا راہ خدا میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ فرمایا : راہ خدا میں جہاد کرنا بھی نہیں ۔ مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال لے کر نکلے ، پھر ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے ۔ (بخاری ، ترمذی ، مسلم )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا فرماتے ہیں ’’ما من ایام احب الی اللہ تعالیٰ ان تعبد لہ فیہا من عشر ذی الحجۃ یعدل صیام کل یوم منہا بصیام سنۃ و قیام کل لیلۃ منہا بقیام لیلۃ القدر‘‘ اللہ د کو عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ پسندیدہ کسی دن کی عبادت نہیں ۔ ان کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے ۔ اور ہر شب کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے ۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

یوم عرفہ کی فضیلت اور اس کا روزہ :یوم عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عرفہ سے زیادہ کوئی دن افضل نہیں ۔ عرفہ کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف خاص تجلی فرماتا ہے ۔ اور زمین والوں کے ساتھ آسمان والوں پر مباہات کرتا ہے ، ان سے فرماتا ہے : میرے بندوں کو دیکھو ! کہ پراگندہ سر، گرد آلودہ ، دھوپ کھاتے ہوئے ، دور دور سے میری رحمت کے امید وار حاضر ہوئے ۔ تو عرفہ کے دن سے زیادہ، جہنم سے آزاد ہونے والے کسی دن میں نہیں دیکھے گئے ۔

(ابو یعلیٰ ، بزار ، ابن خزیمہ ، ببحوالہ بہار شریعت )

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اقدس ا نے ارشاد فرمایا : عرفہ سے زیادہ کسی دن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتا ۔ پھر ان کے ساتھ ملائکہ پر مباہات فرماتا ہے ۔

(مسلم ، نسائی ، ابن ماجہ )

حضور اکرم ا فرماتے ہیں : مجھے اللہ پر گمان ہے کہ عرفہ کا روزہ ایک سال قبل و ایک سال بعد کے گناہ مٹا دیتا ہے ۔ (مسلم ،ابو داؤد ،ترمذی )

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ا یوم عرفہ کے روزے کو ہزاروں دن کے روزوں کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ اور دو سالوں کے گناہوں کی معافی ۔ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کی۔

(فتاویٰ رضویہ ، جلد ۴ صفحہ ۶۵۹)

حج کرنے والوں کو یوم عرفہ کا روزہ مکروہ ہے ۔ کیوںکہ حضور اکرم ا نے عرفہ کے دن عرفہ میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ۔

قربانی کے فضائل : قربانی حضرت سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت ہے ، اور دسویں ذی الحجہ کو قربانی سے زیادہ کوئی عمل اللہ کو محبوب نہیں ہے ۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی : یا رسول اللہ ا ما ہذہ الاضاحی ۔ یا رسول اللہ ا یہ قربانیاں کیا ہیں ؟ فرمایا : سنۃ ابیکم ابراہیم علیہ السلام ۔ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا : فما لنا فیہا یا رسول اللہ ا ۔ ہمارے لئے ان قربانیوں میں کیا ثواب ہے ؟ ارشاد فرمایا : بکل شعرۃ حسنۃ ہر بال کے مقابل نیکی ہے ۔ عرض کی فالصوف یا رسول اللہ ا ، حضور اون کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا بکل شعرۃ من الصوف حسنۃ اون کے ہر بال کے بدلے میں بھی نیکی ہے ۔ ( ابن ماجہ )

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس ا نے فرمایا کہ یو م النحر میں ابن آدم کا کوئی عمل خون بہانے اور قربانی کرنے سے زیادہ پیارہ نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا ۔ اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہونچ جاتا ہے ۔ لہٰذااس کو خوش دلی سے کرو۔ (ابو داؤد ، ترمذی )

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضورا نے ارشاد فرمایا عید کے دن جو روپیہ قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں ۔ (طبرانی )

اور جو شخص با و جود استطاعت کے قربانی کے دنوں میں قربانی نہ کرے سید عالم ، رحمت دوعالم ا نے اس سے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں ’’جس کو وسعت ہو اور قربانی نہ کرے ، وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے ‘‘ (ابن ماجہ )

سید عالم ا فرماتے ہیں : کہ افضل قربانی وہ ہے کہ جو قیمت کے اعتبار سے اعلیٰ ہو اور خوب تندرست ہو ۔

