أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوۡا رَبَّهُمۡ مُّنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ ثُمَّ اِذَاۤ اَذَاقَهُمۡ مِّنۡهُ رَحۡمَةً اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ بِرَبِّهِمۡ يُشۡرِكُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں ‘ پھر جب وہ اپنی طرف سے ان کو رحمت کا ذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اسی وقت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں ‘ پھر جب وہ اپنی رحمت سے ان کور حمت کا ذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اس وقت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے تاکہ وہ ہماری ان نعمتوں کی ناشکری کرے ‘ جو ہم نے ان کو دی ہیں ‘ سو تم (عارضی) فائدہ اٹھا لو پھر تم عنقریب جان لو گے ! (الروم : ٣٤۔ ٣٣)

نفس اور روح کے تقاضے 

ان کفار پر جب بیماری یا کوئی اور آفت آتی ہے تو یہ اس کو دور کرنے کے لیے صرف اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں ‘ کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کی مصیبت کو دور نہیں کرسکتا ‘ اس لیے وہ مصائب کے وقت اپنے بتوں کو نہیں صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ تاکہ وہ انجام کا رہماری نعمتوں کی ناشکری کریں ‘ اور مصائب دور ہونے کے بعد وہ پھر شرک کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

اس آیت میں یہ وصف عام لوگوں کا بیان فرمایا ہے اور اس میں یہ ارشاد ہے کہ انسان کی طبیعت میں روح کی ہدایت اور اطاعت بھی ہے اور نفس کی گمراہی اس کی نافرمانی اور سرکشی بھی ہے ‘ ان پر جب آفتوں اور مصیبتوں کی یلغار ہوتی ہے تو ان کے نفوس مضمحل ہوجاتے ہیں اور نافرمانی کے محرکات معطل ہوجاتے ہیں پھر ان کی ارواح شہوتوں اور نفسانی تقاضوں کی قیود سے نکلتی ہیں اور پانی طبیعت کے تقاضوں کی طرف لوٹ آتی ہیں ‘ پھر لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہیں اور ان کے نفوس بھی اپنے طبعی تقاضوں کے خلاف اپنی ارواح کی موافقت کرتے ہیں او اللہ کی نافرمانی کو چھوڑ دیتے ہیں ‘ اور جب اللہ ان سے وہ مصائب دور کردیتا ہے تو اس کے سرکش نفوس اپنی بری عادتوں کی طرف پھر لوٹ آتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو تہدید فرمائی کہ تم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور رحمتوں سے عارضی فائدہ اٹھا لو پھر تم نے انپی نافرمانی اور سرکشی کے موافق جو عمل کیے ہیں ان کی سزا پالوگے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 33