أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ رِّبًا لِّيَرۡبُوَا۟ فِىۡۤ اَمۡوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرۡبُوۡا عِنۡدَ اللّٰهِ‌ۚ وَمَاۤ اٰتَيۡتُمۡ مِّنۡ زَكٰوةٍ تُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُضۡعِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور تم جو مال سود لینے کے لیے دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا ‘ اور تم اللہ کی رضا جوئی کیلیے جو زکوۃ دیتے ہو تو وہی لوگ اپنا مال بڑھانے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم و مال سود لینے کے لیے دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں شامل ہو کر بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا ‘ اور تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے جو زکوۃ دیتے ہو تو وہی لوگ اپنا مال بڑھانے والے ہیں اللہ نے ہی تمکو پیدا کیا پھر تم کو رزق دیا ‘ پھر تم کو موت دے گا ‘ پھر تمہیں زندہ کرے گا ‘ کیا تمہارے بنائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی کام کرسکے ‘ اللہ ان تمام چیزوں سے پاک اور بلند ہے جن کو وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں (الروم : ٤٠۔ ٣٩)

معاوضہ کی طلب سے کسی کو ہدیہ دینا 

البقرہ : ٢٧٩۔ ٢٧٨ میں ربا کی مفصل بحث گزر چکی ہے ‘ ربا (سود) کا معنی ‘ اس کی تعریف اور اس کا حکم ‘ ان تمام امور پر ہم وہاں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ اس آیت میں سود سے مراد وہ ہدیہ ہے جسمیں ہدیہ دینے والا اس سے افضل چیز کا طالب ہو یہ حقیقۃً سود نہیں ہے لیکن صورۃ سود کے مشابہ ہے اس لیے اس کو سود فرمایا ہے ‘ یہ جائز ہے اس میں ثواب ہے نہ گناہ ہے ‘ ہمارے عرف میں اس کو نیوتا کہتے ہیں۔

علامہ ابوبکر محمد بن عبد اللہ ابن العربی المالکی المتوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں :

البقرہ : ٢٧٩ میں جس رباکا ذکر ہے وہ حرا ہے اور اس آیت میں جس ربا کا ذکر ہے وہ حلال ہے ‘ اور اس آیت میں جس ربا کا ذکر ہے اس کے متعلق تین قول ہیں :

(١) ایک شخص کسی دوسرے شخص کو ‘ کوئی چیز ہدیہ کرتا ہے اور اس کے بدلہ میں اس سے افضل چیز کو طلب کرتا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔

(٢) ایک آدمی اپنے ساتھ سفر میں کسی شخص کو لے جاتا ہے جو اس کی خدمت کرتا ہے وہ آدمی اس شخص کو اس کی خدمت کے معاوضہ کے طور پر کچھ رقم دیتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا کے لیے دینے کا ارادہ نہیں کرتا۔ یہ شعبی کا قول ہے۔

(٣) ایک آدمی اپنے قرابت داروں کو کچھ صدقہ دیتا ہے تاکہ اس قرابت دار پر اس کا غنی ہونا ظاہر ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی نیت کرتا ہے نہ صلہ رحم کی۔ یہ ابراہیم کا قول ہے۔

جو شخص اپنے قرابت داروں کو اس لیے دے کہ ان پر اس کی دولت مندی ظاہر ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں ہے اور اگر وہ ان کو اس لیے دے کہ قرابت داری کی وجہ سے ان کا اس پر حق ہے تو یہ اللہ کی رضا کے لیے ہے۔ اس طرح جو شخص سفر میں خدمت کرنے والے کو اس کی خدمت کے عوض رقم دیتا ہے تو یہ اللہ کے لیے نہیں ہے لیکن اس وجہ سے اس کا مال لوگوں کے مال میں نہیں بڑھے گا ‘ اور صریح آیت اس شخص کے بارے میں ہے کہ وہ کسی کو اپنا مال اس لیے ہبہ کرتا ہے تاکہ اس کو بدلہ میں لوگوں کے مال سے زیادہ ملے۔ اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا جو شخص کسی کو ثواب کی نیت سے ہبہ کرے تو وہ اس کا ہبہ ہی ہے حتیٰ کہ وہ اس سے راضی ہو۔

امام شافعی نے کہا ہے کہ ہدیہ اللہ کی رضا کے لیے دیا جاتا ہے یا دوستی بڑھانے کے لیے جیسا کہ حدیث میں ہے ایک دوسرے کو ہدیہ دو اور ایک دوسرے سے محبت کرو ‘ اور یہ باطل ہے (یعنی امام شافعی کا قول) کیونکہ عرب میں ہدیہ صرف بدلہ لینے کے لیے دیا جاتا ہے اور اس سے دوستی تبعاً حاصل ہوتی ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ٥٢٣۔ ٥٢٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

عکرمہ نے کہا ربا کی دو قسمیں ہیں ایک ربا حلال ہے او ایک ربا حرام ہے ‘ جو ربا حلال ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص کسی کو کوئی چیز ہدیہ میں دے اور اس سے افضل چیز کا طالب ہو ‘ اس ہدیہ میں اس کو کوئی اجر ملے گا اور نہ اس کو کوئی گناہ ہوگا ‘ حضرت ابن عباس (رض) کا بھی یہی قول ہے۔ ضحاک ‘ ابن جبیر ‘ طائوس اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے ‘ علامہ ابن عطیہ اور قاضی ابوبکر نے بھی اسی طرح کہا ہے۔