قربانی واجب ہونے کے شرائط :۱۔ مسلمان ہونا ۔ غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔ ۲۔ مقیم ہونا ۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں ۔ ۳۔ غنی ہونا ۔ فقیر پر قربانی واجب نہیں ۔ یہاں پر غنی ہونے سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے ۔ وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ۔ ۴۔ آزاد ہونا ۔ غلام و باندی پر قربانی واجب نہیں ۔ قربانی کے لئے بالغ ہونا شرط ہے یا نہیں، اس سلسلہ میں اختلاف ہے ۔ فتویٰ اس پر ہے کہ نابالغ پر قربانی واجب نہیں نہ خود اس پر اور نہ ہی اس کی طرف سے اس کے باپ پر ۔

یہاں چند امور کی وضاحت ضروری ہے ! قربانی کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے بارہویں کے غروب آفتاب تک ہے ۔ مگر شہر میں نماز عید سے پہلے قربانی نہیں ہو سکتی ۔ قربانی کے وقت کے کسی بھی حصہ میں اگر شرائط پائے گئے تو قربانی واجب ہے ۔ مثلاً کوئی شخص قربانی کے ابتدائے وقت میں کافر تھا اور بارہویں کے غروب سے قبل مسلمان ہو گیا ، یا غلام تھا اور آزاد ہو گیا ، یا مسافر تھا اور مقیم ہو گیا ، تو دیگر شرائط پائے جانے کی صورت میں ا س پر قربانی واجب ہے ۔ مسافر پر واجب نہیں ، مگر بطور نفل کرے تو ہو جائے گی اور ثواب پائے گا ۔ مسافر اگر قربانی کے وقت کے اندر اپنے وطن پہونچ جائے یا کہیں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کر لے ، تو قربانی واجب ہو جائے گی ۔ حج کرنے والے اگر مسافر ہیں تو ان پر عید والی قربانی واجب نہیں ۔ اور اگر مسافر نہ ہوں ، جیسے مکہ معظمہ یا قریب کی آبادی جیسے جدہ کے رہنے والے ، ان پر عید والی قربانی واجب ہے ۔ اسی طرح جو لوگ منیٰ کی روانگی سے پندرہ دن یا اس سے زیادہ دن پہلے مکہ معظمہ پہونچے اور حج سے قبل مدینہ منورہ و غیرہ جانے کا ارادہ نہیں ہے تو وہ مقیم ہیں ، ان پر عید والی قربانی واجب ہے ۔ اور یہ قربانی وہ حرم کے علاوہ کسی اور جگہ بھی کرا سکتے ہیں ۔

غنی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ بہت مالدار ہو ، اس پر زکوٰ ۃ فرض ہو بلکہ جو ساڑھے باون تولہ یعنی چھ سو گرام چاندی یا اس کی قیمت کا مالک ہو یا حاجتِ اصلیہ کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو ، وہ غنی ہے ، اس پر قربانی واجب ہے ۔

حاجت اصلیہ سے مراد رہنے کا مکان ، خانہ داری کے ایسے سامان جن کی حاجت ہو ، سواری ،خادم ، ٹھنڈی یا گرمی میں پہننے کے کپڑے ، پیشہ وروں کے اوزار ، اہل علم کے لئے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لئے غلہ۔

حاجت اصلیہ کے سوا اگر کسی کے پاس اتنی قیمت کا سامان بھی ہے ، جیسے ٹی۔وی ، ریڈیو، زیورات ، ایسے برتن جن کا استعمال نہیں ہوتا ، صرف سجانے کی نیت سے رکھے ہیں تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہے ۔ ہاں جس پر قرض ہے ، اگر اس کے مال سے قرض کی مقدار تک الگ کریں تو بقیہ مال ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نہ ہو تو اس پر قربانی واجب نہیں ۔

قربانی کے جانور :قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں : ۱۔ اونٹ ۲۔گائے ۳۔ بکری ۔ بھینس کا شمار گائے میں ہوتا ہے ۔ بھیڑ ، دنبہ ، بکری میں داخل ہیں ، ان کی بھی قربانی ہو سکتی ہے ، ان میں نر ،مادہ، خصی ، غیر خصی سب کا حکم ایک ہے ۔

جنگلی جانور ، مثلاً ہرن ، نیل گائے وغیرہ کی قربانی جائز نہیں ۔ جانوروں میں ماں کا اعتبار ہے ، لہٰذا ہرن اور بکری مل کر بچّہ پیدا ہوا تو اس کی قربانی جائز ہے ۔ اور بکرے اور ہرنی سے مل کر بچّہ پیدا ہوا تو اس بچہ کی قربانی جائز نہیں ۔

