أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَةً فَرِحُوۡا بِهَاؕ‌ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ اِذَا هُمۡ يَقۡنَطُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں ‘ اور جب ان کے پہلے سے کیے ہوئے برے کامو کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ مایوس ہوجاتے ہیں

پھر فرمایا : اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ یحییٰ بن سلام نے کہا اس سے مراد فصلوں کی زرخیزی اور زرعی پیداوار کی کثرت ہے اور صحت اور عافیت ہے ‘ نقاش نے کہا اس سے مراد نعمت اور بارش ہے۔ اور فرمایا جب ان کے برے کاموں کی وجہ سے ان پر مصیبت آتی ہے ‘ اس سے مراد قحط اور دیگر مصائب ہیں ‘ ان کے برے کاموں سے مراد فرائض اور واجبات کو ترک کرنا اور حرام اور مکروہ کاموں کا کرنا ہے۔

اس آیت میں کافروں کا وصف بیان کیا گیا ہے کہ جب ان کو کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر اتراتے ہیں اور جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر وہ مایوس ہوجاتے ہیں ‘ اس کے بر خلاف مومن کو جب کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اس پر شکر کرتا ہے اور جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت اور اس مصیبت کے دور ہونے کی امید رکھتا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 36