أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ كَفَرَ فَعَلَيۡهِ كُفۡرُهٗ ‌ۚ وَمَنۡ عَمِلَ صَالِحاً فَلِاَنۡفُسِهِمۡ يَمۡهَدُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا اور جن لوگوں نے نیک کام کیے تو وہ اپنے ہی لیے (جنت کو) تیار کررہے ہیں

پھر فرمایا جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال اسی پر ہوگا ‘ یعنی اس کے کفر کی سزا اسی کو ملے گی ‘ پھر فرمایا اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو وہ اپنے لیے ہی (جنت کو) تیار کررہے ہیں۔ اس آیت میں ” یمھدون “ کا لفظ ہے ‘ مہد کا معنی ہے بستر اور مسکن اور قرار کی جگہ ‘ مہد الصبی بچے کے پالنے کو کہتے ہیں اور مہاد بسترکو کہتے ہیں ‘ تمہید الامور کا معنی ہے چیزوں کو ہموار کرنا اور ان کی اصلاح کرنا اور تمہد کا معنی ہے جگہ حاصل کرنا۔

اس کے بعد فرمایا : تاکہ اللہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزادے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے بیشک وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

اس آیت میں تنبیہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اعمال کی جو جزا دیتا ہے یہ محض اس کا فضل ہے اس میں بندوں کا استحقاق نہیں ہے ‘ بلکہ بندے جو نیک عمل کرتے ہیں وہ بھی اس کے فضل سے کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ بندہ کو طاقت نہ دیتا اور اس کو نیک اعمال کی توفیق نہ دیتا تو وہ کب کوئی نیک عمل کرسکتا تھا ‘ کسی بندہ کے نیک عمل کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اس بندہ کو اتنی زیادہ نعمتیں عطا فرمائی ہوئی ہیں کہ بندہ ان کا حساب بےباق نہیں کرسکتا ‘ انسان کو اس کے بالغ اور عبادت کے قابل ہونے سے پہلے ہی اتنی نعمتیں مل چکی ہوتی ہیں کہ وہ اپنی تمام زندگی کا ایک ایک لمحہ بعادت میں صرف کرکے بھی ان نعمتوں کا پورا شکر ادا نہیں کرسکتا تو اگر اللہ تعالیٰ ان سابقہ نعمتوں کے شکر میں تقصیر اور کوتاہی سے ہی صرف نظر کرے اور اس کو معاف کردے تو اس کا بڑا کرم ہے اجر وثواب کے استحقاق کا کیا سال ہے ‘ جیسے کوئی شخص کسی کو سو روپیہ روزانہ کی اجرت پر ملازم رکھے اور اس کو پیشگی دس کروڑ روپے دے دے ‘ اور پانچ دس سال کام کرنے کے بعد وہ ملازم اس سے اجرت مانگے تو وہ شخص کہے گا میں پیشگی ہی دس کروڑ روپے دے چکا ہوں تم پہلے ان کا حساب یب باق کرو ‘ سو کسی شخص کا اللہ تعالیٰ پر وئی حق نہیں ہے ‘ خواہ وہ کتنی ہی عبادت کرے وہ کسی اجر کا مستحق نہیں ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نیکوں کو ان کی نیکیوں پر جو بھی اجر عطا فرمائے گا وہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے ‘ بندہ کا اس کے اوپر کوئی حق نہیں ہے۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ‘ اس لیے قیامت کے دن مومنوں اور کافروں کو الگ الگ کردے گا اور وہ ایک دوسرے سے ممتاز اور ممیز ہوں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 44