قربانی کے لئے اونٹ کی عمر پانچ سال ، گائے بھینس کی عمر دو سال ، اور بکری کی عمر ایک سال ہے ۔ جس کی عمر اس سے کم ہو اس کی قربانی درست نہیں ، زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے ۔

قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہئیے ، تھوڑا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی ۔ اور زیادہ عیب ہو تو

قربانی ہوگی ہی نہیں۔ (درمختار ، عالمگیری، بہار شریعت)

جس کا سینگ مینگ تک ٹوٹ گیا ہو اس کی قربانی جائز نہیں ، اور اس سے کم ٹوٹا ہو تو جائز ہے ۔

پاگل پن اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے ، یا جانور اتنا کمزور ہے کہ ہڈی میں مغز نہ رہا ، تو قربانی جائز نہیں ۔ اسی طرح جانور اندھا ہو یا کانا ہو جس کا کانا پن ظاہر ہو ، یا لنگڑا ہو جو قربان گاہ تک اپنے پاؤں سے نہ جا سکے ، یا اتنا بیمار ہو کہ اس کی بیماری ظاہر ہو ۔ جس کے کان یا دم تہائی سے زیادہ کٹے ہوں، جس جانور کے پیدائشی دونو ں کان یا ایک کان نہ ہو ، یا جس کی نظر تہائی سے زیادہ جاتی رہی ہو ، جس کے دانت نہ ہوں ، جس کے تھن کٹے ہوں یا خشک ہو ں ، جس کی ناک کٹی ہو ، علاج کے ذریعے جس کا دودھ خشک کر دیا گیا ہو ، خنثیٰ جانور یعنی جس جانور میں نر ، مادہ دونوں کی علامتیں ہو ،جلّالہ یعنی وہ جانور صرف غلیظ کھاتا ہو ان سب جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ (در مختار ، عالمگیری ، بہار شریعت )

قربانی کے وقت جانور اچھلا ، کودا جس کی وجہ سے اس میں عیب پیدا ہو گیا ، یہ عیب مضر نہیں ، قربانی ہو جائے گی ، جس کے کان یا دم تہائی سے زیادہ کٹے ہوں ، جس کے کان چھوٹے ہوں جس کے سینگ پیدائشی طور پر نہ ہوں ، اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ ہو ، جس کے دودھ نہ اترتا ہو ، خصی ، یا جس کے خصیے اور عضوِ تناسل سب کاٹ لئے گئے ہوں ، ان سب کی قربانی جائز ہے ۔ (در مختار ، بہار شریعت )

قربانی کے جا نور میں شرکت : قربانی کے بڑے جانور ، گائے، بھینس کی قربانی سات اشخاص کی طرف سے ہو سکتی ہے ، اگر ایک جانور میں چند اشخاص شریک ہوں تو ضروری ہے کہ ہر شخص صحیح العقیدہ مسلمان ہو اور ہر ایک کی نیت تقرب کی ہو، کسی کا ارادہ محض گوشت کھانا نہ ہو ، خواہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو جیسے ہر ایک کی نیت قربانی کی ہو ، یا مختلف قسم کے تقرب ہوں جیسے بعض پر کفارہ کا دم واجب ہو اور بعض پر تمتع یا قران کا دم ، اور بعض عید الاضحی کی قربانی کریں ، یہ سب ایک ہی جانور میں شرکت کر سکتے ہیں ، اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہو سکتی ہے ۔ کیوں کہ عقیقہ بھی تقرب کی ہی ایک صورت ہے ۔

قربا نی کے بعض مستحبات اور اس کا طریقہ : مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ ، موٹا ، خوبصورت اور بڑا ہو۔ ذبح کرنے سے پہلے چھری تیز کر لی جائے ۔ ذبح کرنے سے پہلے ، جانور کو چارہ، پانی ، دے دیں ، بھوکا ، پیاسا ذبح نہ کریں ۔ ایک کے سامنے دوسرے کو نہ ذبح کریں ۔ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کریں ۔ جانور کو بائیں پہلو پر اس طرح لٹائیں کہ اس کا منہ قبلہ کی جانب ہو ۔ اور اپنا داہنا پاؤں اس کے پہلو پر رکھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کردیا جائے ۔ ذبح سے پہلے یہ دعا پڑھی جائے : ’’اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ حَنِیْفاً وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، اِنَّ صَلٰوتِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَ مَمَاتِی لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ، لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ، اَللّٰہُمَّ لَکَ وَمِنْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ‘‘

