أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَ الۡاِيۡمَانَ لَقَدۡ لَبِثۡـتُمۡ فِىۡ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى يَوۡمِ الۡبَـعۡثِۖ فَهٰذَا يَوۡمُ الۡبَـعۡثِ وَلٰـكِنَّكُمۡ كُنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا تھا وہ کہیں گے بیشک تم لوح محفوظ کے موافق حشر تک ٹھہرے رہے ہو ‘ سو یہ یوم حشر ہے لیکن تم جانتے ہی نہ تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں کو علم اور ایمان عطا کیا گیا تھا ‘ وہ کہیں گے بیشک تم لوح محفوظ کے موافق حشر تک ٹھہرے رہے ہو ‘ سو یہ یوم حشر ہے لیکن تم جانتے ہی نہ تھے پس اس دن ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہیں دے گی اور نہ ان سے عتاب اور ناراضگی کو زائل کیا جائے گا (الروم : ٥٧۔ ٥٦ )

لاھم یستعتبون کا معنی 

اس آیت میں جن علم والوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے مصداق میں اختلاف ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ فرشتے ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ انبیاء ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ گزشتہ امتوں کے علماء ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ اس امت کے علماء ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ تمام مومنین ہیں ‘ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان کفار کا قول رد کرتے ہوئے کہیں گے کہ تم اپنی قبروں میں حشر تک رہتے رہے ہو ‘ اور یہی وہ حشر کا دن ہے جس کا تم انکا کرتے رہے تھے ‘ اور لوح محفوظ میں پہلے ہی یہ مقدر کردیا گیا تھا کہ تم حشر تک قبروں میں رہو گے۔

اور جب مسلمان ان پر رد کریں گے تو وہ پھر دوبارہ دنیا میں لوٹائے جانے کا سوال کریں گے اور اپنے پچھلے کفر اور شرک پر معافی طلب کریں گے تو ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ان کی معذرت قبول کی جائے گی۔

یستعتبون میں ازالہ ماخذ کا معنی مراد ہے یعنی ان سے عتاب اور ناراضگی کو دور نہیں کیا جائے گا وہ اللہ کے عتاب اور ناراضگی کے ازالہ کو طلب کریں گے لیکن ان سے عتاب اور ناراضگی کو زائل نہیں کیا جائے گا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ٤٦) امام رازی المتوفی ٦٠٦ ھ نے اس کا معنی کیا ہے ان سے ازالہ عتاب یعنی توبہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

(تفسیر کبیر ج ٩ ص ١١٢‘ علامہ آلوسی نے بھی اسی پر اعتماد کیا ہے ‘ روح المعانی جز ٢١ ص ٩٢‘ دارالفکر ‘ ١٤١٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 56