أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اٰيٰتِهٖۤ اَنۡ يُّرۡسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيۡقَكُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِهٖ وَلِتَجۡرِىَ الۡفُلۡكُ بِاَمۡرِهٖ وَلِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖ وَلَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس کی بعض نشانیوں میں سے خوش خبری دیتی ہوئی ہوائوں کا بھیجنا ہے ‘ اور اس لیے کہ وہ تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ تم اس کے فضل سے رزق تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس کی بعض نشانیوں میں سے خوش خبری دیتی ہوئی ہوائوں کا بھیجنا ہے ‘ اور اس لیے کہ وہ تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں ‘ اور اس لیے کہ تم اس کے فضل سے رزق تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا ‘ وہ ان کے پاس دلائل لے کر گئے تو ہم نے مجرموں سے انتقام لیا ‘ اور ہم پر مومنوں کی مدد کرنا (ہمارے فضل سے) واجب ہے اللہ ہی ہے جو ہوائوں کو بھیجتا ہے تو وہ بادل کو اٹھاتی ہیں ‘ پھر وہ اس بادل کو جس طرح چاہتا ہے آسمان میں پھیلا دیتا ہے ‘ اور وہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتا ہے ‘ پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے درمیان سے پانی نکلتا ہے ‘ پھر وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے ان تک وہ پانی پہنچا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں اور بیشک وہ اس پانی کے نازل کیے جانے سے پہلے ضرور مایوس تھے (الروم : ٤٩۔ ٤٦ )

بارش کے ذریعہ بندوں پر رحمت نازل فرمانا 

اللہ کی قدرت کے کمالات میں سے بارش کی خوشبخری دینے والی ہوائوں کا بھیجنا ہے ‘ اس سے اللہ اپنی رحمت سے آشنا کرتا ہے ‘ بارش ہوتی ہے ‘ زمین سیراب ہوتی ہے اور فصلیں زرخیز ہوتی ہیں ‘ سمندر میں کشتیاں چلتی ہیں ‘ فرمایا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرو یعنی اس کے واحد ہونے پر ایمان لائو اور نیک اعمال کرو تاکہ ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرو۔ اس آیت کی تفسیر الحجر : ٢٢ میں گزر چکی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 30 الروم آیت نمبر 46