عبدالرحمن بن علقمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ثقیف کا وفد آیا اور ان کے پاس ہدیہ تھا ‘ آپ نے پوچھا کیا آیا یہ ہدیہ ہے یا صدقہ ہے ‘ اگر یہ ہدیہ ہے تو اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کو طلب کیا گیا ہے اور اپنی کسی حاجت کو پورا کرنے کا قصد کیا گیا ہے ‘ اور اگر یہ صدقہ ہے تو اس سے صرف اللہ عزوجل کی رضا کی طلب کا قصد کیا گیا ہے ‘ انہوں نے کہا نہیں ! بلکہ یہ صدقہ ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس صدقہ کو قبول کرلیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گئے آپ ان سے سوالات کرتے رہے اور وہ آپ سے سوالات کرتے رہے۔ (سنن النسائی رقم الحدیث : ١٣٦٧‘ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

نیز حضرت ابن عباس (رض) اور ابراہیم نخعی نے کہا یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو اپنے قرابت داروں اور بھائیوں کو اس لیے چیزیں دیتے تھے کہ ان کو اس سے نفع ہوگا اور وہ مال دار ہوجائیں گے اور وہ لوگ بدلہ میں ان کو اس سے زیادہ چیزیں دیں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ کسی چیز کو ہدیہ کر کے اس سے زیادہ لینا صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق میں منع تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ولا تمنن تستکثر (المدثر : ٦) اور احسان کر کے بدلے میں زیادہ لینے کی خواہش نہ کیجئے۔

سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع فرمادیا کہ آپ کسی کو کوئی چیز دیں اور معاوضہ میں اس سے زیادہ لیں۔

اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے وہی ربا (سود) مراد ہے جس کو البقرہ : ٢٧٩ میں حرام فرمادیا ہے یعنی تم قرض دے کر جو سود لیتے ہو اور اپنے اموال میں اضافہ کرتے ہو تو اللہ کے نزدیک وہ اضافہ نہیں ہے ‘ سدی نے کہا ہے کہ یہ آیت ثقیف کے سود کے متعلق نازل ہوئی وہ قریش کے ساتھ سودی معاملہ کرتے تھے۔

معاوضہ کی طلب سے ہدیہ دینے میں مذاہب فقہاء 

المھلب نے کہا اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ کوئی شخص کسی کو ‘ کوئی چیز ہدیہ کرے اور اس سے معاوضہ کا طالب ہو ‘ امام مالک نے کہا وہ جس معاوضہ کو طلب کررہا ہے اگر وہ اس کے ہدیہ میں مساوی ہے تو پھر جائز ہے ‘ امام شافعی کا بھی ایک قول اسی طرح ہے ‘ امامابو حنیفہ نے ہا اگر اس نے ہدیہ کرتے وقت معاوضہ کی شرط نہیں لگائی تو وہ معاوضہ کا مستحق نہیں ہوگا ‘ اور یہ امام شافعی کا دوسرا قول ہے امام شافعی نے کہا معاوضہ کے لیے ہبہ کرنا باطل ہے ‘ اس سے اس کو نفع نہیں ہوگا ‘ کیونکہ یہ کسی چیز کو ایسی قیمت کے ساتھ فروخت کرنا ہے جو نامعلوم ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا ہدیہ کی تین قسمیں ہیں ایک وہ قسم ہے جس سے اللہ رضا کا ارادہ کیا گیا ‘ دوسری قسم وہ ہے جس سے لوگوں کی رضا کا ارادہ کیا گیا اور تیسری قسم وہ ہے جس سے معاوضہ لینے کا ارادہ کیا گیا ‘ پس جس ہدیہ سیے معاوضہ لینے کا ارادہ کیا گیا ہے تو وہ معاوضہ لینے سے پہلے اس ہدیہ کو واپس لے سکتا ہے ‘ اور امام بخاری نے ہدیے میں بدلہ لینے کا باب قائم کیا ہے اور اس باب میں یہ حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس کے عوض میں ہدیہ دیتے تھے۔(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٨٥‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٣‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٥٣٦)

حضرت علی (رض) نے ہبہ کی جو تین قسمیں بیان فرمائیں وہ صحیح ہیں کیونکہ ہبہ کرنے والا تین احوال سے خالی نہیں ہے :

(١) وہ شخص کوئی چیز اللہ کی رضا کے لیے ہبہ کرے اور اسی سے ثواب کا طالب ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو ثواب عطا فرمائے گا۔

(٢) وہ یا کاری کے لیے کوئی چیز ہبہ کرے گا اور اس کا طالب ہوگا کہ لوگ ہبہ کرنے کی وجہ سے اس کی تعریف اور تحسین کریں۔

(٣) جس کو اس نے ہدیہ دیا ہے وہ اس سے اس کے بدلہ میں معاوضہ چاہتا ہے۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کا ثمر ملتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٠٧)

اس کے بعد فرمایا : اور تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے جو زکوۃ دیتے ہو تو وہی لوگ اپنا مال بڑھانے والے ہیں۔

یعنی جو شخص ریا کاری کے لیے یا معاوضہ کے لیے کوئی ہدیہ دیتا ہے تو اس سے اس کا مال نہیں بڑھتا ‘ اور جو شخص اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہے تو اس کو اس کا اجر آخرت میں دس گنا ملے گا یا اس کو اس کا اجر سات سو گنا ملے گا (البقرہ : ٢٦١ )(الجامع لاحکام القرآن جز ١٤ ص ٣٧۔ ٣٤‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 39