اسے پڑھ کر ذبح کر دیں ، قربانی اپنی طرف سے ہو تو ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے : اَللّٰہُّمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ خَلِیْلِکَ اِبْرَاہِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامِ وَحَبِیْبِکَ مُحَمَّدٍ صَلّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وسَلَّمْ ۔ دوسرے کی طرف سے ذبح کرے تو’’ منی‘‘ کی جگہ من کہہ کر اس کا نام لے ۔ ذبح کے بعد ، جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی اس کے تمام اعضاء سے روح نکل نہ جائے، اس وقت تک ، ہاتھ ، پاؤں نہ کاٹیں ، اور نہ چمڑا اتاریں ۔ بہتر یہ ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے ، اور اگر اچھی طرح ذبح نہ کرنا جانتا ہو تو دوسرے کو ذبح کرنے کے لئے کہے ۔ مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ قربانی کے وقت حاضر رہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور ا نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا : کھڑی ہو جاؤ اور قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ کہ اس کے خون کے پہلے قطرہ میں جو کچھ گناہ کئے ہیں سب کی مغفرت ہو جائے گی ۔ اس پر حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ا یہ آپ کی آل کے لئے خاص ہے یا آپ کی امت کے لئے بھی ہے، اور عامۂ مسلمین کے لئے بھی ۔ فرمایا: میری آل کے لئے خاص بھی ہے اور تمام مسلمین کے لئے عام بھی ہے ۔

قربانی کے گوشت و پوست کا حکم :قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں اور دوسرے شخص ، مالدار یا فقیر کو بھی دے سکتے ہیں ،کھلا سکتے ہیں ۔ بلکہ اس میں سے کچھ کھانا قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کئے جائیں ، ایک حصہ فقیروں کے لئے ، ایک حصہ دوست و احباب کے لئے ، ایک حصہ اپنے گر والوں کے لئے ۔ نیز کل گوشت صدقہ کرنا بھی جائز ہے ۔ اور کل گھر ہی کے لئے رکھ لے یہ بھی جائز ہے ۔ قربانی کا گوشت تین دن سے زائد رکھنا بھی جائز ہے ۔ جس کے اہل و عیال کثیر ہوں اور وہ صاحب وسعت نہیں ہے ، تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچّوں کے لئے رکھ چھوڑے ۔ (بہار شریعت ، عالمگیری )

قربانی کا گوشت کافر کو نہ دے ، کیوں کہ یہاں کے کفار حربی ہیں ۔ بعض فقہا نے جو دینے کو جائز کہا ہے وہ ذمی کافر کے لئے ہے ۔ اور یہاں کوئی ذمی یا مستأمن نہیں ۔

قربانی اگر منت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھا سکتا ہے نہ مالداروں کو کھلا سکتا ہے، بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے ۔ میت کی طرف سے قربانی کی تو اس کا گوشت بھی خود کھائے ، دوست و احباب کو دے ، فقیروں کو دے ، سارا گوشت فقیروں ہی کو دینا ضروری نہیں ، ہاں اگر میت نے وصیت کی تھی تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے ۔ (رد المحتار ، بہار شریعت )

قربانی کا چمڑا اور اس کی جھول ، رسی ، گلے کا ہار و غیرہ سب صدقہ کردے ۔ قربانی کے چمڑے کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کام میں بھی لا سکتے ہیں ۔ مثلاً اس کی جاہ نماز، تھیلی ، مشکیزہ ، دستر خوان و غیرہ بنوائیں ، اور خود استعمال کریں تو حرج نہیں ۔ اگر روپئے ، پیسے کے بدلے قربانی کی کھال فروخت کرے تو ان روپیوں پیسوں کا صدقہ کر دے، مدارس دینیہ یا فقرا پر صدقہ کرنے کے لئے قربانی کی کھال بیچے تو جائز ہے ۔ قربانی کا چمڑا یا گوشت یا اس میں کا کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اجرت میں نہیں دے سکتے ہیں ۔ مشترک جانور ہو توگوشت وزن سے تقسیم کیا جائے ۔ محض اندازے اور تخمینے سے تقسیم نہ کریں ۔ قربانی کی کھال تعمیر مسجد کے لئے بھی دے سکتے ہیں ، کہ اس میں تملیکِ فقیر شرط نہیں ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم۔

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں لاالہ الااللہ