حدیث نمبر 568

روایت ہے حضرت حفص ابن عاصم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ کے راستے میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آپ نے ہمیں ظہر دو رکعتیں پڑھائیں پھر اپنی منزل میں آئے اور بیٹھے تو کچھ لوگوں کو کھڑا دیکھا فرمایا یہ لوگ کیا کررہے ہیں میں نے کہا نفل پڑھ رہے ہیں۲؎ فرمایا اگر میں نفل پڑھتا تو اپنی نماز ہی پوری کرلیتا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا تو آپ سفر میں دو رکعتوں پر زیادتی نہ کرتے تھے اور ابوبکر،عمر،عثمان کو ایسے ہی دیکھا ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ حفص ابن عاصم ابن عمر ابن خطاب ہیں،قرشی،عدوی،جلیل القدر تابعی ہیں،سیدناعبداﷲ ابن عمر کے بھتیجے ہیں،بہت احادیث کے راوی ہیں۔

۲؎ غالبًا یہ سفر سفر حج تھا۔کسی منزل میں سب نے جمع ہوکر باجماعت نماز پڑھی،پھر اپنے اپنے خیموں پر آگئے وہاں آپ نے لوگوں کو اہتمام کے ساتھ باقاعدہ کھڑے ہوکر اپنے ڈیروں پرنماز پڑھتے دیکھاسفر میں جلدی تھی۔یہ نوافل سواری پربھی پڑھے جاسکتے تھے،ان حضرات کے ان نفلوں کی وجہ سے منزل کھوٹی ہورہی تھی تب آپ نے ناراض ہو کر یہ فرمایا۔

۳؎ یعنی یہ حضرات سفر میں اترکر اہتمام سے اور سفر روک کر صرف دو فرض ہی پڑھتے تھے۔نوافل کے لیئے اتنا اہتمام کرنا ہوتا تو فرض ہی پورے کیوں نہ پڑھے جاتے۔فقیر کی اس توجیہ سے یہ حدیث بالکل واضح اور صاف ہوگئی اورکسی آئندہ حدیث کے خلاف نہ رہی۔اگر یہ معنی کیئے جائیں کہ سفر میں نفل مطلقًا جائز نہیں تو مسلم،بخاری ترمذی وغیرہم نے انہی حضرت ابن عمر سے سفر میں نوافل کی بہت احادیث نقل کی ہیں جن میں سے کچھ اسی مشکوٰۃ شریف میں بھی آرہی ہیں۔بعض عقلمندوں نے اس حدیث کی بنا پر سفرمیں نفل بلکہ سنن و واجبات کوبھی منع کیا یہ سخت غلطی ہے۔